Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 41–50 of 123

41

۞ وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيهَا بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 40

42

وَهِىَ تَجْرِى بِهِمْ فِى مَوْجٍۢ كَٱلْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِى مَعْزِلٍۢ يَٰبُنَىَّ ٱرْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو

23: حضرت نوح علیہ السلام کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا، اور کافروں ہی کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لئے پہلے اُسے کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی، پھر وہ دُعا فرمائی جو آگے آیت:۴۵ میں آرہی ہے کہ اُس کو بھی کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے، یعنی اگر کافر ہے تو اُسے اِیمان کی توفیق ہوجائے۔ چونکہ اﷲ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے سارے گھر والے جو صاحب اِیمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لئے حضرت نوح علیہ السلام نے اس وعدے کا حوالہ بھی دیا۔ اﷲ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ وہ کافر ہے، اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے، اس لئے وہ درحقیقت تمہارے گھر والوں میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی کہ اُس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لئے تم نے اس کی نجات یا ایمان کی دُعا مانگی۔ اگلی آیت میں جو ارشاد ہے کہ :’’ مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں۔‘‘ اُس کا یہی مطلب ہے۔

43

قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَىٰ جَبَلٍۢ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْرَقِينَ

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا

Explained together with ayah 42

44

وَقِيلَ يَٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت

24: یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کر دئیے گئے۔

25: یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑ سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔

45

وَنَادَىٰ نُوحٌۭ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِى وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ ٱلْحَٰكِمِينَ

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے

26: یعنی آپ کو ہر چیز پر قدرت ہے، اگر چاہیں تو اسے ایمان کی توفیق دے دیں، اور پھر ایمان والوں کے حق میں آپ کا جو وعدہ ہے وہ اس کے حق میں بھی پورا ہوجائے۔

46

قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيْرُ صَٰلِحٍۢ ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۖ إِنِّىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو

Explained together with ayah 45

47

قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِى بِهِۦ عِلْمٌۭ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِى وَتَرْحَمْنِىٓ أَكُن مِّنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا

Explained together with ayah 45

48

قِيلَ يَٰنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَٰمٍۢ مِّنَّا وَبَرَكَٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌۭ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا

27: سلامتی اور برکتوں کا وعدہ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کے لیے کیا گیا، اس میں ’’ قوموں‘‘ کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت تھوڑے سے ہیں لیکن ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیدا ہوں گی، اور دین حق پر قائم رہیں گی، اس لیے سلامتی اور برکتوں میں وہ بھی شریک ہوں گی۔ البتہ آخر میں یہ فرمایا گیا کہ کچھ قومیں ان کی نسل میں ایسی آئیں گی کہ جو دین برحق پر قائم نہیں رہیں گی۔ لہذا انہیں دنیا میں کچھ عرصے لطف اٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن ان کا آخری انجام ان کے کفر کی وجہ سے یہی ہوگا کہ وہ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

49

تِلْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَٱصْبِرْ ۖ إِنَّ ٱلْعَٰقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے

28: حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دِلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہلِ کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہلِ کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رِسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس واقعے کے ذریعے آپ کو اوّل تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح علیہ السلام کو شروع میں سخت مشکلات پیش آئیں، مگر آخر انجام انہی کے حق میں ہوا، اسی طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بالآخر ان لوگوں پر غالب آئیں گے۔

50

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۖ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (کو بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم! خدا ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو

29: قوم عاد کا مختصر تعارف سورۃ اعراف (65:7) میں گذر چکا ہے۔

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.