Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 123

111

وَإِنَّ كُلًّۭا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَٰلَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے

وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (11 : 111) “ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ ”

اس میں اس قدر تاکیدی انداز تعبیر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی مہلت اور تاخیر کی وج کہ سے پوری پوری جزاء و سزا میں شک نہ کرنے لگے۔ کوئی یہ شک نہ کرے کہ اہل مکہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہے اور اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یہ شرک ہے اور یہ شرکیہ دین اس سے پہلے بھی کئی اقوام نے اختیار کیا ہے۔

یہاں یہ تاکیدی انداز اختیار کرنے کا پس منظر بھی تھا ، اس وقت تحریک اسلامی کے حالات واقعات یہ تھے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر ایک معاند قوت کی طرح کھڑے تھے ، وہ رسول اللہ کے راستے کو ہر طرف سے روک رہے تھے ، مسلمان قلیل تعداد میں تھے اور ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے ، دعوت کا پھیلاؤ تقریبا منجمد ہوگیا تھا اور خدا کی طرف سے عذاب کا آنا بھی قیامت تک ملتوی ہوگیا تھا۔ مومنین کو ہر طرح کی اذیت دی جا رہی تھی اور ان کے دشمن بظاہر کامیاب جا رہے تھے۔ ایسے حالات میں بعض کمزور قسم کے دل متزلزل ہو سکتے تھے نیز ثابت قدم لوگ بھی بہرحال پریشانی کا شکار ہو سکتے تھے ، لہذا تحریک اسلامی کو اس قسم کی تسلی اور ہمت بندھانے کی ضرورت تھی ، اس سے زیادہ مسلمانوں کے دل کسی اور چیز سے حوصلہ نہیں پاتے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن بتلا دے اور یہ اعلان کر دے کہ بلا شک و بلا ریب و باطل پر ہیں۔ معرکے میں حصہ لیتا ہے اور کس طرح صحابہ کرام کو موقع بموقع نشانات راہ بتلاتا جاتا ہے۔

یہ تاکیدی بیان کہ اللہ کے دشمنوں کا یہ انجام ہو کر رہے گا ، نفس کے اندر قدرتی طور پر یہ بات بٹھاتا ہے کہ سنت الہیہ اس کی مخلوق میں جاری وساری ہے اس کا دین بھی اس کی سنت کے مطابق غالب ہوگا اس کا وعدہ بھی اور اس کی دھمکی بھی سنت الہیہ کے مطابق روبعمل ہوگی ، لہذا جو لوگ اس دین کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس دین کی دعوت دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مسنون طریقے کے مطابق دعوت دیتے رہیں جس طرح کہ ان کو حکم دیا گیا ہے ، نہ اس میں کمی کریں ، نہ اس میں زیادتی کریں نہ ظالموں کے سامنے جھکیں ، اگر چہ وہ جبار ہوں ، وہ غیر اللہ کے دین کو قبول نہ کریں ، اگر چہ راستہ طویل ہوجائے ، وہ مشکلات راہ کے لیے تیاریاں کریں اور اس وقت تک صبر کریں جب تک اللہ وہ کام نہیں کرتا جو وہ چاہتا ہے۔

112

فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (112 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ”

اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور ﷺ نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور ﷺ سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم ، غرض کسی بھی تحریک میں یہ ایک دائمی اور مسلسل ڈیوٹی ہے اور زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔

وَلا تَطْغَوْا (112 : 11) “ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ” یہاں اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ استقامت کے حکم کے بعد یہ نہیں اس لیے نہیں ہے کہ استقامت میں قصور نہ کرو ، بلکہ یہ نہیں طغیان اور حد سے گزرنے کی نہی ہے ، یہ اس لیے وارد ہوئی ہے کہ استقامت کے مسلسل حکم کے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اس قدر بیداری پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس قدر حزم اور احتیاط کرنے لگتا ہے کہ وہ غلو اور مبالغے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس غلو اور مبالغے کے نتیجے میں “ الدین یسر ” بن جاتا ہے دین میں افراط وتفریط شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور ایک مسلمان کو معتدل مزاج اور صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہیے ، غافل بھی نہیں ہونا چاہیے اور غالی بھی نہیں۔

إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11 : 112) “ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ” بصیر ، بصیرت کا لفظ یہاں پر محل ہے ، یعنی دیکھتا بھی ہے اور اس کا دیکھنا سرسری نہیں ہے۔ بصیرت اور گہرائی سے دیکھتا ہے لہذا اے پیغمبر ﷺ تم اور تمہارے ساتھی خدا سے ڈرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن رہو۔

