Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 109

31

قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟

قل من یرزقکم من السماء والارض آپ پوچھئے کہ آسمان سے (پانی برسا کر اور زمین سے سبزہ پیدا کر کے) تم کو کون رزق دیتا ہے۔ یا یہ مطلب کہ آسمان اور زمین والوں میں کون تم کو رزق دیتا ہے۔

امن یملک السمع والابصار یا وہ کون ہے جو تمہارے کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ‘ یعنی کون تم کو سنا اور دکھا سکتا ہے۔ کس کی قدرت ہے کہ جو بات سنانی اور جو چیز دکھانی چاہے وہ تم کو سنا اور دکھا سکے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کس نے تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقت دی اور کس نے شنوائی اور بینائی کی تخلیق کی اور ان کو ٹھیک رکھا۔ یا یہ معنی ہے کہ باوجود کثرت حوادث و امراض کے کون تمہاری شنوائی اور بینائی کو محفوظ رکھتا ہے اور کون ان کو متاثر ہونے سے بچاتا ہے۔

ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی اور کون زندہ جاندار کو مردہ نطفہ اور انڈے سے اور نطفہ اور انڈے کو زندہ جاندار سے پیدا کرتا ہے۔

ومن یدبر الامر اور کون تمام امور کا انتظام کرتا ہے اور سب کاموں کے انجام و نتائج کو جانتا ہے۔

فسیقولون اللہ سو وہ (جواب میں) کہیں گے کہ (ایسا کرنے والا) اللہ ہے۔ یعنی ان امور کی نسبت وہ خودساختہ شریکوں کی طرف نہیں کرسکیں گے۔

فقل افلا تتقون تو ان سے کہئے : پھر شرک سے کیوں نہیں پرہیز کرتے۔ یعنی بےطاقت ‘ عاجز مخلوق کو اللہ قادر کے ساتھ معبودیت میں شریک کرتے تم کیوں نہیں ڈرتے ‘ اللہ کے عذاب کا خوف کیا تم کو نہیں۔

32

فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے۔ اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو

فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔

ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔

فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔

فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔

33

كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے

فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔

ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔

فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔

فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔

34

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو

قل ھل من شرکائکم من یبدوا الخلق ثم یعیدہ آپ پوچھئے کہ تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی مخلوق کو پیدا کر کے پھر دوبارہ بھی پیدا کرے۔ یعنی آغاز آفرینش وہی کرتا ہے ‘ پھر اس کو معدوم کر کے دوبارہ وہی پیدا کرتا ہے ‘ ایسا اس کے سوا کون کرسکتا ہے۔

قل اللہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا (فنا کے بعد جیسا کہ پہلے تھا) ۔

فانی تؤفکون۔ پھر (حق سے باطل کی طرف) کہاں پھرے جا رہے ہو۔ یعنی اللہ کی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف کس طرح مڑتے ہو۔ دلیل کا تقاضا تو وحدت معبودیت اور نفی شرک ہے۔

35

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟

قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق آپ پوچھئے کہ کیا تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو (دلائل قائم کر کے اور پیغمبروں کو بھیج کر اور صحیح غور وفکر کی توفیق عطا فرما کر اور ہدایت کے طریقے پیدا کر کے) حق کا راستہ بتاتا ہے۔

قل اللہ یھدی الحق آپ (خود ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کی ہدایت کرتا ہے ‘ کسی اور میں اس کی طاقت نہیں۔

افن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی تو پھر کیا وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے جو امر حق کا راستہ بتاتا ہو یا وہ جس کو بغیر بتائے ہوئے خود ہی راستہ نہ سوجھے۔ یعنی جس وقت اللہ اس کو ہدایت کر دے تو وہ خود بھی ہدایت پا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت کرسکتا ہے۔ اللہ کی ہدایت کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ مشرکوں کے بڑے بڑے (مفروضہ) شرکاء کا یہی حال ہے۔ مسیح اور عزیر اور ملائکہ (جن کو مشرک اللہ کی عبادت میں شریک قرار دیتے ہیں) خود ہدایت یابی اور ہدایت دہی کیلئے اللہ کے محتاج ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہدایت کا معنی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہونا۔ اس آیت میں بتوں کی بےبسی ظاہر کی گئی ہے کہ وہ خود منتقل نہیں ہو سکتے ‘ دوسرے لوگ اٹھا کر ان کو منتقل کرتے ہیں ‘ پھر معبود ہونے کے کیسے مستحق ہو سکتے ہیں۔

فمالکم کیف تحکمون پس (اے کافرو ! ) تم کو کیا ہوگیا ‘ تم کس طرح ایسا فیصلہ کر رہے ہو جس کا باطل ہونا بالکل ظاہر ہے۔

