Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 81–90 of 109

81

فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ ٱلسِّحْرُ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

82

وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

83

فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَىٰ خَوْفٍۢ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْرِفِينَ

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

84

وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ

اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

85

فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

86

وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

87

وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًۭا وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُمْ قِبْلَةًۭ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

88

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةًۭ وَأَمْوَٰلًۭا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَىٰٓ أَمْوَٰلِهِمْ وَٱشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

89

قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

90

۞ وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.