Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 91–100 of 109

91

ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ

(جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا

اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ ۔۔ : کیا اب ؟ یہ اللہ کی طرف سے ڈانٹ تھی اور بتانا تھا کہ عذاب نازل ہوجانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں، فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ) [ المؤمن : ٨٥ ] ” پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ “ اور دیکھیے سورة یونس (٥١) اور نساء (١٨) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ ) [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر۔۔ : ٣٥٣٧، عن ابن عمر ]” بیشک اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا غرغرہ (جان نکلنے کی حالت) نہ ہو۔ “ - 3 فرعون کی سرکشی پر اللہ کے فرشتوں کو بھی اس قدر غصہ تھا کہ ابن عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا : ( قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ لَوْ رَأَیْتَنِیْ وَأَنَا آخِذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأُدُسُّہٗ فِيْ فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَۃَ أَنْ تُدْرِکَہُ الرَّحْمَۃُ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ٥؍٢٦، ح : ٢٠١٥۔ مسند طیالسی : ٢٦١٨۔ ترمذی : ٣١٠٨ ] ” مجھ سے جبریل (علیہ السلام) نے کہا، کاش آپ مجھے دیکھتے کہ میں سمندر کا سیاہ کیچڑ اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس خوف سے کہ کہیں اس کو رحمت نہ آپہنچے۔ “ - 3 یہ واقعہ دس محرم (عاشوراء) کو پیش آیا۔ ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، آپ نے فرمایا : ( مَا ھٰذَا ؟ قَالُوْا ھٰذَا یَوْمٌ صَالِحٌ، ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی اللّٰہُ بَنِيْ إِسْرَاءِیْلَ مِنْ عَدُوِّھِمْ ، فَصَامَہٗ مُوْسٰی قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْکُمْ ، فَصَامَہٗ وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ ) [ بخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء : ٢٠٠٤ ] ” یہ کیا ہے ؟ “ انھوں نے کہا : ” یہ ایک صالح دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن کا روزہ رکھا۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” پھر میں تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) پر حق رکھنے والا ہوں۔ “ چناچہ آپ نے اس (دن) کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ “ صحیح بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے : ( ھٰذَا یَوْمٌ ظَھَرَ فِیْہِ مُوْسَی عَلٰی فِرْعَوْنَ. فَقَال النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْھُمْ فَصُوْمُوْا ) [ بخاری، التفسیر، باب : (وجاوزنا ببني إسرائیل البحر ) : ٤٦٨٠ ] ” اس دن موسیٰ (علیہ السلام) فرعون پر غالب آئے تھے، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا :” تم ان (یہود) سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) پر حق رکھتے ہو، پس روزہ رکھو۔ “

