Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 123

31

وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّى مَلَكٌۭ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيْرًا ۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّىٓ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں

اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے سامنے اپنی شخصیت اور رسالت کی حقیقت نہایت ہی واضح طور پر رکھتے ہیں۔ بالکل سادہ اور غیر مصنوعی حقائق کی شکل میں۔ رسول کی شخصیت اور منصب رسالت کو دنیا کی کھوٹی قدروں سے بالکل الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ حقیقت کو سمجھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ اللہ کے ہاں حقیقی قدریں کیا ہیں تاکہ ان کے سامنے دنیا کی ظاہری قدریں الگ ہوجائیں اور حقیقی قدریں صاف اور ستھری ہوکر واضح ہوجائیں تاکہ رسول اور رسالت اپنی اصلی شکل میں ، بغیر کسی ملمع کاری کے ان کے سامنے ہوں چاہے وہ قبول کریں یا نہ کریں۔ چناچہ کہا جاتا ہے :

وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ : " اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں " اس لیے میں نہ دولت مندی کا دعوی کرتا ہوں اور نہ یہ قدرت رکھتا ہوں کہ تمہیں دولت مند بنا دوں۔

وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : " نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں "۔ تاکہ میں کسی ایسی قوت کا دعوی کروں جو عام انسانوں کے پاس نہیں ہے ، ماسوائے تعلق رسالت کے۔

وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ: " نہ میرا دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں "۔ تاکہ میں عام انسانوں کے مقابلے میں کسی بلند تر جھوٹی صفت کا دعوی کروں اور تمہاری نظروں میں ، میں بلند تر ہوجاؤں اور اپنی قیادت اور سیادت تم سے منوا سکوں۔

وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا : " اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں ، انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی "۔ تاکہ اس طرح میں سوسائٹی کے ان مستکبرین کو راضی کرسکوں یا اس طرح میں تمہاری دنیاوی سطحی اقدار اور عارضی رسومات کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاؤں۔

اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : " ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے " ان لوگوں کی حقیقت کا حال بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ میں ان کے ساتھ ان کے ظاہری حالات کے مطابق ہی اچھا معاملہ کرسکتا ہوں اور ان کا ظاہری حال اس بات کا مستحق ہے کہ میں ان کی قدر کروں اور یہ امید رکھوں کہ اللہ ان کا انجام اچھا کرے گا۔

اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ : " اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا "۔ اگر مذکورہ بالا دعوں میں سے کوئی دعوی بھی میں نے کیا۔ اس صورت میں ، گویا میں سچائی کے ساتھ ظلم کروں گا حالانکہ مجھے حکم یہ دیا گیا ہے کہ میں سچائی کی تبلیغ کروں اور میں اپنے آپ کو غضب الٰہی کا مستحق ٹھہرا کر خود اپنے اوپر بھی ظلم کروں گا اور لوگوں کے ساتھ بھی ظلم کروں گا کیونکہ میں ان کو وہ مقام دوں گا جو انہیں اللہ نے نہیں دیا ہے۔

اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی ذات اور اپنے منصب رسالت سے ان جھوٹی اقدار کو جھاڑ دیتے ہیں جو ان کی قوم نے تصور رسول اور تصور رسالت کے ساتھ وابستہ کر رکھی تھیں۔ اور اپنی قوم کے سامنے رسول اور رسالت کو اپنے حقیقی روپ میں پیش فرماتے ہیں اور ان تمام سطحی اور جعلی تصورات سے ان حقائق کو پاک کرکے پیش فرماتے ہیں کیونکہ کسی بھی حقیقت کو مصنوعی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ سچائی کو اپنے حقیقی روپ میں اپنی حقیقی قوت کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور نہایت ہی محبت بھری اپیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اگر ان کی قسمت میں کچھ لکھا ہے تو اپنا حصہ وصول کرلیں۔ غرض حضرت نوح کی دعوت میں نہ ہیر پھیر ہے ، نہ کوئی کھوٹ ہے ، نہ کوئی بناوٹ ہے ، نہ کسی حقیقی قدر قدر کی قربانی ہے۔ سیدھی سادی بات اپنے حقیقی روپ میں وہ پیش فرماتے ہیں۔ آپ اللہ کے سوا کسی اور کی رضامندی نہیں چاہتے اور پوری انسانی تاریخ کو دعوت پیش کرنے کا ایک نمونہ دیتے ہیں کہ سچائی کو اپنے حقیقی روپ میں پیش کرو ، بغیر کسی ہیر پھیر کے ، بغیر اس کے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی رضامندی مطلوب ہو۔ البتہ نہایت ہی …

