Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 109

21

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں

اور جب ہم چکھاتے ہیں (کافر) لوگوں کو رحمت بعد اس تکلیف کے جو انھیں پہنچی تو ناگہاں ان کے لیے چالیں ہوتی ہیں (جو وہ چلتے ہیں ) ہماری آیتوں میں ، کہہ دیجیے! اللہ سب سے زیادہ تیز ہے چال (چلنے) میں ، بے شک ہمارے رسول ( فرشتے) لکھتے ہیں جو چالیں تم چلتے ہو (21)

[21] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَةً مِّنۢۡ بَعۡدِ ضَرَّآءَؔ مَسَّتۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا، ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی۔‘‘ مثلاً: مرض کے بعد صحت، تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِذَا لَهُمۡ مَّؔكۡرٌ فِيۡۤ اٰيَاتِنَا﴾ ’’اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں ‘‘ یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں ﴿ قُلِ اللّٰهُ اَسۡرَعُ مَكۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ حیلے بنانے (تدبیر کرنے) میں زیادہ تیز ہے‘‘ کیونکہ بری چالوں کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ ان کے برے مقاصد انھی پر پلٹ جاتے ہیں اور وہ برے انجام سے محفوظ نہیں رہتے بلکہ فرشتے ان کے اعمال لکھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو محفوظ کر لیتا ہے پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔

22

هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں

وہی ہے (اللہ) جو چلاتا ہے تمھیں خشکی اور تری میں ، حتی کہ جب ہوتے ہو تم کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ انھیں (تمھیں ) لے کر ساتھ ہوا پاکیزہ (موافق)کےاورخوش ہوتے ہیں وہ ساتھ اس (ہوا) کے تو آتی ہے ان پر سخت ہوااور آتی ہیں ان کے پاس لہریں ہر طرف سے اور گمان کرتے ہیں وہ کہ بے شک گھیر لیا گیا ہے ان کو تو (اس وقت) پکارتے ہیں اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو، کہ اگر تو نے نجات دے دی ہمیں اس (طوفان) سے تو یقینا ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں میں سے (22) پس جب اس (اللہ) نے نجات دے دی ان کو فوراً وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق، اے لوگو! یقینا تمھاری سرکشی (کا وبال) اوپر تمھاری جانوں ہی کے ہے، (اٹھالو) فائدہ زندگی کا دنیا کی ، پھر ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تمھیں ، پس ہم خبردیں گے تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے (23)

[23,22] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ يُسَيِّرُؔكُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ﴾ ’’وہی ہے جو تمھیں چلاتا ہے خشکی اور سمندر میں ‘‘ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمھیں مہیا کیے ہیں اور ان کی طرف تمھاری راہ نمائی فرمائی ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِي الۡفُلۡكِ﴾ ’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو‘‘ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ﴾ ’’اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے‘‘ یعنی وہ ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے۔ ﴿وَّفَرِحُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے‘‘ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ ﴾ ’’اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے۔‘‘ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی ﴿ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ﴾ ’’اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انھوں نے جان لیا کہ وہ گھر گئے‘‘ یعنی انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں ‘‘ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجَيۡتَنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾’’اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہو جائیں گے۔‘‘﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰؔىهُمۡ اِذَا هُمۡ يَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔‘‘ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انھوں نے اپنے اوپر لازم کیے تھے، فراموش کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انھیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کر سکتی ہے۔ پس انھوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انھوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انھیں پر پڑے گا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا …

23

فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

وہی ہے (اللہ) جو چلاتا ہے تمھیں خشکی اور تری میں ، حتی کہ جب ہوتے ہو تم کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ انھیں (تمھیں ) لے کر ساتھ ہوا پاکیزہ (موافق)کےاورخوش ہوتے ہیں وہ ساتھ اس (ہوا) کے تو آتی ہے ان پر سخت ہوااور آتی ہیں ان کے پاس لہریں ہر طرف سے اور گمان کرتے ہیں وہ کہ بے شک گھیر لیا گیا ہے ان کو تو (اس وقت) پکارتے ہیں اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو، کہ اگر تو نے نجات دے دی ہمیں اس (طوفان) سے تو یقینا ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں میں سے (22) پس جب اس (اللہ) نے نجات دے دی ان کو فوراً وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق، اے لوگو! یقینا تمھاری سرکشی (کا وبال) اوپر تمھاری جانوں ہی کے ہے، (اٹھالو) فائدہ زندگی کا دنیا کی ، پھر ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تمھیں ، پس ہم خبردیں گے تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے (23)

