Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 71–80 of 109

71

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِى وَتَذْكِيرِى بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةًۭ ثُمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَىَّ وَلَا تُنظِرُونِ

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭

” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔

نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔‏“

یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [11-هود:54-56] ‏ ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔

صفحہ نمبر3739

حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔‏“

تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ‏ ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏ ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ‏ ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔

اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ‏ ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔

یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا …

72

فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں

نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭

” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔

نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔‏“

یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [11-هود:54-56] ‏ ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔

صفحہ نمبر3739

حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔‏“

تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ‏ ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏ ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ‏ ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔

اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ‏ ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔

یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا …

73

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَعَلْنَٰهُمْ خَلَٰٓئِفَ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ

لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا

نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭

” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔

نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔‏“

یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [11-هود:54-56] ‏ ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔

صفحہ نمبر3739

حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔‏“

تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ‏ ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏ ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ‏ ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔

اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ‏ ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔

یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا …

74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں

سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭

حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموماً ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے آیت «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ‏ میں ہے۔

پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہو جاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعنی نبیوں اور ان کے تابعداروں کو بچا لینا اور مخالفین کو ہلاک کرنا۔ نوح نبی علیہ السلام کے بعد سے برابر یہی ہوتا رہا ہے۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں بھی انسان زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں بت پرستی شروع ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر نوح علیہ السلام کو ان میں بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ نوح علیہ السلام کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے تو کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ [صحیح بخاری:3340] ‏۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان دس زمانے گزرے اور وہ سب اسلام میں ہی گزرے ہیں۔ اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ‏ [17-الإسراء:17] ‏ ” نوح علیہ السلام کے بعد کے آنے والی قوموں کو ہم نے ان کی بد کرداریوں کے باعث ہلاک کر دیا “۔

مقصود یہ کہ ان باتوں کو سن کر مشرکین عرب ہوشیار ہو جائیں کیونکہ وہ سب سے افضل و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔ پس جب کہ ان کے کم مرتبہ نبیوں اور رسولوں کے جھٹلانے پر ایسے دہشت افزاء عذاب سابقہ لوگوں پر نازل ہو چکے ہیں تو اس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے پر ان سے بھی بدترین عذاب ان پر نازل ہوں گے۔

صفحہ نمبر3744

75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے

باب

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ‏ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔

اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ‏ ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔

صفحہ نمبر3745

76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوٓا۟ إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

باب

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ‏ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔

اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ‏ ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔

صفحہ نمبر3745

77

قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَٰذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّٰحِرُونَ

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے

باب

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ‏ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔

اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ‏ ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔

صفحہ نمبر3745

78

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

باب

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ‏ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔

اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ‏ ” آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» “۔

صفحہ نمبر3745

79

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ٱئْتُونِى بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ

موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭

سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «‏فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:46-48] ‏ (‏ یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (‏علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔

اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [20-طه:65، 66] ‏ ” انہوں نے موسیٰ (‏علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ “۔

آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔

صفحہ نمبر3749

یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔‏“ «‏أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏ ” انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا “۔

جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ‏ [20-طه:67،69] ‏ ” خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ “

اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔‏“

لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» [10-یونس:81،82] ‏ تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ …

80

فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو

موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭

سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «‏فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ‏ [26-الشعراء:46-48] ‏ (‏ یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (‏علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔

اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [20-طه:65، 66] ‏ ” انہوں نے موسیٰ (‏علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ “۔

آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔

صفحہ نمبر3749

یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔‏“ «‏أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116] ‏ ” انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا “۔

جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ‏ [20-طه:67،69] ‏ ” خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ “

اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔‏“

لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» [10-یونس:81،82] ‏ تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ …

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.