Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 71–80 of 109

71

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِى وَتَذْكِيرِى بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةًۭ ثُمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَىَّ وَلَا تُنظِرُونِ

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ ۔۔ : نبوت پر کفار کے شبہات اور ان کے مدلل جوابات بیان کرنے کے بعد یہاں کئی انبیاء کا ذکر فرمایا، خصوصاً تین انبیاء کے قصے کچھ تفصیل سے بیان فرمائے۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں : 1 انداز بیان بدلنے اور نئی بات شروع کرنے سے سننے والوں میں اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی اور آدمی خوش دلی اور رغبت سے بات سنتا رہتا ہے۔ ایک ہی قسم کی بات خواہ کتنی علمی ہو، لمبی ہوجائے تو رغبت کم ہوجاتی ہے۔ 2 تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کے پیروکاروں کو ان واقعات کے سننے سے تسلی ہو اور وہ کفار کی ایذا رسانی سے ملول نہ ہوں، بلکہ ان انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اپنے لیے اسوہ اور نمونہ بنائیں۔ 3 کفار کو بھی تنبیہ ہو تاکہ وہ دنیا میں سب سے پہلے اور پھر سب سے آخر میں غرق ہونے والی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اس قسم کی گستاخیوں سے باز آجائیں۔ 4 پھر ان تاریخی قصوں کو کسی قسم کی کمی بیشی کے بغیر ایک اُمّی نبی کا بیان کرنا خود اس کے صدق نبوت کی دلیل بھی ہے۔ - 3 نوح (علیہ السلام) اولوالعزم رسولوں میں سے ایک ہیں۔ قرآن میں ان کا ذکر تینتالیس (٤٣) جگہ آیا ہے، ان کی قوم بت پرست تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اولین مخاطب اہل عرب بھی بت پرست تھے، ان کے بتوں کے نام بھی تقریباً ملتے جلتے تھے۔ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر سورة اعراف، ہود، مومنون اور نوح میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، یہاں مختصر ذکر ہے اور ان کی زندگی کا یہ پہلو زیادہ نمایاں کیا ہے کہ طویل مدت تک اپنی قوم میں رہنے اور ان کے ایمان نہ لانے کے باوجود ان کا اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسا تھا کہ انھوں نے اپنی قوم کو چیلنج کیا کہ تم سب مل کر مجھے جو نقصان پہنچا سکتے ہو پہنچا لو۔ - ” فَاَجْمِعُوْا “ باب افعال سے امر ہے، ” اَجْمَعْتُ عَلَی الْاَمْرِ “ یعنی میں نے فلاں کام کا پکا ارادہ کرلیا۔ ” وَشُرَکَاءَ کُم “ مفعول معہ ہے اور واؤ بمعنی ” مَعَ “ ہے۔ ” غُمَّۃً “ پوشیدگی کے معنی میں ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے : ” غَمَّ عَلٰی فُلاَنٍ الْاَمْرُ “ ” فلاں شخص پر معاملہ مخفی اور پوشیدہ رہا۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ پوری قوم کی اور ان کے جہالت سے بنائے ہوئے خداؤں کی ذرہ برابر وقعت نہیں سمجھتے اور ان کا اپنے رب پر اتنا توکل ہے کہ وہ ان کی کسی سازش سے نہیں ڈرتے، سب کو صاف چیلنج کیا کہ اگر میرا تم میں رہنا اور نصیحت کرنا تم پر بھاری ہے اور تم سمجھانے سے سمجھنے پر کسی طرح تیار نہیں تو اپنے بتوں کے ساتھ مل کر، جنھیں تم جہالت اور بےشرمی سے اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو، میرے خلاف جو سازش میرے قتل یا ایذا کی کرسکتے ہو کرلو۔ - ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ ۔۔ : یعنی میرے مار ڈالنے کا جو منصوبہ تیار کرو اس پر اچھی طرح غور کرلو تاکہ اس کا کوئی پہلو تم پر ڈھکا چھپا نہ رہے، پھر میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے مہلت مت دو ۔ - 3 ان آیات سے نوح (علیہ السلام) کی انتہا درجے کی شجاعت، اللہ تعالیٰ پر کمال توکل، مخلوق سے کلی استغناء اور فریضۂ رسالت کی نہایت طویل مدت تک بغیر وقفے یا اکتاہٹ یا تھکاوٹ کے مسلسل ادائیگی اور اس کے دوران آنے والی ہر تکلیف، طعن اور استہزا کو کمال صبر سے برداشت کرنا ظاہر ہو رہا ہے۔ تبھی ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی حکم ہوا کہ ان اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کرو۔ ہمیں تو ان پر پیش آنے والے حالات کے تصور ہی سے پسینا آجاتا ہے اور بدن کانپ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دعوت کے کام کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

