وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍۢ وَمَا تَتْلُوا۟ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍۢ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرَ إِلَّا فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍ
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
27: قیامت میں انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو مشرکین عرب اس وجہ سے ناممکن سمجھتے تھے کہ اربوں انسان جب مر کر مٹی کے ذرات میں تبدیل ہوچکے ہوں گے، اس کے بعد ان سب کو اکٹھا کر کے دوبارہ زندگی کیسے دی جا سکتی ہے؟ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ مٹی کا کونسا ذرہ اصل کس انسان کے جسم کا حصہ تھا۔ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کو اپنے اوپر قیاس مت کرو۔ اللہ تعالیٰ کا علم اتنا وسیع ہے کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