Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 51–60 of 109

51

أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ

کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تم! اگر آجائے تم پر عذاب اس کا رات کو یا دن کو، (تو کیا برداشت کر لوگے؟ پھر) کیا وہ چیز ہے کہ جلدی طلب کر رہے ہیں اس (عذاب) کو مجرم؟(50)کیا پھر جب واقع ہو جائے گا (عذاب تب) ایمان لاؤ گے تم اس پر؟(اس وقت کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لاتے ہو)؟ حالانکہ تھے تم اس کو جلدی طلب کرتے (51) پھر کہا جائے گا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا، چکھو تم عذاب ہمیشگی کا، نہیں بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر ساتھ اس کے کہ تھے تم کماتے (52)

[50]﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىكُمۡ عَذَابُهٗ بَيَاتًا﴾ ’’کہہ دیجیے! بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔‘‘ یعنی رات کے وقت سوتے میں ۔ ﴿اَوۡ نَهَارًا﴾ ’’یا دن کو‘‘ یعنی تمھاری غفلت کے وقت ﴿مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کیا چیز ہے جس کے لیے مجرمین جلدی کا مطالبہ کررہے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کون سی بشارت ہے جس کے لیے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔

[51]﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہو چکے گا، تب اس پر تم ایمان لاؤ گے؟‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس حال میں جبکہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں ، عتاب اور زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿آٰلۡـٰٔنَ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو؟ ﴿ وَقَدۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴾ تم تو اس عذاب کے لیے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہو جاتا ہے تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا:﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یونس: 10؍90) ’’میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ تو اس کو جواب دیا گیا: ﴿ آٰلۡـٰٔنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(یونس: 10؍91) ’’اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ﴾(المومن: 40؍85) ’’پس جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘اور یہاں فرمایا: ﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ١ؕ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے؟ (تو کہا جائے گا) اب تم‘‘ ( ایمان کا دعویٰ کرتے ہو؟)﴿ وَقَدۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴾’’اسی کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ یہ ہے تمھارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ، جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

[52]﴿ثُمَّ قِيۡلَ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا۔‘‘ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ﴾ ’’چکھو عذاب ہمیشگی کا‘‘ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے، یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لیے دور نہ ہوگا ﴿هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اسی چیز کا بدلہ تمھیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے‘‘ یعنی کفر، تکذیب رسالت اور معاصی کی تمھیں جزا دی جا رہی ہے۔

52

ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تم! اگر آجائے تم پر عذاب اس کا رات کو یا دن کو، (تو کیا برداشت کر لوگے؟ پھر) کیا وہ چیز ہے کہ جلدی طلب کر رہے ہیں اس (عذاب) کو مجرم؟(50)کیا پھر جب واقع ہو جائے گا (عذاب تب) ایمان لاؤ گے تم اس پر؟(اس وقت کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لاتے ہو)؟ حالانکہ تھے تم اس کو جلدی طلب کرتے (51) پھر کہا جائے گا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا، چکھو تم عذاب ہمیشگی کا، نہیں بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر ساتھ اس کے کہ تھے تم کماتے (52)

[50]﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىكُمۡ عَذَابُهٗ بَيَاتًا﴾ ’’کہہ دیجیے! بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔‘‘ یعنی رات کے وقت سوتے میں ۔ ﴿اَوۡ نَهَارًا﴾ ’’یا دن کو‘‘ یعنی تمھاری غفلت کے وقت ﴿مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کیا چیز ہے جس کے لیے مجرمین جلدی کا مطالبہ کررہے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کون سی بشارت ہے جس کے لیے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔

[51]﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہو چکے گا، تب اس پر تم ایمان لاؤ گے؟‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس حال میں جبکہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں ، عتاب اور زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿آٰلۡـٰٔنَ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو؟ ﴿ وَقَدۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴾ تم تو اس عذاب کے لیے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہو جاتا ہے تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا:﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یونس: 10؍90) ’’میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ تو اس کو جواب دیا گیا: ﴿ آٰلۡـٰٔنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(یونس: 10؍91) ’’اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ﴾(المومن: 40؍85) ’’پس جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘اور یہاں فرمایا: ﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ١ؕ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے؟ (تو کہا جائے گا) اب تم‘‘ ( ایمان کا دعویٰ کرتے ہو؟)﴿ وَقَدۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴾’’اسی کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ یہ ہے تمھارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ، جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