113

وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ

اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی

وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (113 : 11) “ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ ” یعنی ظالموں پر بھروسہ نہ کرو اور نہ ان کی جانب سے کسی قسم کا اطمینان کرو ، ظالموں سے مراد وہ جبار وقہار اور سرکش لوگ ہیں جو زمین پر اپنے مظالم کی بنیاد پر اپنی برتری قائم کرتے ہیں اور عوام الناس سے خدا کے مقابلے میں اپنی بندگی کراتے ہیں ان پر بھروسہ بھی نہ کرو اور ان کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم ان کی جانب سے اسی طرح غیر جانبدار اطمینان و بھروسے کا اظہار کرو گے تو تم گویا بالواسطہ ان ظالمانہ کاروائیوں میں ان کے موید ہو گے اور اس طرح اس عظیم جرم میں تم بھی حصہ دار بن جاؤ گے ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم آگ کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔

وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (11 : 113) “ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ ” ایسے مشکل حالات میں جن سے اس وقت تحریک اسلامی کے مٹھی بھر پیروکار گزر رہے تھے ، سیدھی راہ پر جم جانا فی الواقعہ ایک مشکل کام ہوتا ہے اور اس کے لیے روحانی زادراہ کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو اخلاقی اور روحانی تربیت اور تعلق باللہ پیدا کرنے کے لیے اس زاد راہ کی نشاندہی فرماتا ہے :

114

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ ۚ إِنَّ ٱلْحَسَنَٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں

وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11 : 114) “ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے رپ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ ”

اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وہ زاد سفر ہے جو اس وقت کام آتا ہے جب تمام زاد سفر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ روحانی وقت کا زاد سفر ہے اور یہ انسان کو ایسی قوت دیتا ہے جو عظیم تر مشکلات کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے یہ زاد راہ معراج المومنین ہے اور یہ اہل ایمان کو رب کریم اور رحیم و ودود سے ملاتا ہے جو قریب ہے اور تمام پکاروں کو خوب سنتا ہے اور جب مومن تنہا ہوتا ہے اور پریشان ہوتا ہے تو ایسے حالات میں یہ زاد راہ اس انس و محبت کی باد نسیم چلاتا ہے اور اس طرح اس پر جاہلیت اور کفر کی گٹھن فضا میں قدر کشادگی پیدا ہوجاتی ہے۔

آیت میں دن کے دو سروں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی اول اور آخر اور پھر است کے قریب وقت کا۔ اس میں تمام کے تمام اوقات آگئے ۔ اگر نمازوں کی تعداد کا تعین نہیں ہوا ، تعداد کا تعین بہرحال سنت رسول سے ہوا ہے اور نیز متعین اوقات کا تعین بھی سنت سے ہوا ہے۔

اس آیت میں نماز کی اقامت کے حکم ، یعنی پوری پوری ادائیگی کے حکم کے بعد یہ حکم آیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ عام آیت ہے اس سے تمام نیکیاں مراد ہیں اور نماز بہرحال عظیم ترین نیکی ہے لہذا یہ بھی اس آیت میں شامل ہے بہرحال “ المحسنات ” نماز کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین کی رائے ہے۔

ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (11 : 114) “ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ ” نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے ذکر الہی ہے۔ اس لیے یہ صفت نہایت ہی مناسب ہے۔

استقامت انسان تب ہی اختیار کرسکتا ہے جب اس میں مشکلات پر صبر کرنے کا حوصلہ ہو ، نیز اللہ کی سنت کے مطابق منکرین کے انجام بد سے دو چار ہونے کے لیے ایک مہلت ہوتی ہے اور اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ اتنظار بھی صبر کا محتاج ہے لہذا استقامت اور تمام پچھلی ہدایات پر کامیابی سے عمل پیرا ہونے کے لیے حکم دیا جاتا ہے کہ صبر کرو۔

115

وَٱصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (11 : 115) “ اور صبر کر ، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ” اللہ کی راہ میں استقامت احسان ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا بھی احسان ہے ، جھٹلانے والوں کی طرف سے جھٹلانے پر صبر کرنا بھی احسان ہے اللہ محسنین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔

اقوام وملل کی ہلاکت اور بستیوں کی بربادی پر جو تبصرہ کیا گیا اس کی تکمیل کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ان بستیوں میں اہل خیر موجود ہوتے اور وہ نہی عن المنکر اور زمین سے فتنہ و فساد کے دور کرنے کی سعی جاری رکھتے اور زمین سے ظلم مٹانے کی سعی کرتے اور دست درازی کرنے والوں کے ہاتھ روکتے تو ان بستیوں اور قوموں پر ایسا عذاب نازل نہ ہوتا جس نے ان کو چڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ بستیوں پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ صالح ہوں اور مصلح ہوں۔ یعنی خود بھی نیک ہوں اور بقدر طاقت لوگوں کو نیک بنانے میں بھی مصروف ہوں ، ہاں ان ہلاک شدہ بستیوں میں بھی اہل ایمان کی ایک قلیل تعداد موجود تھی لیکن ان کے پاس بقدر ضرورت قوت اور اثر نہ تھا۔ اس لیے اللہ نے ان کو نجات دے دی ، اکثریت چونکہ مترفین اور مفسدین کی تھی اور دوسرے لوگ ان کے تابع تھے اس لیے اللہ نے پوری کی پوری بستیوں کو ہلاک کردیا۔

