قَالُوا۟ يَٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًۭا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفًۭا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَٰكَ ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍۢ
اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ …