Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 71–80 of 109

71

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِى وَتَذْكِيرِى بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةًۭ ثُمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَىَّ وَلَا تُنظِرُونِ

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔

حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔

حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔

حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔

72

فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں

حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔

حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔

حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔

حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔

73

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَعَلْنَٰهُمْ خَلَٰٓئِفَ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ

لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا

حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔

حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔

حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔

حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔

74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں

اِس آیت میں ’’حد سے گزر جانے والا‘‘ان لوگوں کو کہاگیا ہے جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک بار اگر وہ حق کا انکار کردیں تو اس کے بعد وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر اس کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں ان کا علم دین اور ان کا برسر حق ہونا مشتبہ نہ ہونے پائے۔

جو لوگ اس قسم کا رویہ اختیار کریں ان کو دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ یعنی خدا کے قانون کے تحت ان کی نفسیات دھیرے دھیرے ایسی بن جاتی ہے کہ بالآخر حق کے معاملہ میں ان کا شدتِ احساس باقی نہیں رہتا۔ ابتداء ً ان کے اندر جو تھوڑی سی حساسیت زندہ تھی وہ بھی بالآخر مردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حق اور ناحق کے معاملے میں تڑپیں اور ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کرلیں۔ حضرت نوح اور ان کے بعد آنے والے بیشتر رسولوں کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔

اللہ کی طرف سے جب بھی کوئی داعیٔ حق آتاہے تو وہ اس حال میں آتاہے کہ اس کے گرد کسی قسم کی ظاہری عظمت نہیں ہوتی۔ اس کے پاس جو واحد چیز ہوتی ہے وہ صرف دلیل ہے۔ جو لوگ دلیل کی زبان میں حق کو مانیں وہی داعیٔ حق کو مانتے ہیں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ دلیل کی زبان انھیں متاثر نہ کرسکے وہ داعیٔ حق کو پہچاننے سے بھی محروم رہتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے سے بھی۔

75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔

اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔

فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوٓا۟ إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔

اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔

فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

77

قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَٰذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّٰحِرُونَ

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔

اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔

فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

78

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔

اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔

فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

79

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ٱئْتُونِى بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ

فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔

چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔

یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔

80

فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو

فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔

چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔

یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.