Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 109

21

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں

مکہ کے لوگ جب مسلسل انکار کی روش پر قائم رہے تو خدا نے ان پر قحط بھیجا جو سات سال مسلسل رہا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد ختم ہوا۔ یہ ایک نشانی تھی جس سے انھیں یہ سبق لینا چاہیے تھا کہ رسول کا انکار کرنے کے بعد وہ خدائی پکڑ کی زد میں آجائیں گے۔ مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب تک قحط رہا الحاح وزاری کرتے رہے اور جب قحط رخصت ہوا تو کہنے لگے کہ یہ تو زمانہ کی گردشیں ہیں جو ہرایک کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ اس کارسول کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق نہیں۔

پیغمبر سے لوگ نشانی مانگتے ہیں ۔ مگر اصل سوال نشانی کے ظہور کا نہیں بلکہ اس سے سبق لینے کا ہے۔ کیوں کہ نشانی صرف دیکھنے کے لیے ہوتی ہے وہ مجبور کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ نشانی ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتاہے کہ وہ اس کو مانے یا کوئی جھوٹی توجیہہ نکال کر اسے رد کردے۔

تاہم جب خدا کی آخری نشانی ظاہر ہوتی ہے تو اس کے مقابلہ میں انسان کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ آخری نشانی اتمام حجت کے بعد خدا کی عدالت بن کر آتی ہے اور وہ مختلف پیغمبر وںکے لیے مختلف صورتوں میں آتی ہے۔ پیغمبر آخرالزماں کے لیے مختلف مصلحتوں کی بنا پر یہ نشانی اس صورت میں ظاہر ہوئی کہ منکرین کو مغلوب کرکے مومنین کو ان کے اوپر غالب کردیاگیا۔ شاہ عبد القادر صاحب اس سلسلہ میں موضح القرآن میں لکھتے ہیں ’’یعنی اگر کہیں کہ ہم کیسے جانیں کہ تمھاری بات سچ ہے۔ فرمایا کہ آگے حق تعالی اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل اور برباد ہوجائیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے۔ اور ہر بار مخالف ذلیل ہوںتو فیصلہ ہوجائے۔ حالاں کہ فیصلہ کا دن دنیا میں نہیں‘‘۔

آدمی جب سرکشی کرتاہے اور اس کی وجہ سے اس کا کچھ بگڑتاہوا نظر نہیں آتا تو وہ اور بھی زیادہ ڈھیٹ ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہے۔ حالانکہ یہ عین خدا کی تدبیر ہوتی ہے۔ خدا سرکش آدمی کو ڈھیل دیتاہے تاکہ وہ بے فکر ہو کر خوب سرکشی کرے۔ اور اس سرکشی کے دوران خدا کے کارندے پردہ میں رہ کر خاموشی کے ساتھ اس کے تمام اقوال وافعال کو لکھتے رهتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو اچانک موت کا فرشتہ ظاہر ہو کر اس کو پکڑ لیتاہے تاکہ اس کو اس کے اعمال کا حساب دینے کے ليے خدا کے سامنے حاضر کردے۔

22

هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں

انسان ایک بے حد حساس وجود ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان پر جب تکلیف کا کوئی لمحہ آتا ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ فکر کے لمحات میں آدمی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتاہے جس کا اعتراف کرنے کے لیے وہ بے فکری کے لمحات میں تیار نہ ہوتا تھا۔

اس کی ایک مثال سمندر کا سفر ہے۔ سمندر میں سکون ہو اور کشتی منزل کی طرف رواں ہو تو اس کے مسافروں کے لیے یہ بڑا خوش گوار لمحہ ہوتاہے۔ اس وقت ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ درست ہے، اب اس کو کوئی بگاڑنے والا نہیں۔

اس کے بعد سمندری ہوائیں ا ٹھتی ہیں۔ پہاڑ جیسی موجیں مسافروں کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ ان کے درمیان بڑے سے بڑا جہاز بھی معمولی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اب ہلاکت کے سوا دوسرا کوئی انجام نہیں۔ اس وقت خدا کے منکرخدا کا اقرار کرلیتے ہیں۔ دیوتاؤں کو پوجنے والے خدائے واحد کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اپنی قوت اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرنے والے ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر صرف خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تجرباتی ثبوت ہے کہ توحید ایک فطری عقیدہ ہے۔ توحید کے سوا دوسرے تمام عقیدے بالکل بے بنیاد ہیں۔

یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خدا کو نہ ماننے کے لیے آدمی خواہ کتنا ہی فلسفہ پیش کرے، حقیقۃً اس قسم کی تمام باتیں بے فکری کی نظریہ سازی ہیں۔ انسان اگر جانے کہ دنیا کے مواقع محض وقتی طورپر اس کو امتحان کے لیے ديے گئےہیں تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے۔ اس کے ذہن سے تمام مصنوعی دیواریں گر جائیں اور ایک خدا کو ماننے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ رہے۔

