Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 123

21

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)

[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔

[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ …

22

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)

[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔

[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ …

23

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔ یہی صاحب جنت ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24)

[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔

[24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔

24

۞ مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَمِّ وَٱلْبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

دونوں فرقوں (یعنی کافرومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24)

[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔

[24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔

25

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (تو انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور پیغام پہنچانے آیا ہوں

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی …

26

أَن لَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍۢ

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی …

27

فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرًۭا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَٰذِبِينَ

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی …

28

قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَٰرِهُونَ

انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی …

29

وَيَٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًۭا تَجْهَلُونَ

اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی …

30

وَيَٰقَوْمِ مَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

اور برادران ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.