36

وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ

اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے

وما یتبع اکثرھم الا ظنًا اور ان میں سے اکثر لوگ (اپنے عقائد میں) صرف گمان پر چلتے ہیں۔ ان کے گمان کی تائید نہ عقلی دلائل سے ہوتی ہے نہ نقلی براہین سے۔ محض بیہودہ خیالات اور غلط قیاس انہوں نے قائم کر رکھے ہیں۔ غائب کو حاضر پر اور خالق کو مخلوق پر ایک موہوم نقطۂ اشتراک کی وجہ سے قیاس کرنا ‘ ایک بےحقیقت گمان سے زائد نہیں۔

اکثر سے مراد سب ہی کافر ہیں (کیونکہ سب ہی کافر توہم پرست ہیں اور شرک کی کوئی معقول دلیل کسی کے پاس بھی نہیں ہے) یا اکثر سے وہ لوگ مراد ہیں جو تمیز اور غور و فکر کے مدعی ہیں اور کو رانہ تقلید کے منکر ہیں (کیونکہ جب اہل دانش وتمیز وہم کو فہم اور گمان کو یقین سمجھے ہوئے ہیں تو عام کافروں کی توہم پرستی تو بدرجۂ اولیٰ واضح ہے ‘ وہ تو مدعی دانش بھی نہیں ہیں) ۔

ان الظن لایغنی من الحق شیءًا بلاشبہ دماغی تک بندی ‘ علم اور اعتقاد حق کے مقابلہ میں بالکل بیمار ہے۔ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ‘ یا حق کا کوئی حصہ اس سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ اعتقادی مسائل میں محض دماغی تک بندی اور دوسروں کی (کورانہ) تقلید جائز نہیں بلکہ عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں علم یقینی حاصل کرنا ضروری ہے۔

ان اللہ علیم بما یفعلون۔ ان کی حرکتوں سے اللہ بخوبی واقف ہے۔ اس میں وعید ہے ان لوگوں کیلئے جو عقلی اور نقلی دلائل سے منہ موڑ کر تو ہم و تقلید کا اتباع کرتے ہیں۔

37

وَمَا كَانَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے

وما کان ھذا القرآن ان یفترٰی من دون اللہ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئے بغیر ازخود اس کو بنا لیا جائے اور ان کی طرف اس کی نسبت کردی جائے۔

ولکن تصدیق الذی بین یدیہ بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔

الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد یا رسول اللہ (ﷺ) کی ذات مبارک ہے ‘ یا گزشتہ کتب الٰہیہ (ترجمہ میں یہی بیان کیا ہے) یا قیامت ‘ یا بعثت نبوی جس کی خبر سابق کتابوں میں دے دی گئی تھی۔

و تفصیل الکتب لاریب فیہ من رب العٰلمین۔ اور احکام ضروریہ (الٰہیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے ‘

اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

تفصیل الکتاب (احکام ضروریہ کی تفصیل) یعنی لوح محفوظ میں اللہ کے احکام ‘ فرائض اور حلال و حرام کی تشریح ہے۔ اس کا بیان یہ قرآن ہے۔ لاَ رَیْبَ فِیْہِ یعنی اس میں کوئی بات شک کے قابل نہیں کیونکہ یہ گزشتہ آسمانی کتابوں کے بالکل موافق ہے۔

سابق آیت میں دماغی تک بندیوں کے اتباع کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس آیت میں واجب الاتباع کتاب کا ذکر ہے اور تنبیہ ہے کہ اس قرآن کا اتباع کیا جائے۔ اس کا اتباع لازم ہے۔

38

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو

ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے ازخود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم بھی اس کی طرح ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یعنی اگر میں نے اس کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی کوئی ایک سورت ہی ایسی بنا لاؤ جو بلاغت ‘ اسلوب عبات اور قوت معنی میں قرآن کی طرح ہو۔ آخر تم بھی میری طرح عرب اور قادر الکلام اور عبارت و اسلوب کے ماہر ہو۔

وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ اور اللہ کے علاوہ (اپنے مددگاروں میں سے) جس کو تم (اپنی مدد کیلئے) بلا سکتے ہو بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو کہ محمد (ﷺ) نے اس کو خود بنا لیا ہے۔ اس آیت میں قرآن کی عبارت اور معانی پر غور کرنے اور مناظرہ کیلئے مددگاروں کو بلانے کی دعوت دی گئی ہے ‘ اسلئے آگے فرمایا :

39

بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا

بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولا بانھم تاویلہ بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کے علم کا احاطہ انہوں نے نہیں کیا اور ابھی اس کی حقیقت ان کے سامنے نہیں آئی۔