[23,22] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ يُسَيِّرُؔكُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ﴾ ’’وہی ہے جو تمھیں چلاتا ہے خشکی اور سمندر میں ‘‘ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمھیں مہیا کیے ہیں اور ان کی طرف تمھاری راہ نمائی فرمائی ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِي الۡفُلۡكِ﴾ ’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو‘‘ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ﴾ ’’اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے‘‘ یعنی وہ ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے۔ ﴿وَّفَرِحُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے‘‘ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ ﴾ ’’اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے۔‘‘ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی ﴿ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ﴾ ’’اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انھوں نے جان لیا کہ وہ گھر گئے‘‘ یعنی انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں ‘‘ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجَيۡتَنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾’’اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہو جائیں گے۔‘‘﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰؔىهُمۡ اِذَا هُمۡ يَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔‘‘ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انھوں نے اپنے اوپر لازم کیے تھے، فراموش کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انھیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کر سکتی ہے۔ پس انھوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انھوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انھیں پر پڑے گا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا …

24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًۭا فَجَعَلْنَٰهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

یقینا مثال زندگانی دنیا کی مانند اس پانی کے ہے کہ ہم نے نازل کیا اس کو آسمان سے، پھر مل جل گئی اس کے سبب سے روئیدگی زمین کی، اس چیز میں سے جسے کھاتے ہیں انسان اور چوپائے، یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اپنی اور مزین ہو گئی اور گمان کر لیا اہل زمین نے کہ بے شک وہ قادر ہیں اس (سے فائدہ اٹھانے) پر تو (اچانک) آگیا اس پر ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کو، پس کردیا ہم نے اس (لہلہاتی کھیتی) کو کٹی ہوئی کھیتی (کی طرح)، گویا کہ نہیں تھی وہ کل، اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی آیتیں واسطے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں (24)

[24] یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریص بندے کے لیے بہت پرکشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لیے ہے۔ جب دنیا مکمل ہو جاتی ہے تو مضحمل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہو جاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ پس بندہ دنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن و غم اور حسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔اس کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’مانند اس پانی کے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا‘‘ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت جوڑے اگ آئے ﴿ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ ﴾ ’’جو کہ کھائیں آدمی‘‘مثلاً: غلہ جات اور پھل وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاَنۡعَامُ﴾ ’’اور مویشی‘‘ یعنی اور وہ چیزیں جو مویشی کھاتے ہیں ، مثلاً:مختلف اقسام کی گھاس پات، وغیرہ ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ ﴾’’یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے اپنی رونق اور خوب مزین ہو گئی‘‘ یعنی جب اس کا منظر خوبصورت ہو جاتا ہے اور زمین خوبصورت لباس پہن لیتی ہے تو دیکھنے والوں کے لیے خوش منظر، غم ہلکا کرنے والوں کے لیے ذریعۂ تفریح اور بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے ایک نشانی بن جاتی ہے۔ تب تو عجیب نظارہ دیکھے گا جس میں سبز، زرد اور سفید رنگ دکھائی دیں گے۔﴿ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ﴾ ’’اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ (فصل) ان کے ہاتھ لگے گی‘‘ یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں یہ دنیا ان کے پاس ہمیشہ رہے گی کیونکہ ان کا ارادہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے اور ان کی طلب کی انتہا یہی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ﴿ اَتٰىهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ﴾’’ناگہاں پہنچا اس پر ہمارا حکم، رات کو یا دن کو، پھر کر دیا اس کو کاٹ کر ڈھیر، گویا کہ کل یہاں آبادی ہی نہ تھی‘‘ یعنی دنیا کی یہ خوبصورتی کبھی تھی ہی نہیں ۔ پس یہی حالت دنیا کی ہے، بالکل اس جیسی ہی۔﴿ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’ہم اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو، ان کے معانی کو قریب لا کر اور مثالیں بیان کر کے واضح کرتے ہیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سامنے جو غوروفکر کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنی فکر کو ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہیں ۔ رہا غفلت میں ڈوبا ہوا اور روگردانی کرنے والا شخص تو یہ آیات اسے کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ ان کا بیان اس کے شک کو زائل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا حال اور اس کی نعمتوں کے حاصل کا ذکر کیا تو اب ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کا شوق دلایا ہے، چنانچہ فرمایا:

25

وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، طرف سیدھی راہ کے (25) واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کیں نیکیاں ، نیک بدلہ (جنت) ہے اور مزید (دیدار الٰہی) ہےاور نہیں ڈھانپے گی ان کے چہروں کو سیاہی اور نہ ذلت، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (26)

