Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–123 of 123

121

وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَٰمِلُونَ

اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔ ہم اپنی جگہ عمل کیے جاتے ہیں

وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121)

رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔

اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔

122

وَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ

اور (نتیجہٴ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121)

رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔

اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔

123

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلْأَمْرُ كُلُّهُۥ فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں

غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ (123:12) ّآسمانون اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قضبہ قدرت میں ہےٗ ۔ ان تمام امور کے آخری فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ اے پیغمبر تمہارے معاملات اور اہل ایمان کے تمام معاملات اور ان کو گون کے معاملات جو ایمان نہیں لاتے اور تمام موجودہ مخلوقات کے معاملات اور اہل ایمان کے تمام معاملات ۔ اور ان لوگوں کے معاملات جو ایمان نہیں لاتے اور تمام موجوسہ مخلوقات کے معاملات اور تمام آنے والے مخلوقات کے معاملات سب کے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں

وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (11 : 123) اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ۔ پس اے نبی ، تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کررہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ٗٗ ۔

چونکہ تمام امور اسی کی طرف برائے فیصلہ لوٹتے ہیں اس لیے وہی اس قابل ہے کہ اس کی بندگی جائے ۔ وہی اس قابل ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے ، کیونکہ وہی ولی ہے وہی جانتا ہے کہ کس کی کیا ضرورت ہے اور وہ ہر خیر اور شر سے واقف ہے ۔ اس کے ہاں کسی کی جزائ ضائع نہیں ہوتی اور کوئی سزا سے بچ نہیں سکتا ۔۔۔۔۔ وہ تمہارے کسی عمل سے غافل نہیں ہے ۔

غرض اس سورت کا آغاز بھی عبادت انابت الی اللہ اور آخر کار رجوع الی اللہ کے مضمون سے ہوا ، تو اس کا خاتمہ بھی توحید ، عبادت توبہ انابت اور آخرکار اللہ کی طرف لوٹنے کے مضامین پر ہوا جبکہ ان مضامین کی وضاحت اس پوری کائنات کے مطالعے ار تاریک انسانی کے مطالعے کے ذریعے کی گئی ۔

اسی طرح قرآن کریم کا فنی حسن کلام کے آغاز و انجام میں یگانگت پیدا کردیتا ہے اور قرآن کریم کے تمام قصص ، مضامین اور ان کا فکری رخ باہم متناسب بن جاتے ہیں اور اگر یہ قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں بیشمار فکری تضادات موجودہوتے ۔

جو شخص اس سورت میں بات کی روانی ، بلکہ تمام مکی قرآن کریم کے کلام کا ہدف معلوم کرنے کی کوشش کرے تو اسے آسانی کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس پورے کلام میں ایک لائن اختیار کی گئی ۔ اس لائن پر پورا کلام آگے بڑھ رہا ہے بلکہ یہ لائن اس کلام کا محور ہے اور پورا کلام اس محور اور موضوع کے گردگھوم رہا ہے ۔ تمام خطوط اس مرکزی نکتے پر آکر ملتے ہیں اور اس کے تمام ریشے اس محور کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ یہ محور نظریہ حیات اور اس قصورحیات کا محور اور موضوع ہے جس کے اردگرد کلام گھوم رہا ہے ۔ وہ کیا ہے ، یہ کہ قرآن انسان کے لیے ایک مکمل نظام زندگی تجویز کرتا ہے اور اس کا قیام چاہتا ہے۔

مناسب یہ ہے کہ ہم اس مرکزی لائن ، اس محور اور اس عمود پر قدرے بحث کریں ۔ اس کا اظہار اس پوری سورت میں اچھی طرح ہوتا ہے ۔ بعض نکتے تو ہم بیان بھی کر آئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس تبصرے میں ربط قائم کرنے کے لیے ان کو دربارہ یہاں لے لیں ۔

ایک نہایت ہی اہم حقیقت اس پوری سورت میں بیان کی گئی ۔ اس سورت کی ابتدائی تمہیدی آیات میں بھی ، اس سورت کے قصص میں بھی جن میں پوری سورت اور پوری تاریخ انسانی کی لائن دی گئی ہے ۔ اور اس سورت کی اختتامی آیات میں بھی جہاں حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ مشرکین کو صاف صاف بتادیں کہ وہ آخری نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں ، وہ حقیقت ہے کیا ؟

اس پوری سورت میں جس اہم مسئلے کو لیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم لوگ صرف اللہ کی ّّعبادت ٗٗکرو اور اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی ّّعبادت ٗٗکرو ، اور یہ کہ عبادت ہی دراصل پورے نظام زندگی یعنی ّّدین ٌٗکانام ہے ۔ اور ہر قسم کی سزا کی دھمکی اور ہر قسم کی جزائ کے وعدے اور حشر کے دن کا حساب و کتاب اور ثواب عقاب سب کے سب اسی بنیادی عقیدے اور اصول پر مبنی ہیں جیسا کہ ہم نے سورت کے مقدمے میں بھی کہا کہ ّّعبادت ٗٗصرف اللہ کی کرو۔

سب …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.