72

فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں

فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ ۔۔ : یعنی اگر تم میری دعوت ٹھکرانے پر اصرار کرو تو میرا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی۔ تمہارے نہ ماننے یا بےرخی کرنے سے میرے ثواب اور مزدوری میں کمی نہیں ہوگی، وہ میرے اللہ کے ذمے ہے، جو مجھے کبھی تمہارا محتاج نہیں ہونے دے گا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (١٣٢) میری طرف سے تمہیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمہارے ہی فائدے کے لیے ہے اور مجھے حکم ہے کہ مسلمین (حکم ماننے والوں) سے ہوجاؤں۔ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا اور وہ سب مسلم تھے۔

73

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَعَلْنَٰهُمْ خَلَٰٓئِفَ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ

لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ : اس کی تفصیل سورة ہود (٣٦ تا ٤٩) میں دیکھیں۔ - وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ : یعنی ان کے بعد دنیا میں وہی بسنے والے رہ گئے۔ دیکھیے سورة صافات (٧٧) اس لیے نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔- فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ : یہاں ” فَانْظُرْ “ کا معنی ہے غور و فکر کر اور عبرت حاصل کر کہ وہ کیسے تباہ و برباد کردیے گئے۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور صحابہ کرام (رض) اور اہل ایمان کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو آج بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر رہے ہیں۔

74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ : یہاں نوح (علیہ السلام) کے بعد جن پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے ان میں ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب (علیہ السلام) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جن کا تذکرہ اگلی سورت ہود میں آ رہا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی مرقوم ہے اور ” الی قومھم “ کے الفاظ سے اشارہ فرما دیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد جتنے پیغمبر ہوئے ہیں ان میں سے کسی کی رسالت بنی نوع انسان کے لیے عام نہیں تھی بلکہ خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ البتہ نوح (علیہ السلام) کی بعثت میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ بھی خاص طور پر اپنی قوم ہی کی طرف مبعوث تھے۔ (ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ (رض) کی تحقیق کے مطابق صحیح یہی ہے کہ طوفان سے روئے زمین کے تمام لوگ غرق نہیں ہوئے بلکہ خاص علاقہ تباہ و برباد ہوا ہے) یہ درجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو حاصل ہے کہ ان کی رسالت تمام اقوام عالم کے لیے عام ہے اور قیامت تک اسی طرح باقی رہے گی۔ دیکھیے سورة سبا (٢٨) ۔ - فَجَاۗءُوْھُمْ بالْبَيِّنٰتِ : یعنی ایسے دلائل و معجزات لے کر آئے جو اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ واقعی یہ اللہ کے رسول ہیں۔ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ قرآن سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مؤثر تھا، جس کی وجہ سے آپ کی امت بھی سب سے زیادہ ہوئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (٥٠، ٥١) کے فوائد۔- فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ : لیکن یہ امتیں رسولوں کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں، اس کا سبب یہ ہوا کہ جب اللہ کے رسول شروع میں ان کے پاس آئے تو انھوں نے اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کردیا اور یہ انکار ان کے لیے مستقل حجاب بن گیا اور وہ یہی سوچتے رہے کہ جسے ہم جھٹلا چکے اب اس پر ایمان کیسے لائیں۔ نتیجتاً وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے۔ امام ابن جریر (رض) نے ” کَذَّبُوْا “ کا فاعل قوم نوح کو بنایا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ان رسولوں کی قومیں بھی ایسی نہ تھیں جو اس چیز پر ایمان لاتیں جسے قوم نوح اور پہلے کے لوگ اس سے قبل جھٹلا چکے تھے، بلکہ ان کے دلوں پر قوم نوح کی طرح مہر لگ گئی۔ پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، اگرچہ یہ بھی درست ہے۔ - كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ : یعنی ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ آخر کار یہ سزا دیتا ہے کہ انھیں کبھی راہ ہدایت پانے کی توفیق نہیں ہوتی اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا ان کے دلوں پر مہر لگانے کا۔ آئندہ بھی جو یہ روش اختیار کرے گا اسے یہی سزا ملے گی۔ دیکھیے سورة بقرہ (٧) ، انعام (١٠٩، ١١٠) اور انفال (٢٤) ۔

