Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 123

91

قَالُوا۟ يَٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًۭا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفًۭا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَٰكَ ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍۢ

اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو

حق بالکل واضح ہے لیکن ان کا سینہ اس کے لیے تنگ ہے ، وہ چاہتے ہی نہیں کہ حق کا ادراک کرسکیں۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (91 : 11) “ انہوں نے جواب دیا “ اے شعیب تیزی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ”

یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اقدار حیات کا تعین صرف مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اور ہر معاملے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔

وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا (91 : 11) “ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بےزور آدمی ہے۔ ” یہ لوگ مادی قوت ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس حقیقت اور قوت کا کوئی وزن نہیں ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (91 : 11) “ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے۔ ” ان کے نزدیک گویا نظریاتی قوت کے مقابلے میں خاندان کی قوت زیادہ اہم ہے۔ دلی جوڑ کے مقابلے میں نسب کا جوڑ زیادہ مضبوط ہے لیکن یہ لوگ دراصل اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں پر ، ایک بھائی کے حق میں بھائی کی غیرت سے زیادہ غیور ہے۔

وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (11 : 91) “ تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔ ” یعنی تم ایک بھائی اور معزز آدمی کی حیثیت سے بھی ہم پر غالب نہیں ہو اور نہ ایک طاقتور شخص کی حیثیت سے تمہارا پلہ بھاری ہے ، ہم اگر مجبور ہیں تو خاندانی روابط کی وجہ سے تجھ پر ہاتھ ڈالنے سے مجبور ہیں۔

جب انسان ایک پختہ نظریہ سے محروم ہوجاتا ہے ، اس کے پیش نظر اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ روایات نہیں ہوتیں تو وہ زمین پر گر پڑتا ہے ، اس کے ذہن میں اس دنیا کے مفادات ہی اعلیٰ وارفع ہوجاتے ہیں اور وہ دنیاوی قدروں کا گرویدہ ہوجاتا ہے لہذا وہ اس جیسی قیمتی اور بلند دعوت کی قدر نہیں کرتا۔ وہ اعلیٰ حقائق کے ادراک سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ایسی بلند دعوت پر اگر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بھی محض دنیاوی قوت کے ڈر سے نہیں اٹھاتے۔ ایسے لوگ محض مادی قوت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ رہے بلند عقائد ، اعلی خیالات اور بلند اقدار تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کسی مادہ پرست شخص کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گرے ہوئے پست لوگوں کی ذہینت ہمیشہ کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔

اب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی غیری ایمانی جوش میں آتی ہے ، ان سے اللہ رب العالمین کی یہ توہین برداشت نہیں ہوتی وہ اپنی قوم اور کنبے کی مادی قوت سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ وہ ان کو اس برے انجام کے حوالے کردیتے ہیں جو اس کائنات میں ایسے لوگوں کے لیے مقدر ہوتا ہے اور اللہ کے بارے میں ان کے توہین آمیز رویے کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک آخری اور فیصلہ کن دعوت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں میرا عمل میرا ہے اور تمہارا عمل تمہارا ہے۔ اب وہ ان کو خدائی قوتوں کے حوالے کرتے ہیں اور ان کو صاف صاف بتاتے ہیں کہ تم جیسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہت بڑا عذاب ہر وقت تیار رہتا ہے لہذا لو اپنا وہ انجام جو تم نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہے۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (92) وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (93) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری براداری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور ) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اے میری قوم کے لوگو ، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدڈی ہی تمہیں معلوم ہو جاؤے گا کہ کس …

92

قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَهْطِىٓ أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذْتُمُوهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّى بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ (92 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ ” میری برادری تو انسانوں کا فقط ایک مجموعہ ہے۔ جس قدر بھی وہ قوی ہوں بہرحال وہ انسان ہی تو ہیں ، ضعیف مخلوق ہی تو ہیں۔ اللہ کے تو بہرحال وہ بندے اور غلام ہیں ، کیا چند لوگوں سے تم ڈرتے ہو اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہو ، کس قدر بودی سوچ ہے تمہاری۔

وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (92 : 11) “ اور اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ ” کسی کو چھوڑ دیتے اور کسی سے منہ پھیر دینے کا یہ نہایت ہی مخصوص انداز بیان ہے ، واضع تصویر کے انداز میں۔ چونکہ یہ لوگ اللہ سے منہ پھیرتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اس لیے ان کا یہ فعل نہایت ہی گھناؤنا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ جن اچھے حالات میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں ان کا رازق وہی تو ہے۔ گویا ان کا یہ فعل نہایت متکبرانہ ، ناسیاسی اور سفید چشمی ہے اور شرعی اعتبار سے کفر وتکذیب کا حالم ہے اور نہایت ہی برا اندازہ ہے جو انہوں نے لگایا۔

إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (11 : 92) “ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے ” احاطہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ کیا گیا ہو وہ پوری طرح محیط کے قبضہ اور زیر قدرت ہوتی ہے اس سے مراد قدرت کاملہ ہے۔

ایک مومن کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں یہ بڑی جرات ہے کہ وہ اللہ کی عزت کو ہاتھ ڈالے اور اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ کا عذاب جب جب نازل ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں قوم ، خاندان اور ملازم بےبس ہوجاتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خاندانی اور قوم قبیلے کی قوت کا تو انہوں نے اعتراف بھی کیا لیکن وہ تو مومن باللہ تھے۔ انہوں نے اس معمولی قوت کی کوئی پرواہ نہیں کی نہ اسے قابل ذکر سمجھا کہ قوم کی وجہ سے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہ انہوں نے قوم اور قبیلے کی قوت پر اکتفاء کیا اور یہی رویہ ایک سچے مومن کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک سچا مومن صرف اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی صرف اللہ سے ڈریں۔ ایک مومن قوم اور قبیلے کی قوت اور عصبیت کو بھی اسلام اور رب کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی قومیت کے درمیان فرق۔ ہر دور اور زمانے میں قوم قبیلے کے بارے میں اسلام اور جاہلیت کا یہی تصور اور فرق رہا ہے۔

یہ جذبہ ایمانی اور جوش ایمان ہے جس کی تہہ میں اللہ پر بھروسے کے سواء اور کچھ نہیں ہے۔ اسی سے حضرت شعیب (علیہ السلام) اب اپنی قوم کے لوگوں کو یہ سخت چیلنج دیتے ہیں اور ان کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے اور اب دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔

93

وَيَٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَٰمِلٌۭ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌۭ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَٰذِبٌۭ ۖ وَٱرْتَقِبُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُمْ رَقِيبٌۭ

اور برادران ملت! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ (92 : 11) “۔ ” تم اپنے راستے اور اپنے منصوبے پر عمل کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ اب میں نے تم سے اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں۔

إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (11 : 93) “ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”

تم اپنے طریقے پر کام کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور ہمیں اپنا۔ نیز جو عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس کے لیے انتظار کرو۔ (اِرْتِقوا) میں انہیں جو انتظار کا مشورہ دیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کے دل میں پورا یقین تھا کہ عذاب آنے والا ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے مکمل جدائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔

اب اس منظر کا پردہ گرتا ہے۔ یہ منظر نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے ایک آخری بات یعنی حق و باطل کی مکمل جدائی کی بات کی جاتی ہے دوسرا منظر اب اس قوم کی مکمل تباہی کا منظر ہوگا۔ اس منظر میں یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہیں۔ ان کو ایسی کڑک نے آ لیا جیسے قوم صالح (علیہ السلام) پر آئی تھی۔ چناچہ دونوں کا انجام ایک جیسا تھا۔ ان کے محلات خالی پڑے تھے گویا کبھی یہاں کوئی بستا ہی نہ تھا گویا کبھی یہ محلات تعمیر ہی نہ ہوئے تھے یہ لوگ بھی قوم صالح (علیہ السلام) کی طرح تاریخ کا حصہ بن گئے اور ابدالاباد تک ملعون ٹھہرے۔ جس طرح ان کا وجود اس کرہ ارض سے لپیٹ لیا گیا۔ اسی طرح صفحات تاریخ سے ان کا ذکر بھی مٹا دیا گیا۔

94

وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جو لوگ ظالم تھے، ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔

95

كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی

تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔

96

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍ

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

درس نمبر 104 ایک نظرر میں

یہاں قصص کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس خاتمے میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے تاکہ یہاں قوم فرعون کی ہلاکت کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قوم فرعون نے بھی اللہ کے پیغمبر کے مقابلے میں فروعون کی اطاعت کی تھی اس لیے ہلاک ہوئی۔ اس اشارہ میں قصہ فرعون کی ناگفتہ کڑیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جبکہ قصے کی بعض اہم جھلکیاں بھی اس منظر میں موجود ہیں۔ ان تمام قصص میں یہی اہم اصول زیر بخث ہے کہ اسلام میں ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور اگر کوئی رؤسا اور کبراء کی اطاعت کرتا ہے تو خدا اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتا۔

