Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 123

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ كِتَٰبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)

[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔

[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب …

2

أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۚ إِنَّنِى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)

[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔

[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب …

3

وَأَنِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍۢ فَضْلَهُۥ ۖ وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ كَبِيرٍ

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)

[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔

[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب …

4

إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)

[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔

[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب …

5

أَلَآ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے

آگاہ رہو! بے شک وہ دہرے کرتے ہیں سینے اپنے تاکہ وہ چھپ جائیں اللہ سے، آگاہ رہو! جس وقت اوڑھتے ہیں وہ کپڑے اپنے، جانتا ہے اللہ جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (5)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿ يَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں‘‘ ﴿ لِيَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡهُ﴾ ’’تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں ۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لیے رکاوٹ بن جائیں تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لیے بھی تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَا حِيۡنَ يَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِيَابَهُمۡ ﴾ ’’سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے۔‘‘ یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے بلکہ ﴿ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں ﴿وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ‘‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’دلوں کی باتوں کو جانتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں ، وسوسوں اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سراً یا جہراً نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے... تب تم اپنے حال کو اپنے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو؟اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے، یعنی جب وہ رسول اللہﷺ کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کر سکیں جو ان کے لیے مفید ہیں ۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ انھیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔

6

۞ وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّۭ فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ

اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے

اور نہیں کوئی چلنے والا (جاندار) زمین میں مگر اوپر اللہ ہی کے ہے رزق اس کااور وہ جانتا ہے قرار گاہ اس کی اور جائے امانت اس کی، ہرچیز کتاب واضح میں (تحریر) ہے (6)

[6] روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ﴿وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾ ’’اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔‘‘ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مُسْتَقَر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں ، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (مُسْتَوْدَع) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ، اپنی آمدورفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں ۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’یہ سب کچھ‘‘ ان کے احوال کی تمام تفاصیل ﴿ فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں ہے۔‘‘ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و واقعات پر مشتمل ہے جو اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ تمام حوادث کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اس نے ہر چیز کی تقدیر لکھ دی ہے ہر چیز پر اس کی مشیت نافذ ہے اور ہر ایک کے لیے اس کا رزق وسیع ہے۔ دل، اس ہستی کی کفایت پر مطمئن ہو جانے چاہئیں ، جو ان کے رزق کی کفالت کرتی ہے اور جس کے علم نے مخلوق کی ذات و صفات کا احاطہ کر رکھا ہے۔

7

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ وَكَانَ عَرْشُهُۥ عَلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِنۢ بَعْدِ ٱلْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ …

8

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٍۢ مَّعْدُودَةٍۢ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی

اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ …

9

وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ ثُمَّ نَزَعْنَٰهَا مِنْهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٌۭ كَفُورٌۭ

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11)

[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟

[11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔

10

وَلَئِنْ أَذَقْنَٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٌۭ فَخُورٌ

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11)

[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟

[11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.