وہ وقت آنے والا ہے جب انسان خدا کے جلال کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور تمام خدائی باتوں کا اقرار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مگر عقل مند وہ ہے جو موجودہ زندگی کے تجربات میںآنے والی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھ لے اور آج ہی اس بات کو مان لے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر کل کا ماننا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔

23

فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

انسان ایک بے حد حساس وجود ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان پر جب تکلیف کا کوئی لمحہ آتا ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ فکر کے لمحات میں آدمی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتاہے جس کا اعتراف کرنے کے لیے وہ بے فکری کے لمحات میں تیار نہ ہوتا تھا۔

اس کی ایک مثال سمندر کا سفر ہے۔ سمندر میں سکون ہو اور کشتی منزل کی طرف رواں ہو تو اس کے مسافروں کے لیے یہ بڑا خوش گوار لمحہ ہوتاہے۔ اس وقت ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ درست ہے، اب اس کو کوئی بگاڑنے والا نہیں۔

اس کے بعد سمندری ہوائیں ا ٹھتی ہیں۔ پہاڑ جیسی موجیں مسافروں کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ ان کے درمیان بڑے سے بڑا جہاز بھی معمولی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اب ہلاکت کے سوا دوسرا کوئی انجام نہیں۔ اس وقت خدا کے منکرخدا کا اقرار کرلیتے ہیں۔ دیوتاؤں کو پوجنے والے خدائے واحد کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اپنی قوت اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرنے والے ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر صرف خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تجرباتی ثبوت ہے کہ توحید ایک فطری عقیدہ ہے۔ توحید کے سوا دوسرے تمام عقیدے بالکل بے بنیاد ہیں۔

یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خدا کو نہ ماننے کے لیے آدمی خواہ کتنا ہی فلسفہ پیش کرے، حقیقۃً اس قسم کی تمام باتیں بے فکری کی نظریہ سازی ہیں۔ انسان اگر جانے کہ دنیا کے مواقع محض وقتی طورپر اس کو امتحان کے لیے ديے گئےہیں تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے۔ اس کے ذہن سے تمام مصنوعی دیواریں گر جائیں اور ایک خدا کو ماننے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ رہے۔

وہ وقت آنے والا ہے جب انسان خدا کے جلال کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور تمام خدائی باتوں کا اقرار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مگر عقل مند وہ ہے جو موجودہ زندگی کے تجربات میںآنے والی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھ لے اور آج ہی اس بات کو مان لے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر کل کا ماننا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔

24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًۭا فَجَعَلْنَٰهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

دنیا کی زندگی امتحان کے لیے ہے۔ اس لیے انسان کو یہاں مکمل آزادی اور ہر قسم کے کھلے مواقع ديے گئے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جس قسم کا مستقبل چاہے اپنے ليے بنائے۔ مگر انھیں حالات کے درمیان ایسے واقعات بھی رکھ ديے گئے ہیں جو سوچنے والوں کے ليے نصیحت کا کام کرتے ہیں، جو اس حقیقت کی نشاندہی کررہے ہیں کہ یہ سب کچھ محض وقتی ہے اور بہت جلد اس سے چھن جانے والا ہے۔

انھیں میں سے ایک زمین کی سرسبزی کا واقعہ ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو زمین ہر قسم کی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے۔ آدمی ان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ معاملہ پوری طرح اس کے قابو میں ہے اور بہت جلد وہ تیار فصل کا مالک بننے والا ہے۔ عین اس وقت اچانک کوئی آفت آجاتی ہے۔ مثلاً بگولا آگیا، اولے پڑ گئے، ٹڈی دل پہنچ گیا اور ایک لمحہ میں ساری فصل کا خاتمہ کردیا۔

یہی حال انسانی زندگی کا ہے۔ آدمی ایک عمدہ جسم لے کر پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے اسباب اس کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ اپنے لیے ایک کامیاب اور شان دار زندگی بنا لیتاہے۔ اب اس کے اندر ایک اعتماد پیدا ہوجاتاہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا معاملہ اس کے اپنے اختیا رمیں ہے۔ اس کے بعد کسی دن یا کسی رات میں اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ اپنے آپ کو بااختیار سمجھنے والا یکایک اپنے کو اس حال میں پاتا ہے کہ مجبوری اور بے اختیاری کے سوا اس کے پاس اور کوئی سرمایا نہیں — آدمی اگر اس حقیقت کو سامنے رکھے تو وہ دنیا میں کبھی سرکش نہ بنے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔

25

وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔

راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941

آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

26

۞ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌۭ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌۭ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔

راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941

آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

27

وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍۢ ۖ كَأَنَّمَآ أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔

راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941

آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

28

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔

یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔

موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

29

فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَٰفِلِينَ

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔

یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔

موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

30

هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّآ أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔

یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔

موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.