[25] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لیے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کے لیے ہدایت کو مخصوص کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لیے اپنی رحمت کو مختص کر دیتا ہے، یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کر دینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل، ہمیشہ باقی رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں ۔

[26] اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلایا تو گویا ان نفوس کو ان اعمال کا اشتیاق پیدا ہوا جو ان کو اس گھر میں پہنچانے کے موجب ہیں ۔ فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی اور مزید ہے‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیا یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مراقبہ اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی عبادت کی اور مقدور بھر اس عبودیت کو قائم رکھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں سے احسان قولی اور احسان فعلی کے ساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ مالی اور بدنی احسانات سے کام لیا، نیکی کا حکم دیا، برائی سے روکا، جہلا کو تعلیم دی، روگردانی کرنے والوں کی خیر خواہی کی، نیکی اور احسان کے دیگر تمام پہلوؤں پر عمل کیا۔یہی وہ لوگ ہیں جو احسان کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور انھی کے لیے (الحسنی) ہے یعنی ایسی جنت جو اپنے حسن و جمال میں کامل ہے۔ مزید برآں ان کے لیے اور بھی انعام ہے یہاں (زِیَادَۃ) ’’مزید‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرۂ انور کا دیدار، اس کے کلام مبارک کا سماع، اس کی رضا کا فیضان اور اس کے قرب کا سرور ہے۔ اس ذریعے سے انھیں وہ بلند مقامات حاصل ہوں گے کہ تمنا کرنے والے ان کی تمنا کرتے ہیں اور سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ سے انھی مقامات کا سوال کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے محذورات کے دور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوۡهَهُمۡ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ﴾ ’’اور نہ چڑھے گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ رسوائی‘‘ یعنی انھیں کسی لحاظ سے بھی کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ جب کوئی ناگوار امر واقع ہوتا ہے تو یہ ناگوار امر اس کے چہرے پر ظاہر ہو جاتا ہے اور چہرہ تغیر اور تکدر کا شکار ہو جاتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی حالت ایسے ہوگی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾(المصطففین: 83؍24) ’’تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازگی معلوم کر لے گا۔‘‘ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ﴾ ’’یہی ہیں جنت میں رہنے والے‘‘ ﴿هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ جنت سے منتقل ہوں گے نہ اس سے دور ہوں گے اور نہ وہ تبدیل ہوں گے۔

26

۞ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌۭ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌۭ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، طرف سیدھی راہ کے (25) واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کیں نیکیاں ، نیک بدلہ (جنت) ہے اور مزید (دیدار الٰہی) ہےاور نہیں ڈھانپے گی ان کے چہروں کو سیاہی اور نہ ذلت، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (26)

[25] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لیے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کے لیے ہدایت کو مخصوص کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لیے اپنی رحمت کو مختص کر دیتا ہے، یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کر دینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل، ہمیشہ باقی رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں ۔

[26] اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلایا تو گویا ان نفوس کو ان اعمال کا اشتیاق پیدا ہوا جو ان کو اس گھر میں پہنچانے کے موجب ہیں ۔ فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی اور مزید ہے‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیا یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مراقبہ اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی عبادت کی اور مقدور بھر اس عبودیت کو قائم رکھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں سے احسان قولی اور احسان فعلی کے ساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ مالی اور بدنی احسانات سے کام لیا، نیکی کا حکم دیا، برائی سے روکا، جہلا کو تعلیم دی، روگردانی کرنے والوں کی خیر خواہی کی، نیکی اور احسان کے دیگر تمام پہلوؤں پر عمل کیا۔یہی وہ لوگ ہیں جو احسان کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور انھی کے لیے (الحسنی) ہے یعنی ایسی جنت جو اپنے حسن و جمال میں کامل ہے۔ مزید برآں ان کے لیے اور بھی انعام ہے یہاں (زِیَادَۃ) ’’مزید‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرۂ انور کا دیدار، اس کے کلام مبارک کا سماع، اس کی رضا کا فیضان اور اس کے قرب کا سرور ہے۔ اس ذریعے سے انھیں وہ بلند مقامات حاصل ہوں گے کہ تمنا کرنے والے ان کی تمنا کرتے ہیں اور سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ سے انھی مقامات کا سوال کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے محذورات کے دور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوۡهَهُمۡ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ﴾ ’’اور نہ چڑھے گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ رسوائی‘‘ یعنی انھیں کسی لحاظ سے بھی کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ جب کوئی ناگوار امر واقع ہوتا ہے تو یہ ناگوار امر اس کے چہرے پر ظاہر ہو جاتا ہے اور چہرہ تغیر اور تکدر کا شکار ہو جاتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی حالت ایسے ہوگی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾(المصطففین: 83؍24) ’’تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازگی معلوم کر لے گا۔‘‘ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ﴾ ’’یہی ہیں جنت میں رہنے والے‘‘ ﴿هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ جنت سے منتقل ہوں گے نہ اس سے دور ہوں گے اور نہ وہ تبدیل ہوں گے۔