[52]﴿ثُمَّ قِيۡلَ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا۔‘‘ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ﴾ ’’چکھو عذاب ہمیشگی کا‘‘ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے، یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لیے دور نہ ہوگا ﴿هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اسی چیز کا بدلہ تمھیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے‘‘ یعنی کفر، تکذیب رسالت اور معاصی کی تمھیں جزا دی جا رہی ہے۔

53

۞ وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

اور وہ خبر دریافت کرتے ہیں آپ سے، کیا حق ہے وہ( عذاب)؟ آپ کہہ دیجیے! ہاں ! قسم ہے میرے رب کی! بلاشبہ وہ یقینا حق ہےاور نہیں تم عاجز کر سکتے (اللہ کو)(53) اور اگر بے شک ہو واسطے ہر نفس کے جس نے ظلم کیا، جو کچھ ہے زمین میں (سارا) تو ضرور فدیہ دے دے گا وہ ساتھ اس کےاورچھپائیں گے وہ (مجرم) ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے ساتھ انصاف کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (54) آگاہ رہو! بے شک واسطے اللہ ہی کے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خبر دار! بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(55) وہی زندہ کرتا ہے اور (وہی) مارتا ہےاوراسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(56)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَيَسۡتَنۢۡبِـُٔوۡنَكَ﴾ ’’اور آپ سے دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ مکذبین تحقیق و تبیین اور طلب ہدایت کے لیے نہیں بلکہ عناد اور نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں ﴿اَحَقٌّ هُوَ﴾ ’’کیا آیا یہ سچ ہے؟‘‘ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انھیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ ﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿اِيۡ وَرَبِّيۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ﴾ ’’قسم ہے میرے رب کی، یہ یقینا حق ہے‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمھیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمھیں پیدا کر سکتا ہے تاکہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے۔

[54]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب قیامت برپا ہوگی ﴿لَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ ﴾ اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا ﴿ مَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ زمین میں ہے‘‘ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے فدیہ میں دے دے۔ ﴿لَافۡتَدَتۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔‘‘ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ ﴿ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّؔا رَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے عذاب‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں اپنے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہو گا۔ ﴿ وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔‘‘ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔

[55]﴿اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’خبردار، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز وہ حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے تیاری نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے، حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں ۔

[56]﴿هُوَ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک …

54

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍۢ ظَلَمَتْ مَا فِى ٱلْأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا

اور وہ خبر دریافت کرتے ہیں آپ سے، کیا حق ہے وہ( عذاب)؟ آپ کہہ دیجیے! ہاں ! قسم ہے میرے رب کی! بلاشبہ وہ یقینا حق ہےاور نہیں تم عاجز کر سکتے (اللہ کو)(53) اور اگر بے شک ہو واسطے ہر نفس کے جس نے ظلم کیا، جو کچھ ہے زمین میں (سارا) تو ضرور فدیہ دے دے گا وہ ساتھ اس کےاورچھپائیں گے وہ (مجرم) ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے ساتھ انصاف کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (54) آگاہ رہو! بے شک واسطے اللہ ہی کے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خبر دار! بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(55) وہی زندہ کرتا ہے اور (وہی) مارتا ہےاوراسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(56)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَيَسۡتَنۢۡبِـُٔوۡنَكَ﴾ ’’اور آپ سے دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ مکذبین تحقیق و تبیین اور طلب ہدایت کے لیے نہیں بلکہ عناد اور نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں ﴿اَحَقٌّ هُوَ﴾ ’’کیا آیا یہ سچ ہے؟‘‘ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انھیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ ﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿اِيۡ وَرَبِّيۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ﴾ ’’قسم ہے میرے رب کی، یہ یقینا حق ہے‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمھیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمھیں پیدا کر سکتا ہے تاکہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے۔

