Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 109

81

فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ ٱلسِّحْرُ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا

فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔

ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔

ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔

82

وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں

فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔

ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔

ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔

83

فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَىٰ خَوْفٍۢ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْرِفِينَ

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا

فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔

الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔

مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔

بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا آرڈر جاری کردیا تھا تو بعض اسرائیلی عورتوں نے اپنے نوزائیدہ بچے قبطی عورتوں کو ویسے ہی دے دیئے۔ ان بچوں نے قبطیوں کے پاس پرورش پائی اور جس روز حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے ‘ اس روز یہی اسرائیلی ایمان لائے تھے (جو نسلاً اسرائیلی تھے اور بظاہر قبطی زادے) ۔

بعض مفسرین کا قول ہے کہقَوْمِہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قوم فرعون کے کچھ قلیل آدمی حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ فرعون کی بی بی اور فرعون کا خزانچی اور خزانچی کی بی بی اور فرعون کی بی بی کے بالوں میں کنگھا کرنے والی خادمہ اور مؤمن اٰل فرعون (جس کا تذکرہ سورة یٰسین کی آیت وَجَاءَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃٍ رَجُلٌ لَیَّسْغٰی میں آیا ہے) انہی لوگوں میں سے تھے اور یہی چند اہل ایمان آیت میں مراد ہیں (اخرجہ ابن جریر) دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : وہ ستر آدمی مراد ہیں جن کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ یہ لوگ اپنی ننہال کے پیرو ہوگئے تھے۔ فراء نے کہا : ان کو ذریت اسلئے کہا گیا کہ ان کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ جس طرح بعض اہل فارس یمن میں آ بسے تھے ‘ ان کی اولاد کو ابناء فارس کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے باپ دوسرے ملک سے تھے اور مائیں دوسرے ملک سے۔

علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم ڈرتے ڈرتے فرعون اور اپنے حاکموں سے کہ (کہیں ایمان کی اطلاع فرعون کو اگر مل گئی تو) ان کو سخت مصیبت میں ڈال دے گا۔

ملاءھم کی ضمیر جمع فرعون کی طرف راجع ہے اور اظہار تعظیم کیلئے ہے۔ یا فرعون سے مراد ہیں اس کے متبعین ‘ یعنی فرعونی لوگ۔ جیسے ربیعہ اور مضر سے مراد ہوتے ہیں ربیعہ اور مضر کی نسل کے قبائل۔ یا ذریت کی طرف راجع ہے ‘ یعنی ذریعت مؤمنہ کو فرعون اور اپنے قبطی حکام سے ڈر تھا۔ یا قوم کی طرف راجع ہے۔

وان فرعون لعال فی الارض وانہ لمن المسرفین۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ فرعون ملک (مصر) میں اونچا (طاقتور ‘ مغرور) تھا اور (اپنی) حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ کہ باوجود مخلوق اور محتاج ہونے کے ملوکیت سے آگے بڑھ کر ربوبیت کا مدعی بن بیٹھا تھا اور انبیاء زادوں کو باندی غلام بنا رکھا تھا۔

84

وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ

اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو

وقال موسیٰ یقوم کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین۔ اور موسیٰ نے (جب مؤمنوں کو خوف زدہ دیکھا تو) کہا : اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرو (فرعون اور اس کے آدمیوں سے مت ڈرو) اگر (ا اللہ کے فیصلہ کو) مانتے ہو اور مخلص ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ کی جزاء محذوف ہے اور اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ کی جزاء فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا ہے۔ ایمان وجوب توکل کا مقتضی ہے ‘ اسلئے تَوَکَّلُوْا کا اٰمَنْتُمْ سے تعلق ہے اور جب تک دلوں میں اخلاص نہ ہو اور اپنی ہستی کو فیصلۂ خداوندی کے سپرد نہ کردیا جائے ‘ اس وقت تک حصول توکل نہیں ہو سکتا۔ توکل نفسانی خواہشات کو احکام الٰہی کے ساتھ مخلوط کرنے کی صورت میں حاصل نہیں ہوتا۔ توکل صوفیہ کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔

85

فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال

فقالوا علی اللہ توکلنا (چونکہ وہ لوگ مخلص تھے اور اللہ کے پیغمبر کے سچے صحابی تھے ‘ اسلئے) انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دعا کی اور بولے۔

ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ان ظالم لوگوں کا تختۂ مشق نہ بنا۔ فتنہ سے مراد ہے نشانۂ عذاب ‘ نزول عذاب کا مقام۔ یعنی اے ہمارے رب ! ان ظالموں کو ہم پر قابو نہ دینا کہ ہم کو یہ اپنے عذاب کا نشانہ بنا سکیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کا سبب ہم کو نہ بنانا کہ براہ راست تیرے امتحان میں ہم مبتلا ہوجائیں یا فرعون کے ہاتھوں ہم پر عذاب نازل ہوجائے اور پھر فرعون والے کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتے اور اس کہنے سے ان کا کفر اور ترقی پر ہوجائے۔

86

وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش

ونجنا برحمتک من القوم الکٰفرین۔ اور ہم کو ان کافروں کے گروہ سے اپنی رحمت سے نجات عطا کر۔

یعنی ان کی مکاری اور سازش اور نحوست سے نجات دے۔

دعا سے پہلے توکل کا ذکر کرنا بتا رہا ہے کہ دعا کرنے والے پر سب سے پہلے اللہ پر بھروسہ رکھنا لازم ہے تاکہ اس کی دعا قبول ہو سکے۔

میں کہتا ہوں : صوفی کیلئے توکل تو ان صفات میں سے ہے جو صوفی کے اندر ہونی لازم ہیں۔ دعاء تو لوازم میں سے نہیں ‘ بیرونی عوارض میں سے ہے (اگر صوفی دعاء کرتا ہے تو بہتر ہے۔ صوفیت کا حال اس کا مقتضی ہے لیکن لازم نہیں ‘ اور توکل صوفی کی لازمی خصوصیت ہے) ۔

87

وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًۭا وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُمْ قِبْلَةًۭ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو

واوحینا الی موسیٰ واخیہ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کے اور اس کے بھائی (ہارون) کے پاس۔

ان تبوا لقومکما بمعصر بیوتا کہ تم دونوں اپنے لوگوں کے مصر میں گھر مقرر کرلو۔

یعنی کچھ مکان مقرر کرلو کہ سکونت اور عبادت کیلئے تمام مکانوں کو چھوڑ کر مقررہ گھروں کی طرف رجوع کرو۔

بغوی نے لکھا ہے : اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ پہلے بنی اسرائیل صرف گرجوں اور خانقاہوں میں نماز پڑھا کرتے تھے ‘ لیکن حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد فرعون کے حکم سے تمام عبادت خانے ڈھا دئیے گئے اور بنی اسرائیل کو وہاں نماز پڑھنے کی ممانعت ہوگئی تو اللہ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اپنے گھروں کے اندر ہی مسجدیں بنا لو اور وہیں نماز پڑھا کرو۔ ابراہیم نخعی کا یہی قول ہے اور عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔

مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کو فرعون کی طرف سے ڈر تھا کہ جامع مسجدوں میں نماز پڑھیں گے تو فرعون پکڑوا کر سزا دے گا ‘ اسلئے اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ بنی اسرائیل اپنے گھروں میں کعبے کے رخ پر مسجدیں بنا لیں اور چھپ کر وہاں نمازیں پڑھا کریں۔

واجلعوا بیوتکم قبلۃ اور تم سب بنا لو (مقرر کردہ) گھروں کو قبلہ رخ نماز کی جگہ۔ قبلہ سے مراد ہے نماز کی جگہ جو قبلہ رخ ہو ‘ یعنی کعبہ کی چھت پر ہو۔ ابن جریح نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کا قبلۂ عبادت کعبہ تھا۔

واقیموا الصلوۃ اور اس میں نماز قائم کرو۔ تاکہ کفار غلبہ حاصل کر کے ان کو ایذاء نہ پہنچائیں۔

وبشر المؤمنین۔ اور (اے موسیٰ ! ) تم ایمانداروں کو بشارت دے دو ۔ کہ اللہ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے گا اور تم کو ملک میں ان کا جانشین بنا دے گا ‘ اور آخرت میں تم کو جنت عطا فرمائے گا۔ شروع کلام میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ‘ دونوں کو خطاب کیا ‘ پھر ان دونوں کو مع قوم کے مخاطب بنایا کیونکہ دونوں حضرات کی کوشش اور سرداران قوم کے مشورہ سے گھروں کے اندر مسجدیں ہو سکتی تھیں اور چونکہ ہر شخص پر گھروں کے اندر نماز کی جگہ مقرر کرنا اور وہاں ادائے صلوٰۃ کرنا لازم تھا ‘ اسلئے سارے مؤمنوں کو خطاب فرمایا۔ آخر میں صرف حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا کیونکہ آپ ہی صاحب شریعت تھے اور قوم کو بشارت دینا آپ ہی کا فریضہ تھا۔

