Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 71–80 of 123

71

وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی

41: ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورۃ حجر آیت 53 اور سورۃ ذاریات آیت 29،30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔

72

قَالَتْ يَٰوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٌۭ وَهَٰذَا بَعْلِى شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌۭ

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

Explained together with ayah 71

73

قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌۭ مَّجِيدٌۭ

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے

42: یہ ترجمہ اہل البیت کو عربی گرامر کے قاعدے سے منصوب علی سبیل المدح قرار دینے پر مبنی ہے۔ ترجمے میں مقدس کا لفظ بھی اسی لیے بڑھایا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ : اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔

74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے

43: جیسا کہ سورۃ اعراف آیت 80 کے حاشیہ میں بیان کیا جا چکا ہے حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو عراق میں ہی ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ وطن سے ہجرت میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی پیغمبر بنا کر سدوم کے شہر میں بھیجا۔ اس شہر کے لوگ شرک کے علاوہ ہم جنس پرستی کی خباثت میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے ان فرشتوں کو بھیجا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ امید تھی کہ شاید یہ لوگ سنبھل جائیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے فرمائش کرتے رہے کہ ابھی ان پر عذاب نازل نہ کیا جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے لاڈلے پیغمبر تھے، اس لیے انہوں نے ناز کے انداز میں بار بار جس طرح عذاب کو موخر کرنے کی فرمائش کی، اسے اس آیت میں پیار بھرے اسلوب میں جھگڑنے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

75

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ

بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

44: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ فرمائش تو منظور نہیں فرمائی گئی کہ قومِ لوط سے عذاب کو مؤخر کردیا جائے، لیکن جس جذبے اور جس انداز سے انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے رُجوع فرمایا تھا، اس فقرے میں اُس کی بڑے بلیغ انداز میں تعریف فرمائی گئی ہے۔

76

يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ

اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا

Explained together with ayah 75

77

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

45: حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ اور انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اپنی قوم کی بد فطرت بے حیائی سے واقف تھے۔ اس لیے ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کی قوم ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے، وہ لوگ ان نوجوانوں کی آمد کی خبر سنتے ہی اس مقصد سے دورتے ہوئے آئے، اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کے حوالے کردیں۔

78

وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں

46: کی نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی رُوحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری رُوحانی بیٹیاں ہیں، تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو، اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔

79

قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو

Explained together with ayah 78

80

قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ

لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

47: سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بے چارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا قلع قمع ہونے والا ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر بستی سے راتوں رات نکل جائیں، تاکہ اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ البتہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی اور اپنی قوم کی بد اعمالیوں میں ان کا ساتھ دیا کرتی تھی، اس لیے حکم ہوا کہ وہ آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، بلکہ دوسرے کے ساتھ وہ بھی عذاب کا شکار ہوگی۔

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.