32

قَالُوا۟ يَٰنُوحُ قَدْ جَٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا تو کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا۔ لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لا نازل کرو

اب اس مقام پر قوم نوح ، صداقتِ نوح ، دلائلِ نوح اور اسلوبِ نوح کے مقابلے سے عاجز آجاتی ہے۔ چناچہ وہ ضد پر اتر آتے ہیں اور محبت اور دلیل کا جواب استکبار اور ہٹ دھرمی سے دیتے ہیں اور اب بحث و مباحثہ اور غور و فکر کی راہ کو ترک کرکے وہ چیلنج دینے پر اتر آتے ہیں۔

آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ " اے نوح ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کرلیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو ، اگر سچے ہو۔

یہ ایک انوکھا انداز ہے ، عاجزی نے قوت کا لباس پہن رکھا ہے۔ ضعیفی توانائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ در حقیقت یہ لوگ ڈرتے تو ہیں لیکن زبان سے انکار کرکے نیز چیلنج کے الفاظ کا سہارا دے کر بہادری کا جھوٹا مظاہرہ کرتے ہیں۔

فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : " اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو ، اگر سچے ہو۔ "۔ وہ دردناک عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے رہے ہو اب ہم پر نازل کردو ، ہم تو کسی صورت میں تصدیق کرنے والے نہیں ہیں اور ہم تمہارے ڈراوے کی اب کوئی پروا نہیں کرتے۔

33

قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے

اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح کا رد عمل کیا ہے ؟ یہ تکذیب اور یہ معاندانہ چیلنج ان کو ایک دینی اور رسول کریم کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتا۔ وہ حق اور صداقت کی تبلیغ سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتے۔ وہ مسلسل ان کے سامنے وہ سچائی پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، بھلایا ہوا سبق یاد کراتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا رویہ بہت ہی جاہلانہ ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لے آئیے وہ عذاب ! آپ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیو ! میں تو فقط رسول ہوں اور میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پیغام تم تک پہنچا دوں۔ رہا عذاب الہی تو وہ امر الہی کے تابع ہے اور تمام امور کی تدبیر تو اللہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے کہ عذاب جلدی لے آئے یا اسے کسی وقت تک موخر کردے۔ یہ اس کی سنت کے مطابق آئے گا اور سنت الہیہ میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ ایک نبی نہ تو سنت الہیہ میں تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ اس کا رخ پھر سکتا ہے۔ رسول کا فریضہ اور ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ آخری لمحے تک تبلیغ کرتا رہے۔ لوگوں کی جانب سے تکذیب اور روگردانی اور چیلنج کی وجہ سے رسول کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا۔

اگر سنت الہی کا تقاضا یہ ہوا کہ تم اپنی گمراہی کی وجہ سے ہلاک ہوجاؤ تو یہ سنت تم پر جاری ہوکر رہے گی ، چاہے جس قدر جدوجہد کروں ، اس لیے نہیں کہ اللہ تمہیں میری نصیحت سے استفادہ کرنے سے روکتے ہیں ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اختیار تمیزی کو اس طرح استعمال کر رہے ہو کہ سنت الہی کے مطابق تم اس انجام تک پہنچ جاؤگے۔ اور اس سلسلے میں تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو۔ تم تو دائماً اس کے قبضہ قدرت میں ہو ، اللہ ہی تدبیر امور کرتا ہے۔ اور تقصیرات کا تعین کرتا ہے۔ تم سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ حساب و کتاب دینا ہے اور جزاء و سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔

هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ " وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے "

۔۔۔

34

وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِىٓ إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ ۚ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح کا رد عمل کیا ہے ؟ یہ تکذیب اور یہ معاندانہ چیلنج ان کو ایک دینی اور رسول کریم کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتا۔ وہ حق اور صداقت کی تبلیغ سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتے۔ وہ مسلسل ان کے سامنے وہ سچائی پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، بھلایا ہوا سبق یاد کراتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا رویہ بہت ہی جاہلانہ ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لے آئیے وہ عذاب ! آپ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیو ! میں تو فقط رسول ہوں اور میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پیغام تم تک پہنچا دوں۔ رہا عذاب الہی تو وہ امر الہی کے تابع ہے اور تمام امور کی تدبیر تو اللہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے کہ عذاب جلدی لے آئے یا اسے کسی وقت تک موخر کردے۔ یہ اس کی سنت کے مطابق آئے گا اور سنت الہیہ میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ ایک نبی نہ تو سنت الہیہ میں تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ اس کا رخ پھر سکتا ہے۔ رسول کا فریضہ اور ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ آخری لمحے تک تبلیغ کرتا رہے۔ لوگوں کی جانب سے تکذیب اور روگردانی اور چیلنج کی وجہ سے رسول کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا۔

اگر سنت الہی کا تقاضا یہ ہوا کہ تم اپنی گمراہی کی وجہ سے ہلاک ہوجاؤ تو یہ سنت تم پر جاری ہوکر رہے گی ، چاہے جس قدر جدوجہد کروں ، اس لیے نہیں کہ اللہ تمہیں میری نصیحت سے استفادہ کرنے سے روکتے ہیں ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اختیار تمیزی کو اس طرح استعمال کر رہے ہو کہ سنت الہی کے مطابق تم اس انجام تک پہنچ جاؤگے۔ اور اس سلسلے میں تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو۔ تم تو دائماً اس کے قبضہ قدرت میں ہو ، اللہ ہی تدبیر امور کرتا ہے۔ اور تقصیرات کا تعین کرتا ہے۔ تم سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ حساب و کتاب دینا ہے اور جزاء و سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔

هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ " وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے "

۔۔۔

35

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُجْرِمُونَ

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں

قصے کے اس مرحلے پر روئے سخن اچانک پلٹا ہے۔ اب ایک بات قریش مکہ اور مشرکین مکہ کی طرف بھی ، کیونکہ ان کی حالت بھی ایسی ہی تھی جیسے حضرت نوح کی قوم کی تھی۔ ان کا دعوی یہ ہے کہ حضرت محمد یہ قصے اپنی جانب سے گھڑتے ہیں ، تو درمیان میں اچانک بات کاٹ کر ان کے اس اعتراض کا جواب دے دیا جاتا ہے اور بعد میں قصہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔

۔۔۔۔

افتراء پردازی بیشک ایک بڑا جرم ہے۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیں سے کہہ دیں کہ اگر میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے۔ جب مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے تو میں کیسے اس کا ارتکاب کرسکتا ہوں اور تم جو مجرمانہ تہمت مجھ پر لگا رہے ہو تو میں اس سے بھی بری الذمہ ہوں ، نیز اس کے علاوہ تم جن دوسرے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو ، یعنی شرک اور تکذیب اس سے بھی۔

یہ جملہ معترضہ سیاق قصہ میں برا نہیں لگتا اس لیے کہ سیاق قصہ کی غرض وغایت بھی تو یہی ہے جس کی اس جملے میں تصریح کردی گئی۔

36

وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان (لاچکے)، ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ

اب قصہ نوح دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح اب اپنے رب کی طرف سے ہدایات پاتے ہیں اور احکام الہی یوں وارد ہیں :

وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ : " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ "

جو دل ایمان لانے کے لیے آمادہ تھے وہ ایمان لاچکے ، جو رہ گئے ان کے اندر ایمان لانے کی استعداد باقی نہیں رہی ہے۔ نہ وہ اس طرف کوئی رجحان رکھتے ہیں۔ یہ تھی اللہ کی جانب سے حضرت نوح کو آخری اطلاع اور یہ اللہ کی جانب سے تھی اور اللہ تو علیم ہے۔ لہذا اب دعوتی مہم جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ اور کہہ دیا گیا کہ اب ان کی جانب سے کفر تکذیب اور خندہ و استہزاء کی کوئی پروا نہ کرو۔

فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ : " ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو " آپ اپنی ناکامی پر رنج و الم محسوس کرنا چھوڑ دیں۔ اور یہ لوگ جو کرتے رہے ، اور جو کر رہے ہیں اس کی کوئی پروا نہ کریں۔ خود اپنی فکر نہ کریں وہ آپ کو کچھ بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ اور نہ ان کے لیے حسرت کریں کیونکہ ان سے خبر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ لہذا ان کا معاملہ یہاں ختم کردیجئے۔

37

وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَٰطِبْنِى فِى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا : " اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو "۔ ہماری مرضی اور ہدایات کے مطابق۔

وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ : " اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں "

ان کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے اور ان کا انجام اب متعین ہوچکا ہے۔ لہذا اب آپ ایسے لوگوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کریں۔ نہ ان کی ہدایات کے لیے دعاٗ کریں اور نہ ہی بد دعا کیونکہ دوسری جگہ قرآن مجید میں یہ ٓیا ہے کہ حضرت نوح نے ان کے خلاف بد دعا فرمائی۔ لہذا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مایوسی اس کے بعد تھی۔ جب فیصلہ ہوچکا تو اللہ کے ساتھ خطاب ممنوع ہوگیا

38

وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ سَخِرُوا۟ مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ

تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے

اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر اب بڑھئی کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ مذاق اس لیے کرتے تھے کہ یہ صرف ظاہری امور کو دیکھ سکتے تھے۔ اس فعل کے پیچھے جو اللہ کے احکامات و ہدایات تھیں ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ تو مویشیوں کی طرح صرف ظاہری امور کو دیکھ رہے تھے۔ ظاہری حالات کے پس پشت جو حکمت ربانی اور جو تقدیر الہی کام کر رہی تھی وہ پردے میں تھی۔ رہے نوح (علیہ السلام) تو وہ پوری طرح مطمئن تھے۔ اللہ کا جو فرمان ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہ ان کے مذاق کے مقابلے میں نہایت ہی اطمینان ، سربلندی اور بڑی شان سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہتے جاتے : اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ " اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں "۔ ہم تمہارے ساتھ اس لیے مذاق کر رہے ہیں کہ تم معاملات و واقعات کے پس منظر سے نابلد ہو۔ اللہ کی تقدیر تمہارے انتظار میں ہے۔ اور تمہارا انجام سامنے آنے والا ہے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔

عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ سوچ لو کہ اس عذاب کے مستحق ہم ہوں گے یا تم۔ ذرا پردہ گرنے کا انتظار کرو۔

39

فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌۭ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌ

