سورة هُوْد حاشیہ نمبر :31
وہی جاہلانہ اعتراض جو مکہ کے لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں پیش کرتے تھے کہ جو شخص ہماری ہی طرح کا ایک معمولی انسان ہے ، کھاتا پیتا ہے ، چلتا پھرتا ہے ، سوتا اور جاگتا ہے ، بال بچے رکھتا ہے ، آخر ہم کیسے مان لیں کہ وہ خدا کی طرف سے پیغمبر مقرر ہو کر آیا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ یٰس ، حاشیہ نمبر ۱۱ ) ۔
سورة هُوْد حاشیہ نمبر :32
یہ بھی وہی بات ہے جو مکہ کے بڑے لوگ اور اونچے طبقے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے ساتھ ہے کون؟ یا تو چند سر پھرے لڑکے ہیں جنہیں دنیا کا کچھ تجربہ نہیں ، یا کچھ غلام اور ادنی طبقہ کے عوام ہیں جو عقل سے کورے اور ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ انعام ، حواشی نمبر ۳٤ تا ۳۷ و سورہ یونس ، حاشیہ نمبر ۷۸ ) ۔
سورة هُوْد حاشیہ نمبر :33
یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ ہم پر خدا کا فضل ہے اور اس کی رحمت ہے اور وہ لوگ خدا کے غضب میں مبتلا ہیں جنہوں نے ہمارا راستہ اختیار نہیں کیا ہے ، تو اس کی کوئی علامت ہمیں نظر نہیں آتی ۔ فضل اگر ہے تو ہم پر ہے کہ مال و دولت اور خدم و حشم رکھتے ہیں اور ایک دنیا ہماری سرداری مان رہی ہے ۔ تم ٹٹ پونجیے لوگ آخر کس چیز میں ہم سے بڑھے ہوئے ہو کہ تمہیں خدا کا چہیتا سمجھا جائے ۔