75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَھٰرُوْنَ ۔۔ : یہ دوسرا قصہ موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کی قوم کا ہے جو غرق ہونے میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کی مثال ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ قریش آپ کو جادوگر کہہ رہے ہیں (یہ کوئی نئی بات نہیں، جو شخص یا قوم بھی دلیل سے لاجواب ہوجائے وہ اسے جادو کہہ کر جان چھڑاتے ہیں) مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ ” آیَاتٌ“ سے مراد وہ نو (٩) معجزے ہیں جو سورة بنی اسرائیل (١٠١) میں ذکر ہوئے ہیں۔

76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوٓا۟ إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ ۔۔ : ” ہماری طرف سے حق “ اس حق کی عظمت کے بیان کے لیے ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے۔ اس واضح حق کی تردید جب وہ کسی طرح نہ کرسکے تو اسے جادو کہہ دیا۔

77

قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَٰذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّٰحِرُونَ

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے

قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ ۔۔ : مفسرین نے فرمایا کفار کے جواب میں درحقیقت یہ تین جملے ہیں، پہلا ” اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ “ یعنی یہ بات کہ ” یہ جادو ہے “ کیا تم حق کے بارے میں کہہ رہے ہو، جب کہ حق تمہارے سامنے ہے ؟ دوسرا ” اَسِحْرٌ ھٰذٰا “ کیا یہ جادو ہے ؟ یہ سوال انکار کے لیے ہے، جیسے کوئی پھول کو پتھر کہے تو اسے کہا جائے، کیا یہ پتھر ہے ؟ تیسرا یہ کہ جادوگر تو کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں دلیل وبرہان کی رو سے کامیاب ہوں، تو پھر یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے۔ اس میں آئندہ جادوگروں کے ساتھ مقابلہ میں اپنی کامیابی اور جادوگروں کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔

78

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا۔۔ : فرعون اور اس کے ساتھی اپنے شرکیہ عقائد کی وجہ سے مذہبی برتری بھی جتاتے رہتے تھے اور سرزمین مصر کی حکومت پر قبضے کی وجہ سے تمام وسائل کے مالک بن کر سیاسی طور پر بھی سب سے بڑے بنے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ دو الزام دھر دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی ہر تحریک، پرانی ہو یا نئی، وقت کے تمام فرعون اس پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ہماری مذہبی سیادت اور سیاسی برتری کو ختم کرنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ہے، جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے بھی کہا تھا کہ یہ شخص محض تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، فرمایا : (يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ) [ المؤمنون : ٢٤ ] ” یہ چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے۔ “ حالانکہ انبیاء اور مصلحین محض اصلاح کے لیے آتے ہیں، اگر حکمران اسلام قبول کرلیں اور خود ہی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں تو ان کی حکومت سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اس دور میں محمد بن عبد الوہاب (رض) نے ابن سعود کے ذریعے سے توحید و سنت کی دعوت کو پھیلایا، خود حکومت طلب نہیں کی، نہ ان کی اولاد میں سے کسی نے یہ خواہش یا کوشش کی۔ ابن تیمیہ (رض) نے وقت کے حاکموں کو جہاد پر ابھار کر اور ان کا ساتھ دے کر تاتاریوں کو مار بھگایا، خود کوئی عہدہ نہ طلب کیا نہ قبول کیا۔ اس لیے ہرقل نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہاری حکومت قائم رہے تو اسلام قبول کرلو، مگر وہ بدنصیب نکلے اور ہرقل بھی ان کی بادشاہت کے طمع میں ایمان سے محروم رہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمان ہونے والے قبائل کے سرداروں کو اور مختلف علاقوں کے مسلمان ہونے والے بادشاہوں، مثلاً ثمامہ بن اثال (رض) وغیرہ کو ان کے عہدوں پر قائم رکھا۔ آخر میں فرعون کے ساتھیوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔

79

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ٱئْتُونِى بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ ۔۔ : یہ قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔ - مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ : یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ ” المفسدین “ جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔ - وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کردیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ ” کُنْ “ کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے بغیر بھی حق کو سچا کردیتا ہے، یا اپنے کلمات کی برکت سے حق کو سچا کردیتا ہے۔

80

فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو

Explained together with ayah 79

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.