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر اب بڑھئی کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ مذاق اس لیے کرتے تھے کہ یہ صرف ظاہری امور کو دیکھ سکتے تھے۔ اس فعل کے پیچھے جو اللہ کے احکامات و ہدایات تھیں ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ تو مویشیوں کی طرح صرف ظاہری امور کو دیکھ رہے تھے۔ ظاہری حالات کے پس پشت جو حکمت ربانی اور جو تقدیر الہی کام کر رہی تھی وہ پردے میں تھی۔ رہے نوح (علیہ السلام) تو وہ پوری طرح مطمئن تھے۔ اللہ کا جو فرمان ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہ ان کے مذاق کے مقابلے میں نہایت ہی اطمینان ، سربلندی اور بڑی شان سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہتے جاتے : اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ " اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں "۔ ہم تمہارے ساتھ اس لیے مذاق کر رہے ہیں کہ تم معاملات و واقعات کے پس منظر سے نابلد ہو۔ اللہ کی تقدیر تمہارے انتظار میں ہے۔ اور تمہارا انجام سامنے آنے والا ہے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔

عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ سوچ لو کہ اس عذاب کے مستحق ہم ہوں گے یا تم۔ ذرا پردہ گرنے کا انتظار کرو۔

40

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ ۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٌۭ

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے

اور جب مقررہ وقت آجاتا ہے۔ وہ لمحہ جس کا انتظار تھا تو پھر اس کا منظر کچھ اس طرح ہے :

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس میں ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اسکا ٹھہرنا بھی ، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔

یہ تنور کس طرح جوش میں آیا ؟ بعض اقوال ایسے ہیں جو تخیلات پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت دور کے نظر آتے ہیں اور بعض کے اندر اسرائیلیات کی بو آتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم بغیر کسی راہنمائی کے غیر آباد وادیوں میں گھومنے کے قائل نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم جو خبریں دیتا ہے وہ عالم الغیب کی خبریں ہیں اور اس سلسلے میں اسی حد پر جا کر رک جانا چاہیے ، جس کی تصریح قرآن کریم کرتا ہے اور مدلول نص پر مزید کوئی حاشیہ آرائی نہیں کرنا چاہیے۔

زیادہ سے زیادہ ہم جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ تنور سے فوارہ چھوٹنا ، خصوصاً چلتے ہوئے تنور سے ، یوں ہوسکتا ہے کہ تنور سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑے یا اس کے اندر آتش فشانی کا عمل شروع ہوجائے اور یہ کہ یہ حضرت نوح کے لیے عذاب الہی اور خطرے کی آخری گھنٹی کے طور پر اللہ نے مقرر کیا تھا یا اللہ کے عذاب کی آمد کا یہ ایک حصہ تھا۔ اور بیک وقت زمین سے پانی ابلنا شروع ہوگیا اور آسمان سے موسلا دھار بارش برسنا شروع ہوگئی۔

جب یہ واقعات شروع ہوئے تو اللہ نے حکم دیا کہ :

قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : " ہم نے کہا ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو "۔ عملی نظام کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح کو ہر مرحلے کے لیے اپنے وقت پر احکام دیے جائیں۔ پہلے کہا کہ تم کشتی بناؤ تو وہ بنانے لگ گئے اور وہاں سیاق کلام میں یہ نہ بتا دیا گیا کہ یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے اور یہ بھی نہ کیا گیا کہ خود حضرت نوح کو اس کی اطلاع کردی گئی ہے۔

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ : " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو "۔ اور اس کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے حکم دیا گیا :

قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ : ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں

اب زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ کے مفہوم میں بھی مفسرین کا اختلاف ہے۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اختلاف ذوق ہے اور اسرائیلی رنگ ہے۔ اس لیے ہم اس آیت کے بارے میں بھی خیالی گھوڑے نہیں دوڑاتے کہ نوح نے کس قدر زندہ چیزوں کے جوڑے اپنے ساتھ لیے اور کن کے نہ لیے۔ یہ محض اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہے۔

وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ : اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو سنت الہی کے مطابق مستحق عذاب ہوچکے ہیں۔

وَمَنْ اٰمَنَ " اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے " یعنی تمہارے اہل و عیال کے علاوہ جو لوگ ایمان لائے ہیں۔

وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ: " اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔

یوں اللہ کا حکم نافذ ہوا اور جن کو ہلاک ہونا تھا ، وہ ہلاک ہوئے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.