[54]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب قیامت برپا ہوگی ﴿لَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ ﴾ اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا ﴿ مَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ زمین میں ہے‘‘ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے فدیہ میں دے دے۔ ﴿لَافۡتَدَتۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔‘‘ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ ﴿ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّؔا رَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے عذاب‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں اپنے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہو گا۔ ﴿ وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔‘‘ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔

[55]﴿اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’خبردار، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز وہ حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے تیاری نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے، حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں ۔

[56]﴿هُوَ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک …

55

أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اور وہ خبر دریافت کرتے ہیں آپ سے، کیا حق ہے وہ( عذاب)؟ آپ کہہ دیجیے! ہاں ! قسم ہے میرے رب کی! بلاشبہ وہ یقینا حق ہےاور نہیں تم عاجز کر سکتے (اللہ کو)(53) اور اگر بے شک ہو واسطے ہر نفس کے جس نے ظلم کیا، جو کچھ ہے زمین میں (سارا) تو ضرور فدیہ دے دے گا وہ ساتھ اس کےاورچھپائیں گے وہ (مجرم) ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے ساتھ انصاف کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (54) آگاہ رہو! بے شک واسطے اللہ ہی کے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خبر دار! بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(55) وہی زندہ کرتا ہے اور (وہی) مارتا ہےاوراسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(56)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَيَسۡتَنۢۡبِـُٔوۡنَكَ﴾ ’’اور آپ سے دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ مکذبین تحقیق و تبیین اور طلب ہدایت کے لیے نہیں بلکہ عناد اور نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں ﴿اَحَقٌّ هُوَ﴾ ’’کیا آیا یہ سچ ہے؟‘‘ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انھیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ ﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿اِيۡ وَرَبِّيۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ﴾ ’’قسم ہے میرے رب کی، یہ یقینا حق ہے‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمھیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمھیں پیدا کر سکتا ہے تاکہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے۔

[54]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب قیامت برپا ہوگی ﴿لَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ ﴾ اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا ﴿ مَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ زمین میں ہے‘‘ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے فدیہ میں دے دے۔ ﴿لَافۡتَدَتۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔‘‘ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ ﴿ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّؔا رَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے عذاب‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں اپنے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہو گا۔ ﴿ وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔‘‘ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔

[55]﴿اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’خبردار، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز وہ حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے تیاری نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے، حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں ۔

[56]﴿هُوَ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک …

56

هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

اور وہ خبر دریافت کرتے ہیں آپ سے، کیا حق ہے وہ( عذاب)؟ آپ کہہ دیجیے! ہاں ! قسم ہے میرے رب کی! بلاشبہ وہ یقینا حق ہےاور نہیں تم عاجز کر سکتے (اللہ کو)(53) اور اگر بے شک ہو واسطے ہر نفس کے جس نے ظلم کیا، جو کچھ ہے زمین میں (سارا) تو ضرور فدیہ دے دے گا وہ ساتھ اس کےاورچھپائیں گے وہ (مجرم) ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے ساتھ انصاف کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (54) آگاہ رہو! بے شک واسطے اللہ ہی کے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خبر دار! بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(55) وہی زندہ کرتا ہے اور (وہی) مارتا ہےاوراسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(56)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَيَسۡتَنۢۡبِـُٔوۡنَكَ﴾ ’’اور آپ سے دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ مکذبین تحقیق و تبیین اور طلب ہدایت کے لیے نہیں بلکہ عناد اور نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں ﴿اَحَقٌّ هُوَ﴾ ’’کیا آیا یہ سچ ہے؟‘‘ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انھیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ ﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿اِيۡ وَرَبِّيۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ﴾ ’’قسم ہے میرے رب کی، یہ یقینا حق ہے‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمھیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمھیں پیدا کر سکتا ہے تاکہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے۔

[54]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب قیامت برپا ہوگی ﴿لَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ ﴾ اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا ﴿ مَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ زمین میں ہے‘‘ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے فدیہ میں دے دے۔ ﴿لَافۡتَدَتۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔‘‘ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ ﴿ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّؔا رَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے عذاب‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں اپنے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہو گا۔ ﴿ وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔‘‘ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔

[55]﴿اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’خبردار، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز وہ حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے تیاری نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے، حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں ۔

[56]﴿هُوَ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک …

57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌۭ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے

اے لوگو! تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اور شفا واسطے ان (بیماریوں ) کے جو سینوں میں ہیں اور ہدایت اور رحمت واسطے مومنوں کے (57) کہہ دیجیے! ساتھ اللہ کے فضل اور ساتھ اس کی رحمت کے تو ساتھ اس کے پس چاہیے کہ وہ(لوگ) خوش ہوں ، وہ (اللہ کا فضل) بہت بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں (58)

[57] اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کریم کے اوصاف حسنہ جو بندوں کے لیے ضروری ہیں بیان کر کے، اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ مَّوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی‘‘ یعنی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمھیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں ۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کر کے تمھیں ان سے بچاتا ہے۔﴿وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ ’’اور شفا دلوں کے روگ کی‘‘ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب، مثلاً:امراض شہوات، جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات، جو علم یقینی میں قادح ہیں ... کے لیے شفا ہے۔ اس کتاب کریم کے اندر مواعظ، ترغیب و ترہیب اور وعد و وعید کے جو مضامین ہیں وہ بندے کے لیے رغبت و رہبت کے موجب ہیں ۔ جب آپ اس کتاب کریم میں بھلائی کی طرف رغبت، برائی سے ڈر اور قرآن کے معانی میں بتکرار ایسا اسلوب پاتے ہیں تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی مراد کو نفس کی مراد پر مقدم رکھنے کی موجب بنتی ہے اور بندۂ مومن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا شہوت نفس سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔اسی طرح اس کے اندر جو دلائل و براہین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ذکر کیا ہے اور انھیں بہترین اسلوب میں بیان کیا ہے جو ایسے شبہات کو زائل کر دیتا ہے جو حق میں قادح ہیں اور اس کے ذریعے سے قلب یقین کے بلند ترین مراتب پر پہنچ جاتا ہے اور جب قلب اپنی بیماری سے صحت یاب ہو جاتا ہے اور وہ لباس عافیت کو زیب تن کر لیتا ہے تو جوارح اس کی پیروی کرتے ہیں اس لیے کہ جوارح، دل کی درستی سے درست رہتے ہیں اگر دل فاسد ہو جاتا ہے تو جوارح بھی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔‘‘ پس ہدایت حق کے علم اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اور ’’رحمت‘‘ سے مراد وہ بھلائی، احسان اور دنیاوی و اخروی ثواب ہے جو ہدایت یافتہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہدایت جلیل ترین وسیلہ اور رحمت کامل ترین مقصود و مطلوب ہے۔ اس کی طرف صرف اہل ایمان ہی کو راہ نمائی عطا ہوتی ہے اور اہل ایمان ہی رحمت سے نوازے جاتے ہیں ۔ جب بندۂ مومن کو ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اسے ہدایت سے جنم لینے والی رحمت سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ سعادت، فلاح، نفع، کامیابی، فرحت اور سرور کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

[58] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خوش ہونے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ کے فضل کے ساتھ‘‘ فضل سے مراد قرآن ہے جو سب سے بڑی نعمت، احسان اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ﴿ وَبِرَحۡمَتِهٖ ﴾’’اور اس کی مہربانی کے ساتھ‘‘ یعنی دین، ایمان، اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت اور اس کی معرفت۔﴿ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس اسی پر انھیں خوش ہونا چاہیے، یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی دنیا کی متاع اور اس کی لذات سے بہتر ہے۔ دین کی نعمت، جس سے دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مال و متاع کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ۔ دنیا کا مال و متاع تو عنقریب مضمحل ہو کر زائل ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت پر خوش ہونے کا صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ …

58

قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

اے لوگو! تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اور شفا واسطے ان (بیماریوں ) کے جو سینوں میں ہیں اور ہدایت اور رحمت واسطے مومنوں کے (57) کہہ دیجیے! ساتھ اللہ کے فضل اور ساتھ اس کی رحمت کے تو ساتھ اس کے پس چاہیے کہ وہ(لوگ) خوش ہوں ، وہ (اللہ کا فضل) بہت بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں (58)

