Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 123

51

يَٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِى فَطَرَنِىٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

میری قوم! میں اس (وعظ و نصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمّے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں؟

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

52

وَيَٰقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًۭا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِينَ

اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت پر طاقت بڑھائے گا اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

53

قَالُوا۟ يَٰهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍۢ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

54

إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعْتَرَىٰكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٍۢ ۗ قَالَ إِنِّىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

55

مِن دُونِهِۦ ۖ فَكِيدُونِى جَمِيعًۭا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے مہلت نہ دو

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

56

إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے، بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بےشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر ہے

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

57

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ

اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

58

وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَنَجَّيْنَٰهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍۢ

اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

59

وَتِلْكَ عَادٌۭ ۖ جَحَدُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

60

وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ عَادًۭا كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّعَادٍۢ قَوْمِ هُودٍۢ

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.