27

وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍۢ ۖ كَأَنَّمَآ أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

اور وہ لوگ جنھوں نے کیے برے کام تو بدلہ برائی کا اس (برائی) کے مثل ہی ہےاور ڈھانپ لے گی ان کو ذلت ، نہیں ہو گا واسطے ان کے، اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا، (یوں محسوس ہوگا) گویا کہ اڑھا دیے گئے ان کے چہروں کو ٹکڑے رات کے جبکہ وہ اندھیری ہو، یہی لوگ ہیں اہل دوزخ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (27)

[27] اصحاب جنت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا کہ ان کی کل کمائی جس کا انھوں نے دنیا میں اکتساب کیا، برے اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے، مثلاً:کفر کی مختلف انواع، انبیا کی تکذیب اور گناہ کی مختلف اقسام۔ ﴿ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثۡلِهَا﴾ ’’تو برائی کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی جزا دی جائے گی جو ان کے مختلف احوال اور ان کے برے اعمال کے مطابق بری ہوگی۔ ﴿وَتَرۡهَقُهُمۡ ﴾ ’’اور ان کو ڈھانک لے گی۔‘‘ ﴿ ذِلَّةٌ﴾ ’’رسوائی‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ذلت اور اللہ کے عذاب کا خوف ہوگا۔ کوئی ان سے اس خوف کو دور نہیں کر سکے گا اور نہ کوئی بچانے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے گا۔یہ باطنی ذلت ان کے ظاہر میں بھی سرایت کر جائے گی اور ان کے چہرے کی سیاہی بن جائے گی۔ ﴿كَاَنَّمَاۤ اُغۡشِيَتۡ وُجُوۡهُهُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّيۡلِ مُظۡلِمًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’گویا کہ ڈھانک دیے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ ان دو گروہوں کے احوال میں کتنا فرق ہے اور دونوں کے درمیان کتنا بعد اور تفاوت ہے! ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ۰۰اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ۰۰وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌۙ۰۰تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾(القیامۃ: 75؍22-25) ’’اس روز بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کا دیدار کر رہے ہوں گے اور بہت سے چہرے اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان پر مصیبت نازل ہونے والی ہے۔‘‘ ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ مُّسۡفِرَةٌۙ۰۰ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌۚ۰۰وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌؕ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾(عبس: 80؍38-42) ’’بہت سے چہرے اس روز روشن اور خنداں و شاداں ہوں گے اور کتنے ہی چہرے ہوں گے جو گرد سے اٹے ہوئے ہوں گے سیاہی نے ان کو ڈھانک رکھا ہوگا۔ یہ فجار اور کفار ہیں ۔‘‘

28

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

اور (یاد کرو) جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان کو، سب کو، پھر کہیں گے ہم ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شرک کیا تھا، (ٹھہرے رہو) اپنی اپنی جگہ پر تم اور تمھارے شریک (معبودان باطلہ)، پھر ہم جدائی ڈال دیں گے ان کے درمیان اور کہیں گے ان کے شریک (معبود) نہیں تھے تم ہماری عبادت کرتے (28) پس کافی ہے اللہ گواہ درمیان ہمارے اور درمیان تمھارے، بلاشبہ تھے ہم تمھاری عبادت سے بالکل غافل (29) وہاں جانچ (جان) لے گا ہر نفس، جو کچھ اس نے کیا تھا پہلے (دنیا میں ) اور وہ لوٹائے جائیں گے طرف اللہ کی، جو مالک ہے ان کا حقیقی اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(30)

[28]﴿وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔‘‘ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَؔكَآؤُكُمۡ﴾ ’’پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمھارے شریک‘‘ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو تاکہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ﴿ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ہم بُعد بدنی اور بُعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لیے خالص محبت و مودت رکھتے تھے۔ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿ وَقَالَ شُرَؔكَآؤُهُمۡ﴾ ’’اور ان کے شریک کہیں گے۔‘‘ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے‘‘ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔

[29]﴿ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ اِنۡ كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کافی ہے گواہ، ہمارے اور تمھارے درمیان، یقینا ہم تمھاری عبادت سے بے خبر تھے۔‘‘ ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمھیں اس کی طرف بلایا تھا بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمھیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا ﴿ اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یس: 36؍60) ’’اے اولاد آدم! کیا میں نے تمھیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سباء:34؍40-41) ’’اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے، ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کی بات مانتے تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، انبیائے کرام علیہ السلام اور اولیائے عظام وغیرہم قیامت کے روز ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براء ت میں سچے ہوں گے۔

[30] تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا …

29

فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَٰفِلِينَ

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے

اور (یاد کرو) جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان کو، سب کو، پھر کہیں گے ہم ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شرک کیا تھا، (ٹھہرے رہو) اپنی اپنی جگہ پر تم اور تمھارے شریک (معبودان باطلہ)، پھر ہم جدائی ڈال دیں گے ان کے درمیان اور کہیں گے ان کے شریک (معبود) نہیں تھے تم ہماری عبادت کرتے (28) پس کافی ہے اللہ گواہ درمیان ہمارے اور درمیان تمھارے، بلاشبہ تھے ہم تمھاری عبادت سے بالکل غافل (29) وہاں جانچ (جان) لے گا ہر نفس، جو کچھ اس نے کیا تھا پہلے (دنیا میں ) اور وہ لوٹائے جائیں گے طرف اللہ کی، جو مالک ہے ان کا حقیقی اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(30)

[28]﴿وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔‘‘ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَؔكَآؤُكُمۡ﴾ ’’پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمھارے شریک‘‘ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو تاکہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ﴿ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ہم بُعد بدنی اور بُعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لیے خالص محبت و مودت رکھتے تھے۔ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿ وَقَالَ شُرَؔكَآؤُهُمۡ﴾ ’’اور ان کے شریک کہیں گے۔‘‘ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے‘‘ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔

[29]﴿ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ اِنۡ كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کافی ہے گواہ، ہمارے اور تمھارے درمیان، یقینا ہم تمھاری عبادت سے بے خبر تھے۔‘‘ ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمھیں اس کی طرف بلایا تھا بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمھیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا ﴿ اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یس: 36؍60) ’’اے اولاد آدم! کیا میں نے تمھیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سباء:34؍40-41) ’’اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے، ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کی بات مانتے تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، انبیائے کرام علیہ السلام اور اولیائے عظام وغیرہم قیامت کے روز ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براء ت میں سچے ہوں گے۔

[30] تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا …

30

هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّآ أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا

اور (یاد کرو) جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان کو، سب کو، پھر کہیں گے ہم ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شرک کیا تھا، (ٹھہرے رہو) اپنی اپنی جگہ پر تم اور تمھارے شریک (معبودان باطلہ)، پھر ہم جدائی ڈال دیں گے ان کے درمیان اور کہیں گے ان کے شریک (معبود) نہیں تھے تم ہماری عبادت کرتے (28) پس کافی ہے اللہ گواہ درمیان ہمارے اور درمیان تمھارے، بلاشبہ تھے ہم تمھاری عبادت سے بالکل غافل (29) وہاں جانچ (جان) لے گا ہر نفس، جو کچھ اس نے کیا تھا پہلے (دنیا میں ) اور وہ لوٹائے جائیں گے طرف اللہ کی، جو مالک ہے ان کا حقیقی اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(30)

[28]﴿وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔‘‘ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَؔكَآؤُكُمۡ﴾ ’’پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمھارے شریک‘‘ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو تاکہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ﴿ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ہم بُعد بدنی اور بُعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لیے خالص محبت و مودت رکھتے تھے۔ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿ وَقَالَ شُرَؔكَآؤُهُمۡ﴾ ’’اور ان کے شریک کہیں گے۔‘‘ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے‘‘ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔

[29]﴿ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ اِنۡ كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کافی ہے گواہ، ہمارے اور تمھارے درمیان، یقینا ہم تمھاری عبادت سے بے خبر تھے۔‘‘ ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمھیں اس کی طرف بلایا تھا بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمھیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا ﴿ اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یس: 36؍60) ’’اے اولاد آدم! کیا میں نے تمھیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سباء:34؍40-41) ’’اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے، ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کی بات مانتے تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، انبیائے کرام علیہ السلام اور اولیائے عظام وغیرہم قیامت کے روز ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براء ت میں سچے ہوں گے۔

[30] تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.