کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا۔
“ گویا ان بستیوں میں کبھی انہوں نے قیام ہی نہ کیا تھا اور نہ عیش و عشرت کی تھی۔ یہ نہایت موثر نظر ہے ، پرتاثیر احساس ہے ، یہ منظر زندگی اور موت کے درمیان ایک کھلا منظر ہے ، لیکن چشم زدن میں یہ نظر کے سامانے سے گزر جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد گویا زندگی ایک ٹیپ ہے۔ جو تزی سے گزر رہی ہے اور نظر یوں آتا ہے کہ شاید خواب و خیال تھا۔
اب اس قصے پر حسب سابق آخری تبصرہ یہ ہے کہ ملامت اور لعنت کے ساتھ اس صفحے کو لپیٹ دیا جاتا ہے ، اور یہ منظر جس طرح نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ، اسی طرح لوح حافظہ سے بھی مٹ جاتا ہے۔
اَلَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَلَابُعْداً لِّثَمُوْدَ (68)
“۔ ”
ایک بار پھر ہمارے سامنے ، اس قصے کی صورت میں دعوت اسلامی کی تاریخ کی ایک لڑی موجود ہے۔ وہی دعوت ہے جو حضور ﷺ دے رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے وہی خدو خال ہیں جو حضور ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ دعوت یہ دی جا رہی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، صرف اللہ کے وضع کردہ نظام زندگی کو اپناؤ۔ ہمیں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اور اسلام کی وہی کشمکش ہے جو مکہ میں برپا ہے۔ شرک اور توحید کی ٹکر ہے۔ اہل ثمود بھی ان لوگوں میں سے تھے جو عاد کی طرح کشتی نوح میں بچ گئے تھے۔ کشتی نوح کے سواروں کی اولاد تھے لیکن وہ اپنے حقیقی دین ، دین نوح سے منحرف ہو کر جاہلیت میں ڈوب گئے تھے اور تاریخ کے اس مرحلے میں حضرت صالح (علیہ السلام) اب ان کی اصلاح کے لیے مامور ہوئے تھے تا کہ ان کو از سر نو اسلام میں داخل کردیں۔
اس قصے میں ہمیں نظر آتا ہے کہ انہوں نے خود ایک خارق عادت معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معجزہ انہیں دکھا دیا گیا لیکن انہوں نے اس کا جواب ایمان اور قبول حق کے ساتھ نہ دیا بلکہ انہوں نے صاف صاف انکار کردیا اور ناقہ کی ٹانگیں کاٹ کر اسے ہلاک کردیا۔
مشرکین عرب بھی حضور ﷺ سے ایسے ہی خارق عادت معجزات کے طلب گار تھے تا کہ وہ امیان لائیں تو ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ قوم صالح (علیہ السلام) نے بھی معجزات طلب کیے۔ وہ آگئے انہوں نے نہ مانا اور ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ معجزات طلب نہیں کیا کرتے۔ اسلام تو ایک سادہ اور فطری دعوت ہے ، اس کے قبول کرنے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے محض غور وفکر اور تعقل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جاہلیت کی وجہ سے لوگوں کی عقل پر پردے پڑجاتے ہیں اور ان کی عقل مسخ ہوجاتی ہے۔
اس قصے میں بھی ہمارے سامنے حقیقت باری اپنے اس رنگ میں آتی ہے جس طرح اللہ کے مختار بندوں کے ذہنوں میں وہ موجود ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے رسولوں کے ذہن میں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے قول پر ذرا غور فرمائیں :
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (11 : 63) “ صالح نے کہا ، اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو ۔ ” اور یہ اظہار حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس کے بعد کیا۔
إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ (11 : 61) “ میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔ ” ذات باری کی حقیقت حضرات انبیاء کے اذہان وقلوب میں اس طرح منعکس ہوتی ہے اور اس طرح جمال و کمال کے ساتھ موجود ہوتی ہے کہ اس شان سے وہ کسی اور کے دل میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ انبیاء کے دل آئینہ کی طرح صاف ہوتے ہیں اور ان میں ذات باری کا انعکاس نہایت ہی صفائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور نہایت ہی منفرد شان کے ساتھ۔ …