وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّى مَلَكٌۭ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيْرًا ۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّىٓ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
16: یہ اس جاہلانہ خیال کی تردید ہے کہ اللہ کے کسی پیغمبر یا مقرب بندے کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں، اور اسے غیب کی ساری باتوں کا علم ہونا چاہئے، یا اُسے اِنسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہئے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے واضح فرما دیا کہ کسی نبی یا اللہ کے کسی ولی کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ دُنیا کے خزانے لوگوں میں تقسیم کرے، یا غیب کی ہر بات بتائے۔ اس کا مقصد تو لوگوں کے عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہوتا ہے۔ اُس کی ساری تعلیمات اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں، لہٰذا اس سے اس قسم کی توقعات رکھنا نری جہالت ہے۔ اس طرح اس آیت میں اُن لوگوں کی ہدایت کا بڑا سامان ہے جو بزرگوں کے پاس اپنے دُنیوی مقاصد کے لئے جاتے ہیں، اور انہیں دُنیوی اور تکوینی اُمور میں اپنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں، اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں مستقبل کی ہر بات بتا دیا کریں گے۔ جب اﷲ تعالیٰ کا اتنا برگزیدہ پیغمبر ان باتوں کو اپنے اختیار سے باہر قرار دے رہا ہے تو کون ہے جو ان اختیارات کا دعویٰ کرسکے؟ اور حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھیوں کے بارے میں کافروں نے جو کہا تھا کہ یہ حقیر لوگ ہیں، اور دِل سے ایمان نہیں لائے، اُس کا آگے یہ جواب دیا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ یہ دِل سے ایمان نہیں لائے اور اﷲ تعالیٰ انہیں کوئی بھلائی یعنی ثواب نہیں دے گا۔