92

فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةًۭ ۚ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ ۔۔ : ” نُنَجِّیْ “ ” نَجَا یَنْجُوْ “ سے باب تفعیل ہے۔ ” نَجَّاہ اللّٰہُ “ اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا۔ ” اَلنَّجْوَۃُ “ یا ” اَلنَّجَا “ اونچی جگہ یا ٹیلے کو بھی کہتے ہیں۔ ” نَجَّاہُ “ کا معنی اس صورت میں یہ ہوگا کہ اس نے اسے اونچی جگہ پھینک دیا، یعنی آج ہم تمہارے بےجان لاشے کو سمندر سے بچا لیں گے، یا اونچی جگہ پھینک دیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک عظیم نشانی بنے۔ ” اٰیۃً “ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی فرعون اور اس کی ساری فوج کے غرق ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش سمندر کے کنارے پر باہر نکال پھینکی، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے عظیم نشانی بنے اور بنی اسرائیل کے کمزور عقیدے والوں کو بھی خدائی کے دعوے دار کی حقیقت اور انجام آنکھوں سے دیکھنے کا موقع مل جائے اور فرعون اور اس کا سمندر میں غرق ہونے کا واقعہ بعد میں ہر اس شخص کے لیے قدرت کی عظیم نشانی بن جائے جو اس کو سنے یا پڑھے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ فرعون کی لاش مصر کے عجائب گھر میں اب تک محفوظ ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس کی لاش محفوظ نہ بھی رہے تو تاریخ اور قرآن میں اس واقعہ کا ذکر ہی بعد والوں کے لیے بطور عبرت اور نشانی کافی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب سبت کو بندر بنانے کے متعلق فرمایا : (فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ ) [ البقرۃ : ٦٦ ] ” تو ہم نے اسے (یعنی اس واقعہ کو) ان لوگوں کے لیے جو اس کے سامنے تھے اور جو اس کے پیچھے تھے ایک عبرت اور ایک نصیحت بنادیا۔ “ حالانکہ ان میں سے کسی مسخ شدہ بندر کی کوئی ممی کہیں موجود نہیں۔ الغرض یہ اس فرعون کی لاش نہ ہو تب بھی بعد والوں کے لیے اس واقعہ کے نشان عظیم ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ - 3 ہمارے شیخ محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں : ” آج تک جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر اس مقام کی نشان دہی کی جاتی ہے، جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ اس زمانے میں اس مقام کو جبل فرعون یا حمامہ فرعون کہا جاتا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابوزنیمہ (جہاں تانبے وغیرہ کی کانیں ہیں) سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، آج قاہرہ کے عجائب گھر میں جن فرعونوں کی لاشیں موجود ہیں ان میں سے ایک فرعون کی لاش کو اسی فرعون کی لاش بتایا جاتا ہے۔ ١٩٠٧ ء میں جب فرعونوں کی لاشیں دریافت ہوئی تھیں تو اس فرعون کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو سمندر کے کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی۔ “- شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” جیسا وہ بیوقوف ایمان لایا بےفائدہ ویسا ہی اللہ نے مرنے کے بعد اس کا بدن دریا سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا، تاکہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں۔ اس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ ؟ “ (موضح)- وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ : یعنی ان پر غور نہیں کرتے اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتے، اگر غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کی بساط کیا ہے ؟

93

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍۢ وَرَزَقْنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا

وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ ۔۔ :” مُبَوَّاَ “ (ٹھکانا) کی ” صِدْقً “ کی طرف اضافت کا مطلب اس کی تعریف ہے، یعنی بہترین باعزت ٹھکانا۔ اہل عرب جس چیز کی تعریف کرنا چاہیں اسے ” صِدْقٌ“ کی طرف مضاف کردیتے ہیں، جیسے کہتے ہیں : ” رَجُلُ صِدْقٍ “ ” سچ مچ کا آدمی۔ “ فرمایا : (اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ ) [ یونس : ٢ ] اور فرمایا : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ) [ بنی إسرائیل : ٨٠ ] یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو نہایت باعزت ٹھکانا، حکومت اور وافر صاف ستھری چیزیں کھانے کے لیے عطا فرمائیں۔ ان بنی اسرائیل سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مراد لینا تو مشکل ہے، کیونکہ وہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم پر جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار کی پاداش میں چالیس سال صحرائے سینا ہی میں بھٹکتے رہے تھے، البتہ ان کے بعد یوشع بن نون (علیہ السلام) کی قیادت میں نئی نسل نے فلسطین اور شام اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق فتح کیے، وعدہ یہ تھا : (يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ) [ المائدۃ : ٢١ ] ” اے میری قوم اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ “ پھر مصر پر بھی بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی، جیسا کہ فرمایا : (كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) [ الشعراء : ٥٩ ] ” ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔ “ پھر بنی اسرائیل پر حکومت اور غلامی کے کئی دور آئے، کبھی داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان حکمران آئے اور کبھی بخت نصر اور دوسرے کفار کے ہاتھوں ان کی پامالی ہوئی اور اس پامالی کا سبب ہمیشہ ان کا اختلاف بنا، جس کا باعث ان کی لاعلمی نہ تھا بلکہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ احبارو رہبان کو رب بنا کر مختلف سیاسی اور دینی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ احادیث میں ان کے بہتر (٧٢) فرقوں کا ذکر ہے، ان میں صحیح کون تھا اور غلط کون یہ فیصلہ اب قیامت کے دن رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔ - فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کی کتاب تورات کی صاف پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کا اتفاق تھا کہ خاتم النّبیین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آنے والے ہیں، کسی کا بھی اختلاف نہ تھا اور کوئی اس سے لا علم نہ تھا، بلکہ سب آپ کے آنے کے منتظر تھے اور آپ کے آنے کی دعا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ البقرۃ : ٨٩ ] ” حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا۔ “ مگر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کو پہچان لینے کے بعد محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کا اتفاق اختلاف میں بدل گیا۔ کسی نے کہا، وہ ہیں ہی نہیں جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی نے کہا یہ ہمارے نہیں بلکہ صرف امیوں کے رسول ہیں۔ بعض خوش نصیبوں نے ایمان قبول بھی کرلیا، بہرحال علم کے بعد اختلاف کا فیصلہ اب رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔

94

فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّۢ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ ۔۔ : اس سورت کا اصل موضوع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں سورت کے آخر میں پھر اصل موضوع کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ مشرکین عرب چونکہ ان پڑھ اور آسمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے، اس لیے ان کو توجہ دلائی کہ اگر تمہیں کوئی شک ہے، خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کرلو جو تورات وغیرہ کا آسمانی علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض یہ خطاب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے مگر مقصود مشرکین عرب کو توجہ دلانا ہے، ورنہ آپ کو اپنی رسالت پر شک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بعض اوقات ایک بات بطور فرض و تقدیر کی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ فی الواقع ایسا ہے، یعنی اگر فرض کریں آپ کو کوئی شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لیں، ان کی کتابوں میں آپ کا واضح ذکر خیر موجود ہے، پھر شک کیسا ؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ جب عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ تو وہ اپنے تفصیلی بیان میں یہ بھی کہیں گے : (اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ) [ المائدۃ : ١١٦ ] یعنی فرض کریں کہ میں نے یہ بات کہی تھی تو یا اللہ تجھ سے تو اوجھل نہیں رہ سکتی۔ مطلب صاف ہے کہ میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ شک تھا نہ آپ کو کسی اہل کتاب سے پوچھنے کی ضرورت تھی۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ” کُنْتَ فِی شَکٍ “ میں ہر انسان کو براہ راست خطاب ہے، کیونکہ یہ کتاب ہر ایک کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔

95

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے

وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا۔۔ : یہاں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے امت ہی کو سمجھایا جا رہا ہے۔

96

إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک ارادہ و اختیار دیا ہے، جس کے مطابق وہ نیکی یا بدی میں سے جس پر چاہے عمل کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو شروع سے اب تک واقع ہوا، اسی طرح وہ آئندہ ہونے والی ہر بات کا بھی پورا علم رکھتا ہے اور اس کی رو سے اسے پہلے ہی معلوم ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کون حق کو قبول کرے گا اور کون کفر کی راہ اختیار کرے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ازلی علم کو ” کَلِمَتُ رَبِّکَ “ کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر میں اور اللہ کی نافرمانی میں اس قدر غرق ہوجاتے ہیں کہ ان کی حق قبول کرنے کی استعداد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ وہ کسی صورت ایمان نہیں لاتے، بلکہ وہ کفر ہی پر مریں گے اور ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انھیں ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (١٦) ، یس (٧) اور زمر (١٩) ۔

97

وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءَايَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے

وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ ۔۔ : یعنی کوئی بھی نشانی یا معجزہ آجائے، وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ عذاب الیم دیکھ لیں، مگر اس وقت انھیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوا اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کفار کو اللہ کا عذاب دیکھنے پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دیکھیے سورة مومن (٨٥) اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر اس وقت ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ کفر کی روش پر چل نکلیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (٢٧، ٢٨) ۔