بغوی نے لکھا ہے کہ بشر سے خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے۔

88

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةًۭ وَأَمْوَٰلًۭا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَىٰٓ أَمْوَٰلِهِمْ وَٱشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں

وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے مالک ! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش عطا فرمایا ہے۔

زینت سے مراد اسباب زینت ‘ لباس ‘ زیور ‘ فرش فرنیچر ‘ استعمال کا سامان ‘ سواریاں ‘ نوکر چاکر اور خدمتگار وغیرہ۔

واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک اور بہت مال دنیوی زندگی میں ‘ اے ہمارے رب ! (اس کا نتیجہ یہ ہے) کہ وہ تیرے راستے سے بہکا دیں۔

لِیُضِلُّوْا میں لام عاقبت ہے (یعنی وہ لام جو نتیجہ پر داخل ہوتا ہے اور لام سے پہلے کا کلام بعد والے کلام کا سبب ہوتا ہے) مطلب یہ کہ تیرے دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گمراہ اور گمراہ کن ہوگئے۔ جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عُدُوًّا وَّحَزَنًا فرعون کے آدمیوں نے موسیٰ کو پا لیا کہ موسیٰ (نتیجہ میں) ان کے دشمن اور ان کے حزن کا سبب ہوجائیں۔

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ لام بمعنی کَےْ ہے (تاکہ) یعنی تو نے یہ سارا مال و متاع دے کر ان کو ڈھیل دی ہے تاکہ وہ گمراہی پر جمے رہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ چونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے خداداد مال و متاع اور جاہ و حشم کو گمراہی کا ذریعہ بنا رکھا تھا تو گویا ان کو دیا ہی گیا اسلئے تھا کہ وہ گمراہ ہوجائیں اور دوسروں کو بہکائیں۔ اظہار عجز اور شدت زاری کیلئے رَبَّنَا کو بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا۔

شیخ ابو منصور ماتریدی نے فرمایا کہ اللہ جانتا تھا کہ کافر دوسرے لوگوں کو اللہ کے راستے سے بہکائیں گے ‘ اسلئے ان کو دنیا کا مال و متاع عطا فرما دیا تاکہ وہ اس کے راستے سے لوگوں کو بہکائیں (گویا مال دینے کی غرض ہی یہ تھی کہ وہ گمراہ ہوں اور گمراہ کریں) جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْآ اِثْمًا ہم ان کو ڈھیل دیتے ہیں تاکہ گناہوں میں ترقی کریں۔ اس صورت میں یہ آیت معتزلہ کے مسلک کے خلاف ایک واضح شہادت ہوجائے گی۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ بندوں کیلئے جو امر زیادہ نفع بخش ہو ‘ اس کا کرنا اللہ پر واجب ہے (غیر مفید اور ضرررساں کام اللہ نہیں کرتا ‘ بندہ خود اس کی تخلیق کرتا ہے) ۔

بیضاوی نے لکھا : رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ (الگ جملہ انشائیہ ہے ‘ اس) میں لِیُضِلُّوْا امر کا صیغہ ہے اور کافروں کیلئے بددعا ہے۔

ربنا اطمس علی اموالھم اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو (تباہ کر کے) مٹا دے (مجاہد) ۔ بعض اہل علم نے کہا : طْمَسْ سے مراد ہے صورت مسخ کردینا ‘ ہیئت بگاڑ دینا۔ قتادہ کا قول ہے کہ ان کا سارا مال ‘ کھیتیاں اور جواہر پتھر بنا دئیے گئے۔ نقوش اور شکل وہی تھی جو اصلی چیزوں کی تھی مگر سب چیزیں پتھر کی ہوگئیں تھیں اور پھٹ کر کسی کے دو اور کسی کے تین ٹکڑے ہوگئے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک تھیلا منگوایا ‘ اس میں فرعون والوں کی کچھ باقی ماندہ چیزیں تھیں۔ انڈا نکالا تو وہ بھی شگافتہ اور اخروٹ نکالا تو وہ بھی پھٹا ہوا اور سب چیزیں پتھر کی۔

