Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 91–100 of 109

91

ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ

(جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا

Explained together with ayah 88

92

فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةًۭ ۚ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں

36: قانونِ قدرت یہ ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کا عذاب سر پر آکر آنکھوں سے نظر آنے لگے، یا جب کسی پر نزع کی حا لت طاری ہوجائے، تو توبہ کادروازہ بند ہوجاتا ہے، اور اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں ہوتا۔ اس لئے اب فرعون کے عذاب سے نجات پانے کی تو کوئی صورت نہیں تھی، لیکن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو محفوظ رکھا۔ وہ لاش سمندر کی تہہ میں جانے کے بجائے پانی کی سطح پر تیرتی رہی، تاکہ سب دیکھنے والے اُسے دیکھ سکیں۔ اتنی بات تو اس آیت سے واضح ہے۔ اب آخری زمانے کے مورخین نے یہ تحقیق کی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا، اُس کا نام منفتاح تھا اور اُس کی لاش صحیح سلامت دریافت ہوگئی ہے۔ اب تک یہ لاش قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے، اور سامان عبرت بنی ہوئی ہے۔ اگر یہ تحقیق درست ہے تو یہ آیتِ کریمہ قرآنِ کریم کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، کیونکہ آیت اُس وقت نازل ہوئی تھی جب لوگوں کو یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ فرعون کی لاش اب بھی محفوظ ہے۔ سائنسی طور پر انکشاف بہت بعد میں ہوا۔

93

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍۢ وَرَزَقْنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا

37: یعنی بنی اسرائیل کا عقیدہ ایک مدت تک دین حق کے مطابق ہی رہا، تورات اور انجیل میں آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی جو خبر دی گئی تھی، اس کے مطابق وہ یہ بھی مانتے تھے کہ آخر میں نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے ہیں، لیکن جب آسمانی کتابوں میں مذکور نشانیوں کے ذریعے یہ علم آگیا کہ وہ نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس وقت انہوں نے دین حق سے اختلاف شروع کردیا۔

94

فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّۢ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

38: اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ کو قرآنِ کریم کی سچائی میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا اس لئے درحقیقت سنانا دوسروں کو مقصود ہے کہ جب آپ کو یہ انتباہ کیا جارہا ہے تو دوسروں کو تو اور زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔

95

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے

Explained together with ayah 94

96

إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

Explained together with ayah 94

97

وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءَايَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے

Explained together with ayah 94

98

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍۢ

تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا

39: پچھلی آیتوں میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی تھی کہ کسی انسان کے لیے ایمان لانا اسی وقت کار آمد ہوتا ہے جب وہ موت سے پہلے اور عذاب الٰہی کا مشاہدہ کرنے سے ہپلے ایمان لائے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت ایمان لانا کار آمد نہیں ہوتا۔ اس اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ پچھلی جتنی قوموں پر عذاب آیا، ان سب کا حال یہ تھا کہ وہ عذاب کو دیکھنے سے پہلے ایمان نہیں لائے، اس لیے عذاب کا شکار ہوئے۔ البتہ ایک یونس (علیہ السلام) کی قوم ایسی تھی کہ وہ عذاب کے نازل ہونے سے ذرا پہلے ایمان لے آئی تھی۔ اس لیے اس کا ایمان منظور کرلیا گیا، اور اس کی وجہ سے اس پر آنے والا عذاب ہٹا لیا گیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ یہ ہوا تھا کہ جب وہ اپنی قوم کو عذاب کی پیشگوئی کر کے بستی سے چلتے گئے تو ان کی قوم کو ایسی علامتیں نظر آئیں جن سے انہیں حضرت یونس (علیہ السلام) کے انتباہ کے سچے ہونے کا یقین ہوگیا، چنانچہ وہ عذاب کے آنے سے پہلے ہی ایمان لے آئے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعے کی پوری تفصیل ان شاء اللہ سورۃ صافات (139:37) میں آئے گی۔ ان کے واقعے کا مختصر ذکر سورۃ انبیاء (87:21) اور سورۃ قلم (48:68) میں بھی آیا ہے۔

99

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَءَامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں

40: یعنی اللہ تعالیٰ زبردستی سب کو مومن بنا سکتا تھا۔ لیکن چونکہ دنیا کے دار الامتحان میں ہر شخص سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی اور اختیار سے ایمان لائے، اس لیے کسی کو زبردستی مسلمان کرنا نہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے، نہ کسی اور کے لیے جائز ہے۔

100

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے

41: اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کائنات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ لہذا اس کے بغیر کسی کا ایمان لانا بھی ممکن نہیں، لیکن جو شخص اپنی سمجھ اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار سے کام نہ لے، اس پرکفر کی گندگی مسلط ہوجاتی ہے

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.