98

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍۢ

تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ۔۔ : یعنی کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو رسول کے عذاب سے ڈرانے پر ڈر جاتی اور عذاب آنے سے پہلے ایمان لے آتی، پھر اس کا ایمان اسے نفع دیتا، مگر ایسی کوئی بستی بھی نہ ہوئی، سب اس وقت ہی ایمان لائے جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا، سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے کہ یونس (علیہ السلام) کے کئی سال دعوت دینے کے باوجود جب وہ ایمان نہ لائے تو یونس (علیہ السلام) نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی اور انھیں آگاہ کردیا کہ تم پر عذاب آنے ہی والا ہے اور خود وہاں سے ناراض ہو کر نکل گئے۔ دیکھیے سورة انبیاء (٨٧) اور صافات (١٤٠) قوم جانتی تھی کہ یونس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کے نکل جانے سے وہ مزید ڈر گئے، اس لیے عذاب آنے سے پہلے ہی پوری بستی نے نہایت عاجزی کے ساتھ کفر سے توبہ کی اور یونس (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے، اب یہ ایمان چونکہ بروقت تھا، عذاب دیکھنے سے پہلے تھا، اس لیے اس ایمان نے انھیں یہ نفع دیا کہ ان سے عذاب ہٹا لیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی طبعی عمر تک دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔ سورة صافات کی آخری آیات میں بھی ان کے ایمان لانے اور اس کے نافع ہونے کا ذکر ہے۔ - 3 یہ کفار قریش اور اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ تمہیں یونس (علیہ السلام) کی قوم سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور عذاب سے پہلے ایمان لے آنا چاہیے، نہ کہ آل فرعون اور دوسری برباد ہونے والی قوموں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ - 3 تفسیر قاسمی میں ہے کہ یہ بات کہ عذاب کے بادل پہنچ گئے تھے، اندھیرا چھا گیا تھا، پھر انھوں نے توبہ کی، قرآن و حدیث میں کہیں مذکور نہیں اور نہ ہی عذاب آنے کے بعد ٹلتا ہے۔

99

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَءَامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ ۔۔ : یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فرشتوں کی طرح جنوں اور انسانوں کی فطرت بھی ایسی بنا دیتا کہ وہ کفر و نافرمانی کر ہی نہ سکتے، یا ان سب کے دل ایمان و طاعت کی طرف پھیر دیتا، لیکن اس طرح چونکہ جنوں اور انسانوں کو علیحدہ قسم کی حیثیت سے پیدا کرنے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ (دیکھیے ہود : ١١٨، ١١٩۔ فاطر : ٨) اس لیے اس نے اپنی مرضی سے ان کی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے کہ وہ عقل سے کام لے کر چاہیں تو ایمان و طاعت کا راستہ اختیار کریں یا چاہیں تو کفر و نافرمانی کا۔ - اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ : یعنی ایمان دل کا معاملہ ہے، اس پر کسی کو مجبور کیا جاسکتا ہی نہیں اور مجبور کرنا جائز بھی نہیں، فرمایا : (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّين) [ البقرۃ : ٢٥٦ ] ” دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ “ اگر آپ کسی کو زبردستی مسلمان بنا بھی لیں تو دل کی کیا ضمانت ہے کہ اس میں بھی ایمان آچکا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازراہ شفقت یہ زبردست خواہش تھی کہ اللہ کے سب بندے ایمان لے آئیں، اس لیے اس آیت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ یہ چونکہ ہونے والی بات نہیں، اس لیے آپ کیوں اپنے آپ کو رنج و کرب میں مبتلا کرتے ہیں ؟

100

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، یعنی دنیا کی نعمتوں میں بھی اگرچہ آدمی کی محنت کا دخل ہے، مگر اللہ کے اذن کے بغیر کوئی محنت نہ ہوسکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے، اس لیے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابوطالب، نوح (علیہ السلام) کا بیٹا اور نوح اور لوط (علیہ السلام) کی بیویاں اس کی مثال ہیں، اسی طرح بت گر آزر کا بیٹا ابراہیم، فرعون کی بیوی آسیہ، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اللہ کے اپنی مرضی سے ایمان کی نعمت عطا کرنے کی مثالیں ہیں۔- وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ : یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے انھی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انھی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لیے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اسی پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢٦، ٢٧) ۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.