Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 71–80 of 123

71

وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی

[٨٢] سیدہ سارہ کو خوشخبری دینا :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ بھی پاس کھڑی یہ مکالمہ سن رہی تھیں جب یہ اندیشہ دور ہوا تو خوشی سے ان کی ہنسی نکل گئی پھر فرشتوں نے انھیں ایک بیٹے جس کا نام اسحاق ہوگا کی خوشخبری دی اور یہ بھی بتلایا کہ اسحاق کے بعد اس سے یعقوب بھی ویسا ہی اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوگا اور یہ خوشخبری خصوصاً سیدہ سارہ کو اس لیے دی گئی کہ وہ بےاولاد تھیں جبکہ سیدنا ابراہیم صاحب اولاد تھے اور دوسری بیوی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیل پیدا ہوچکے تھے اس لیے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم کے مقابلہ میں سیدہ سارہ کے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات تھی۔- بعض مفسرین نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت بھی کیا ہے یعنی سیدہ سارہ کو حیض آگیا امام راغب نے اس کی یہ وضاحت کردی ہے کہ یہ ضحکت کے معنی نہیں ہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ بچہ کے حمل قرار پانے کی علامت کے طور پر انھیں حیض آگیا ہو اور حیض آنے کے معنی یہ تھے کہ انھیں حمل قرار پاسکتا ہے اور اولاد ہوسکتی ہے۔

72

قَالَتْ يَٰوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٌۭ وَهَٰذَا بَعْلِى شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌۭ

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

[٨٣] اس وقت سیدہ سارہ کی عمر سو سال سے چند سال کم تھی اور حیض مدت سے بند ہوچکا تھا اور سیدنا ابراہیم کی عمر سو سال سے چند سال زائد تھی لہذا سیدہ سارہ کا بطور تعجب ایسے الفاظ کہنا ایک فطری امر تھا اگرچہ اس میں دل کی خوشی بھی شامل تھی۔

73

قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌۭ مَّجِيدٌۭ

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے

[٨٤] فرشتے کہنے لگے کہ ایک پیغمبر کی بیوی ہو کر اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو ؟ اللہ جو چاہے وہ اس کے کرنے پر قادر ہے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والوں پر تو اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی جن میں سے ایک ہونے والا بچہ اسحاق کی پیدائش بھی ہے۔

74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے

[٨٥] سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم لوط پر عذاب کے بارے میں بحث :۔ اس آیت میں ہم سے سے مراد ہمارے فرشتوں سے ہے یعنی جب سیدنا ابراہیم کا خوف خوشی میں تبدیل ہوگیا تو وہ ہمارے فرشتوں سے یہ بحث کرنے لگے کہ وہاں تو لوط خود بھی موجود ہیں۔ پھر تم اس بستی کو کیسے ہلاک کرو گے اور فلاں مومن بھی موجود ہے اور فلاں بھی جس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ اگر عذاب کو موخر کردیا جائے تو شاید لوگ ایمان لے آئیں اور انھیں کچھ مزید مہلت مل جائے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل واقع ہوئے تھے اور وہ چاہتے یہ تھے کہ کسی طرح اللہ کی یہ مخلوق عذاب الٰہی سے بچ جائے۔

75

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ

بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

Explained together with ayah 74

76

يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ

اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا

[٨٦] فرشتوں نے جواب دیا کہ اب اس بحث کا کچھ فائدہ نہیں اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کا فیصلہ کرچکا ہے اور ہمیں اس نے اسی غرض کے لیے مامور کردیا ہے۔ لہذا اب یہ موخر نہیں ہوسکتا۔

77

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

[٨٧] خوش شکل فرشتے اور سیدنا لوط کو خدشہ :۔ سیدنا ابراہیم سے ہو کر یہ فرشتے نہایت خوبصورت جوان اور بےریش لڑکوں کی شکل میں سیدنا لوط کے پاس آئے جنہیں دیکھ کر سیدنا لوط کے دل میں سخت گھٹن پیدا ہوئی کئی طرح کے خطرات ان کے سامنے منڈلانے لگے بڑا خطرہ یہی تھا کہ یہ مہمان خوبصورت لڑکے ہیں اور میری قوم جس بدکاری میں مبتلا ہے وہ انھیں کبھی چھوڑے گی نہیں اور دوسری فکر یہ تھی کہ اگر میں ان کی مدافعت بھی کرنا چاہوں تو یہ مرے بس کا روگ نہیں۔