قصہ فرعون کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور دلائل و بینات کے ساتھ فرعون کے باس بھیجا جاتا ہے جن کے اندر خدائی قوت ہے اس لیے کہ فرعون عظیم مادی قوت کا مالک تھا۔ لہذا اس کی قوت کے مقابلے میں قوت کا ہونا ضروری تھا۔

درس نمبر 104 تشریح آیات

97

إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَآ أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍۢ

(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا

یہاں سیاق کلام میں اس قصے کو یہات ہی اجمال کے ساھ لایا جاتا ہے کیونکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ قصے کا آخری منظری بیش کیا جائے چناچہ نظر آتا ہے کہ آگے آگے فرعون ہے اور اس کے پیچھے پیچھے اس کی قوم ہے۔ یہ لوگ اللہ کی حکم عدولی کر کے فرعون کے احکام مانتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ فرعون کا حکم جاہلانہ ، احمقانہ اور بودا ہے۔

فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ (97)

یہ لوگ جو ن کہ فرعون کے متبعین تھے اس لیے یہ اس کے پیچھے چلیں گے۔ جس طرح یہاں وہ بغیر سوچ اور تدبیر کے اس کے پیچھے چلتے تھے۔ اپنی رائے اور عقل کو استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ ذلت پر راضی تھے ، اور اللہ نے عقل ، ارادہ اور آزادی کی جو نعمتیں ان کو دی تھیں ، انہوں نے ان نعمتوں سے دست برداری اختیار کرلی تھی ، اور غلام کی راہ اختیار کرلی تھی ، یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن یہ عذاب میں بھی اسی غلامہ شان سے داخل ہوں گے۔ فرعون وہاں بھی ان کا لیڈر ہو کا۔

98

يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ ٱلنَّارَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور ان کو دوزخ میں جا اُتارے گا اور جس مقام پر وہ اُتارے جائیں گے وہ برا ہے

ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔

(فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔

بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (11-98) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :

99

وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَٰذِهِۦ لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ بِئْسَ ٱلرِّفْدُ ٱلْمَرْفُودُ

اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) ۔ جو انعام ان کو ملا ہے برا ہے

یہ ایک تو توہین آمیر تبصرہ ہے۔ یوں کہ آگ کو تحفے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ محنت کا صلہ۔ یہ تھا تحفہ جو فرعون نے ان کو دیا۔ وہاں اس نے جادوگروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو عظیم صلہ اور جزاء دے گا۔ یہ ہے اس کی دی ہوئی جزا اور انعام۔ یہ ہے اس کا عظیم انعام کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ جس پر اس نے اپنی قوم کو اتارا اور کیا ہی برا ہے وہ صلہ جو اس نے اپنی قوم کو اس کی جانب سے اتباع پر دیا۔

یہاں قرآن کریم کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ انسان عش عش کرنے لگتا ہے اور یہ ہے دراصل اعجاز اس کتاب عزیز جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو قرآنی اسلوب کا ذوق رکھتے ہیں۔

100

ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَآئِمٌۭ وَحَصِيدٌۭ

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا

درس نمبر 105 ایک نظر میں

یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔

مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔

ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) (11 : 1000 تا 102)

“ یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا ، اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوتے ہے۔ فی الواقعہ اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہوتی ہے ”۔

دوسرا تبصرہ ہے ان اقوام کی ہلاکت پر جو اس دنیا میں ہلاکت سے دوچار ہوئیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دنیاوی پکڑ کے بعد آخرت کی پکڑ شدید ہوگی۔ آخرت کے عذات کا یہ نقشہ اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے جس طرح قرآن کریم مشاہد قیامت کے مناظر کو پیش کرتا ہے۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ (104) يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (105) فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ (106) خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (107) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (108) (11 : 103 تا 108)

“ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس ورز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں۔ بس ایک گنی چنی مدت اسکے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس دن بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت جو بدبخت ہ . ں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ، جہاں وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بیشک تیرا ربت پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے ، کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ ریھ گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کجھ اور چٔہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ”۔

اس کے بعد ان ہلاک شدہ بستیوں کے انجام سے یہ نتینجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو انجام ان بستیوں کا ہوا ، وہی انجام اہل مکہ کا بھی ہوگا۔ اگر دنیا میں ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور ان کو مہلت دے دی …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.