سدی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے سب مال ‘ درخت ‘ پھل ‘ آٹا ‘ کھانا پتھرکا کردیا تھا۔ یہ معجزہ بھی حضرت موسیٰ کے نو معجزات میں سے ایک تھا۔

واشد علی قلوبھم اور ان کے دلوں پر سخت بند باندھ دے۔ یعنی ان کے دلوں کو سخت کر دے ‘ ان پر مہر لگا دے کہ ایمان کیلئے ان میں نرمی ہی پیدا نہ ہو۔ حضرت موسیٰ نے مایوس ہو کر ان کیلئے یہ بددعا کی تھی ‘ ورنہ حضرت موسیٰ کو تو اسلئے بھیجا گیا تھا کہ وہ ایمان کی طرف بلائیں (نہ یہ کہ انکار پر قائم رکھنے کی دعا کریں) ۔

ایک شبہ : جب حضرت موسیٰ کو معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر بددعا کرنا بےسود تھا۔

ازالہ : بددعا کی وجہ شاید یہ ہو کہ ایمان کی فطرت اللہ کے دشمنوں سے اللہ کیلئے نفرت کرتی ہے (اور بغض و نفرت کا تقاضا ہے کہ بددعا کی جائے بشرطیکہ نفرت ذاتی نہ ہو ‘ لوجہ اللہ ہو) یا حضرت موسیٰ کو بددعا …

89

قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا

قال قد اجیبت دعوتکما اللہ نے (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے) فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔

حضرت موسیٰ دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہہ رہے تھے ‘ اسلئے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعا چالیس برس کے بعد قبول ہوئی تھی۔

فاستقیما پس تم قائم رہنا۔ یعنی رسالت اور دعوت پر قائم رہنا اور میرے حکم پر چلنا یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے گا۔

ولا تتبعٰن سبیل الذین لا یعلمون۔ اور نادانوں کے طریق کی پیروی نہ کرنا کہ نادانوں کی طرح نزول عذاب میں جلدی کرنے لگو۔ یا اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ نہ رکھو۔

90

۞ وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

وجاوزنا ببنی اسراء یل البحر اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کرا دیا۔ یعنی عبور کرا کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ پانی پھٹ کر ادھر ادھر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم والے (خشک زمین پر چل کر) پار نکل گئے۔

فاتبعھم فرعون و جنودہ بنی اسرائیل کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر بھی جا پہنچا۔ تَبِعَاور اَتْبَعَ جا پہنچا ‘ پیچھے سے چلا اور اگلے لوگوں سے جا کر مل گیا۔ اِتَّبَعَ (باب افتعال) پیروی کی۔ بعض نے کہا : اَتْبَعَ (باب افعال) اور اِتَّبَعَ (باب افتعال) دونوں ہم معنی ہیں۔

بغیًا وعدوا ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے۔

بعض نے کہا : بغی سے مراد ہے قول میں زیادتی اور عدوًاسے مراد ہے فعل میں زیادتی۔ غرض فرعون لشکر کو لے کر جب دریا کے کنارے پہنچا تو اندر گھسنے سے سب کو ڈر لگا مگر (غیب سے انسانی شکل بنا کر) حضرت جبرئیل گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب سے آگے پانی میں گھس پڑے۔ گھوڑی کے پیچھے فوج کے گھوڑے بھی دریا میں داخل ہوگئے۔ جب آخری آدمی تک دریا میں گھس گیا اوّل ترین آدمی نے دوسرے کنارہ سے نکلنے کا ارادہ کرلیا تو یکدم پانی برابر ہوگیا اور سب کے اوپر آگیا۔

حتی اذا ادر کہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل وانا من المسلمین۔ یہاں تک کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو بولا : مجھے یقین ہوگیا کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں جس کو بنی اسرائیل مانتے ہیں اور میں (اس کے) فرمانبراروں میں سے ہوں۔ حضرت جبرئیل نے فوراً اس کے منہ میں کیچڑ بھر دی اور توبہ قبول ہونے سے پہلے وہ مر گیا۔ جب قبول توبہ کا وقت تھا تو بدبخت منہ موڑے رہا اور جب قبول توبہ کا وقت جاتا رہا تو پرزور توبہ کی (جس کا کوئی نتیجہ نہ ہوا) ۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.