یعنی ان کا کلام اور قرآن کی حقانیت سے انکار کسی غور و تحقیق پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن کی حقیقت کو جانے بغیر اور بلا غور و فکر کے فقط سنتے ہی انہوں نے قرآن کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ابھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کلام انسانی طاقت سے باہر ہے۔ قرآن نے جو غیب کی خبریں بتائی ہیں ‘ مبدء اور معاد سے آگاہی اور ثواب و عذاب کی اطلاع دی ہے ‘ ابھی تک اس کے ظہور کا موقع ہی نہیں آیا ہے۔ ان پر لازم تھا کہ کتب سابقہ کے عالموں سے پوچھتے کہ یہ باتیں جو قرآن بیان کر رہا ہے ‘ ان کی کتابوں میں بھی ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق سے یقیناً قرآن کی سچائی ان پر واضح ہوجاتی۔ قرآن کی عبارت اور تعلیم و معانی کا معجز ہونا ان لوگوں پر ظاہر ہو سکتا ہے جو غور کریں ‘ سوچیں اور قرآنی علوم کی تحقیق کریں۔ انہوں نے تو نہ الفاظ قرآن پر غور کیا نہ معانی کی تفتیش کی اور لگے فوراً انکار کرنے۔

لَمَّا یَأتِھِمْابھی تک اس کی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ لَمَّا اس جگہ توقع کا لفظ ہے جو قرآن کے اعجاز کے ظاہر ہونے کی امید دلا رہا ہے۔ چناچہ جب بار بار ان کو دعوت مقابلہ دی گئی اور پوری طاقتیں انہوں نے قرآن کے مقابلہ میں صرف کردیں اور تجربہ کرلیا اور مقابلہ کی طاقتوں نے کچھ کام نہ دیا تو قرآن کا معجز ہونا ان پر ظاہر ہوگیا۔ اسی طرح قرآن کی دی ہوئی خبریں بار بار سامنے آگئیں اور سچی ثابت ہوگئیں ‘ جیسے غُلِبَتِ الرُّوْمُ الخ میں ہے کہ رومی مغلوب ہوگئے لیکن عنقریب غالب ہوجائیں گے۔ چناچہ آئندہ رومی ‘ ایرانیوں پر غالب ہوگئے۔ یا جیسے تَبَّتْ یَدآ اَبِی لَھَبِ وَّتَبَّ میں ابولہب کی ہلاکت کی پیشین گوئی کی گئی اور وہ پوری ہو کر رہی۔ اس تجربہ کے بعد کچھ لوگ ایمان لے آے اور کچھ جذبۂ عناد کے زیر اثر کافر رہے۔ حقیقت ‘ معاندین کے سامنے بھی آگئی تھی ‘ وہ حقانیت کو پہچان چکے تھے۔ یَعْرِفُوْنَّہُ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَھُمْ ۔ دلوں سے ان کو بھی قرآن کی صداقت کا یقین ہوچکا تھا مگر عناداً ماننے سے انکار کردیا۔ وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُھُمْ ۔

کذلک کذب الذین من قبلھم اسی طرح (پیغمبروں اور اللہ کی کتابوں کی) تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی ان لوگوں نے قرآن کی جس طرح تکذیب کی ‘ اسی طرح ان سے پہلے کے کافروں نے اپنی اپنی الٰہی کتابوں اور خدائی فرستادوں کی تکذیب کی تھی۔

فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین۔ لیکن دیکھ لو کہ ان ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ یہ تنبیہ ہے قرآن کے منکروں کو کہ اگر یہ باز نہ آئے تو ان کا بھی وہی نتیجہ ہوگا جو گزشتہ منکرین کا ہوا۔

40

وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِٱلْمُفْسِدِينَ

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے

ومنھم من یؤمن بہ اور ان تکذیب کرنے والوں میں سے کچھ لوگ (غور و فکر کرنے کے بعد قرآن کی صداقت پر دلوں میں) ایمان رکھتے ہیں۔ یا یہ مطلب کہ آئندہ جب قرآن کی حقانیت ان پر واضح ہوجائے گی تو ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے اور کفر سے توبہ کریں گے۔ لَمَّا سے آئندہ مؤمن ہوجانے کی توقع دلائی تھی ‘ اس جملہ میں توقع پوری ہونے کی صراحت کردی۔

ومنھم من لا یؤمن بہ اور ان میں سے کچھ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ایمان نہ لانے کی وجہ یا تو ان کی انتہائی حماقت ہے ‘ یا یہ وجہ ہے کہ ان کا کفر پر مرناپہلے سے تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے ‘ اسلئے ایمان نہیں لائیں گے۔

وربک اعلم بالمفسدین۔ اور آپ کا رب ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔ یعنی ضد پر اڑنے والوں اور عناد کرنے والوں سے وہ خوب واقف ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.