116

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ

تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے

یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔

لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔

آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف

117

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے

یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔

لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔

آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف

118

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔

اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا ملے۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کی مشیت کے مطابق جاری وساری ہے۔ اس لیے جو ہدایت کی راہ لیتا ہے وہ اور جو ضلالت اختیار کرتا وہ دونوں ہی اللہ کی سنت کے مطابق چل رہے ہیں اور یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اور سزاء و جزاء بھی اللہ کی سنت اور مشیت کے مطابق ہے۔

یہ اللہ کی اسکیم تھی کہ لوگ امت جامدہ نہ ہوں ، اور کامیات وہ لوگ ہوں جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دی اور وہ حق پر جمع ہوجائیں ، کیونکہ ہدایت اور سچائی ایک ہی ہوتی ہے۔ ان میں عتدد نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اہل ضلال کے خلافا ہوں۔ ہدایت یافتہ لوگوں کے بالمقابل یہ لوگ ہیں۔

وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (11 : 119) “ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ”

اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ہدایت پر جمع ہوئے ان کا انجام اور ہے ، وہ جنت ہے اور وہ ان سے بھر دی جائے گی جس طرح جہنم ان لوگوں سے بھر دی جائے گی جو اہل حق سے مختلف ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہیں کیونکہ باطل کے انواع و اقسام بہت ہیں۔

اس سورت کا اختتامیہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی طرف قصص انبیاء وحی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ خصوصا اہل ایمان کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ تعلق ختم کردیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس انجام تک جا پہنچیں جو ان کے لیے منتظر ہے اور پردہ غیب کے پیچھے ہے۔ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی ، اللہ پر بھروسہ کریں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہیں کریں۔

119

إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔

اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا ملے۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کی مشیت کے مطابق جاری وساری ہے۔ اس لیے جو ہدایت کی راہ لیتا ہے وہ اور جو ضلالت اختیار کرتا وہ دونوں ہی اللہ کی سنت کے مطابق چل رہے ہیں اور یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اور سزاء و جزاء بھی اللہ کی سنت اور مشیت کے مطابق ہے۔

یہ اللہ کی اسکیم تھی کہ لوگ امت جامدہ نہ ہوں ، اور کامیات وہ لوگ ہوں جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دی اور وہ حق پر جمع ہوجائیں ، کیونکہ ہدایت اور سچائی ایک ہی ہوتی ہے۔ ان میں عتدد نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اہل ضلال کے خلافا ہوں۔ ہدایت یافتہ لوگوں کے بالمقابل یہ لوگ ہیں۔

وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (11 : 119) “ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ”

اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ہدایت پر جمع ہوئے ان کا انجام اور ہے ، وہ جنت ہے اور وہ ان سے بھر دی جائے گی جس طرح جہنم ان لوگوں سے بھر دی جائے گی جو اہل حق سے مختلف ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہیں کیونکہ باطل کے انواع و اقسام بہت ہیں۔

اس سورت کا اختتامیہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی طرف قصص انبیاء وحی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ خصوصا اہل ایمان کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ تعلق ختم کردیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس انجام تک جا پہنچیں جو ان کے لیے منتظر ہے اور پردہ غیب کے پیچھے ہے۔ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی ، اللہ پر بھروسہ کریں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہیں کریں۔

120

وَكُلًّۭا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ وَجَآءَكَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌۭ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

(اے محمدﷺ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے

خدا کے رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات بھی اپنی قوم کی طرف سے مشکلات کا مقابلہ کررہی تھی ، بعض لوگ حددرجہ منحرف اور گمراہ تھے۔ پھر دعوت اسلامی کے سلسلے میں آپ پر بےحد ذمہ داریاں عائد ہورہی تھیں ۔ اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ کو تسلی دی جائے اور رب کی طرف سے آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے ، اگرچہ آپ ثابت قدم تھے اور مام مشکلات کو مستقل مزاجی سے برداشت کررہے تھے۔

وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (11 : 120)

اور اے نبی ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ٗٗٗ

توقصص میں ایک تو تثبیت قلب ہے ، دعوت اسلامی کے بارے میں حقائق اور سچائیاں ہیں ، مختلف انبیائ کے نمونے اور ماسوے ہیں ۔ سنن الٰہیہ کے مختلف نمونے ہیں خوشخبریاں ہیں اور ڈراوے ہیں اور وہ نصیحت آموزواقعات ہیں جو ان قصص میں موجود ہیں۔

ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اس وعدونصیحت کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے ۔ ان کے لیے یہ قصص بالکل مفید نہیں ہیں ۔ ان کے لیے ان میں فیصلہ کن بات ہے ۔ ان کو کہہ دیں :

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.