Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 81–90 of 109

81

فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ ٱلسِّحْرُ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا

آیت 81 فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِءْتُمْ بِہِلا السِّحْرُ یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا ‘ بلکہ جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ اللہ تعالیٰ ابھی تمہاری شعبدہ بازی کا باطل ہونا ثابت کردے گا ‘ اسے نیست و نابود کر دے گا ‘ ہَبَاءً مَنْثُوْرًا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا۔

82

وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں

آیت 81 فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِءْتُمْ بِہِلا السِّحْرُ یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا ‘ بلکہ جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ اللہ تعالیٰ ابھی تمہاری شعبدہ بازی کا باطل ہونا ثابت کردے گا ‘ اسے نیست و نابود کر دے گا ‘ ہَبَاءً مَنْثُوْرًا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا۔

83

فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَىٰ خَوْفٍۢ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْرِفِينَ

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا

عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ”آل فرعون“ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگ فرعون کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال قارون کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر فرعون کا درباری اور اس کا ایجنٹ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا اس کا تفصیلی ذکر سورة القصص میں ہے۔ بہر حال بنی اسرائیل کے عام لوگ ایسے مخبروں کے ڈر سے حضرت موسیٰ کے قریب ہونے سے گریز کرتے تھے۔ نوجوان چونکہ با ہمت اور پر جوش ہوتے ہیں ‘ اس لیے وہ اس طرح کی انقلابی آواز پر لبیک کہنے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں ‘ جبکہ اسی قوم کے ادھیڑ عمر لوگ کم ہمتی اور مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ پورا فلسفہ اس آیت میں موجود ہے۔ ان آیات کے نزول کے وقت اہل مکہ میں سے بھی محمد رسول اللہ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے وہ چند باہمت نوجوان ہی تھے ‘ نہ کہ مصلحت کوش بوڑھے۔

84

وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ

اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو

عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ”آل فرعون“ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگ فرعون کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال قارون کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر فرعون کا درباری اور اس کا ایجنٹ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا اس کا تفصیلی ذکر سورة القصص میں ہے۔ بہر حال بنی اسرائیل کے عام لوگ ایسے مخبروں کے ڈر سے حضرت موسیٰ کے قریب ہونے سے گریز کرتے تھے۔ نوجوان چونکہ با ہمت اور پر جوش ہوتے ہیں ‘ اس لیے وہ اس طرح کی انقلابی آواز پر لبیک کہنے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں ‘ جبکہ اسی قوم کے ادھیڑ عمر لوگ کم ہمتی اور مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ پورا فلسفہ اس آیت میں موجود ہے۔ ان آیات کے نزول کے وقت اہل مکہ میں سے بھی محمد رسول اللہ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے وہ چند باہمت نوجوان ہی تھے ‘ نہ کہ مصلحت کوش بوڑھے۔

85

فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال

آیت 85 فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَاج رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں۔ پروردگار ! اب ایسا نہ ہو کہ ہمارے ذریعے سے تو ان کو آزمائے۔ جیسے ابو جہل اگر آل یاسر پر ظلم ڈھاتا تھا تو اللہ کے ہاں یہ اس کی بھی آزمائش ہو رہی تھی ‘ لیکن اس آزمائش میں تختۂ مشق حضرت یاسر اور حضرت سمیہ بن رہے تھے۔

86

وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش

آیت 85 فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَاج رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں۔ پروردگار ! اب ایسا نہ ہو کہ ہمارے ذریعے سے تو ان کو آزمائے۔ جیسے ابو جہل اگر آل یاسر پر ظلم ڈھاتا تھا تو اللہ کے ہاں یہ اس کی بھی آزمائش ہو رہی تھی ‘ لیکن اس آزمائش میں تختۂ مشق حضرت یاسر اور حضرت سمیہ بن رہے تھے۔

87

وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًۭا وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُمْ قِبْلَةًۭ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو

آیت 87 وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا ان گھروں میں جمع ہو کر تم لوگ اللہ کی عبادت کیا کرو۔ اسی طرح کا انتظام حضور نے بھی اپنی دعوت کے ابتدائی زمانہ میں کیا تھا جب آپ نے دار ارقم کو دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے لیے مختص فرمایا تھا۔ وَّاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً فرعون کے ڈر سے وہ لوگ مسجد تو بنا نہیں سکتے تھے ‘ اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں کو تعمیر ہی قبلہ رخ کرو تاکہ وہاں تم نمازیں پڑھا کرو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بھی قبلہ معینّ تھا جبکہ بیت المقدس تو ابھی بنا ہی نہیں تھا۔ بیت المقدس تو حضرت موسیٰ کے زمانے سے ایک ہزار سال بعد حضرت سلیمان نے تعمیر فرمایا تھا۔ چناچہ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا۔ تورات میں ان کی قربان گاہوں کے خیموں کے بارے میں تفصیل ملتی ہے کہ یہ خیمے اس طرح نصب کیے جاتے تھے کہ جب کوئی شخص قربانی پیش کرتا تھا تو اس کا رخ سیدھا قبلہ کی طرف ہوتا تھا۔

88

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةًۭ وَأَمْوَٰلًۭا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَىٰٓ أَمْوَٰلِهِمْ وَٱشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں

رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ ان کے پاس طاقت ہے اقتدار ہے اختیار ہے دولت ہے جاہ وحشم ہے۔ لوگ ان کے رعب و دبدبے کے خوف اور مال و دولت کے لالچ سے گمراہ ہو رہے ہیں۔ پروردگار ! کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لیے دے رکھا ہے کہ وہ تیرے بندوں کو تیرے سیدھے راستے سے گمراہ کریں ؟ فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر ان کا ایمان انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ یہ حضرت موسیٰ کی آل فرعون سے بیزاری کی آخری حد ہے۔ اگرچہ نبی ایک ایک فرد کے لیے ایمان کا خواہش مند ہوتا ہے ‘ مگر فرعون اور اس کے سردار اہل ایمان کو ستانے اور اذیتیں دینے میں اس حد تک آگے جا چکے تھے کہ حضرت موسیٰ خود اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ! اب ان لوگوں کے دلوں کو سخت کر دے ‘ ان کے دلوں پر مہریں لگا دے ‘ تاکہ تیرا عذاب آنے تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ اس لیے کہ جو کچھ انہوں نے اللہ اور اہل ایمان کی دشمنی میں کیا ہے اس کی سزا انہیں مل جائے۔

89

قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا

آیت 89 قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیْمَا ایسا نہ ہو کہ وقت آنے پر تمہارا دل پسیج جائے اور پھر دعا کرنے لگو کہ اے اللہ اب ان کو معاف فرما دے !

90

۞ وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

حَتّٰیٓ اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ یعنی جب فرعون غرق ہونے لگا تو :

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.