78

وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں

[٨٨] مشٹنڈوں کا گھس آنا اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کی پیش کش :۔ ان مہمانوں کی آمد کی اطلاع پاتے ہی کچھ مشٹنڈے گھر کی دیواریں پھاند کر وہاں پہنچ گئے اور سیدنا لوط سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے حوالہ کردو یہی وہ لمحہ تھا جو سیدنا لوط کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ چناچہ سیدنا لوط نے مہمانوں کا دفاع کرنے کی خاطر کہا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں میں تم سے ان کا نکاح کردیتا ہوں اور یہی تمہارے لیے پاکیزہ تر راستہ ہے اور مہمانوں کا مجھ سے مطالبہ نہ کرو۔ نہ ہی ان کے سامنے مجھے رسوا کرو اور یہ بات آپ نے اس لیے کہی کہ یہ لوگ آپ سے آپ کی بیٹیوں کے رشتہ کا مطالبہ کرچکے تھے لیکن آپ نے ان کی بری حرکات دیکھ کر ان کو رشتہ سے جواب دے دیا تھا اب مہمانوں کی اور اپنی عزت بچانے کی خاطر ان کا یہ مطالبہ بھی منظور کرلیا اور انھیں یہ عار بھی دلائی کہ کیا تم شرم و حیا اور بدکرداری کی سب حدیں پھاند گئے ہو اور تم میں کوئی بھی ایسا بھلامانس آدمی موجود نہیں رہا جو دوسروں کو سمجھا سکے یا میری بات مان لے۔- بیٹیوں سے مراد :۔ بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ میری بیٹیوں سے مراد قوم کی سب بیٹیاں ہیں کیونکہ نبی پوری قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے اور قوم کی بیٹیاں اس کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے مگر موقعہ کی نزاکت اسی شرح کا مطالبہ کرتی ہے جو پہلے پیش کی گئی ہے اور قرآن کے ظاہری الفاظ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔

79

قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو

[٨٩] یعنی اس قوم کا مزاج اس قدر بگڑ چکا تھا کہ اخلاقی انحطاط اس قدر واقع ہوچکا تھا کہ حلال کام سے فائدہ اٹھانے میں ان کی دلچسپیاں ہی ختم ہوگئی تھیں ان کی ساری دلچسپیاں لونڈے بازی جیسے مکروہ حرام اور خلاف فطرت فعل پر ہی مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں اور جب کوئی قوم حرام کاموں کی نہ صرف عادی ہوجائے بلکہ اس میں دلچسپی لینے اور فخر محسوس کرنے لگے تو ایسی قوم کا علاج یہی ہے کہ اسے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرکے اللہ کی زمین کو ایسی نجاست سے پاک کردیا جائے۔

80

قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ

لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

[٩٠] سیدنا لوط کی بےبسی :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) اس علاقہ سدوم میں غریب الدیار تھے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ پہلے عراق سے ہجرت کرکے فلسطین آئے پھر جب انھیں نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیم نے انھیں بغرض تبلیغ سدوم بھیج دیا۔ یہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا۔ بیوی بھی کافر تھی اور اسی قوم کی فرد تھی اور ان لواطت کرنے والے مشٹنڈوں سے ساز باز رکھتی تھی اور جب کوئی مہمان گھر پر آتا تو انھیں خفیہ طور پر یا اشاروں سے مطلع کردیا کرتی تھی ان فرشتوں کی آمد کی بھی اسی نے ان لوگوں کو اطلاع دی تھی۔ یہ تھا سیدنا لوط (علیہ السلام) کی بےبسی کا عالم کہ گھر میں بیوی بھی ان کی مخالف تھی۔ اسی بےبسی کے عالم میں ان مشٹنڈوں کے بارے میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کاش میں تمہارا مقابلہ کرسکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا یعنی اگر میرا بھی یہاں مضبوط قبیلہ یا برادری ہوتی تو شاید میں ایسا بےبس اور مجبور نہ ہوتا۔- مفسرین کہتے ہیں کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.