[57] اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کریم کے اوصاف حسنہ جو بندوں کے لیے ضروری ہیں بیان کر کے، اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ مَّوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی‘‘ یعنی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمھیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں ۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کر کے تمھیں ان سے بچاتا ہے۔﴿وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ ’’اور شفا دلوں کے روگ کی‘‘ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب، مثلاً:امراض شہوات، جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات، جو علم یقینی میں قادح ہیں ... کے لیے شفا ہے۔ اس کتاب کریم کے اندر مواعظ، ترغیب و ترہیب اور وعد و وعید کے جو مضامین ہیں وہ بندے کے لیے رغبت و رہبت کے موجب ہیں ۔ جب آپ اس کتاب کریم میں بھلائی کی طرف رغبت، برائی سے ڈر اور قرآن کے معانی میں بتکرار ایسا اسلوب پاتے ہیں تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی مراد کو نفس کی مراد پر مقدم رکھنے کی موجب بنتی ہے اور بندۂ مومن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا شہوت نفس سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔اسی طرح اس کے اندر جو دلائل و براہین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ذکر کیا ہے اور انھیں بہترین اسلوب میں بیان کیا ہے جو ایسے شبہات کو زائل کر دیتا ہے جو حق میں قادح ہیں اور اس کے ذریعے سے قلب یقین کے بلند ترین مراتب پر پہنچ جاتا ہے اور جب قلب اپنی بیماری سے صحت یاب ہو جاتا ہے اور وہ لباس عافیت کو زیب تن کر لیتا ہے تو جوارح اس کی پیروی کرتے ہیں اس لیے کہ جوارح، دل کی درستی سے درست رہتے ہیں اگر دل فاسد ہو جاتا ہے تو جوارح بھی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔‘‘ پس ہدایت حق کے علم اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اور ’’رحمت‘‘ سے مراد وہ بھلائی، احسان اور دنیاوی و اخروی ثواب ہے جو ہدایت یافتہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہدایت جلیل ترین وسیلہ اور رحمت کامل ترین مقصود و مطلوب ہے۔ اس کی طرف صرف اہل ایمان ہی کو راہ نمائی عطا ہوتی ہے اور اہل ایمان ہی رحمت سے نوازے جاتے ہیں ۔ جب بندۂ مومن کو ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اسے ہدایت سے جنم لینے والی رحمت سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ سعادت، فلاح، نفع، کامیابی، فرحت اور سرور کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

[58] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خوش ہونے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ کے فضل کے ساتھ‘‘ فضل سے مراد قرآن ہے جو سب سے بڑی نعمت، احسان اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ﴿ وَبِرَحۡمَتِهٖ ﴾’’اور اس کی مہربانی کے ساتھ‘‘ یعنی دین، ایمان، اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت اور اس کی معرفت۔﴿ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس اسی پر انھیں خوش ہونا چاہیے، یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی دنیا کی متاع اور اس کی لذات سے بہتر ہے۔ دین کی نعمت، جس سے دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مال و متاع کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ۔ دنیا کا مال و متاع تو عنقریب مضمحل ہو کر زائل ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت پر خوش ہونے کا صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ …

59

قُلْ أَرَءَيْتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍۢ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًۭا وَحَلَٰلًۭا قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى ٱللَّهِ تَفْتَرُونَ

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جو نازل کیا ہے اللہ نے واسطے تمھارے رزق، پس بنایا تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال، کہہ دیجیے! کیا اللہ نے حکم دیاہے واسطے تمھارے یا اوپر اللہ کے افتراء باندھتے ہو تم؟ (59)اور کیا گمان ہے ان لوگوں کاجو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، روز قیامت کے بارے میں ؟ بلاشبہ اللہ یقینا بڑے فضل والا ہے اوپر لوگوں کے لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (60)

[59] مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لیے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کیے تھے، ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ! اللہ نے تمھارے لیے جو روزی اتاری‘‘ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذریعۂ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ ﴿فَجَعَلۡتُمۡ مِّؔنۡهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا﴾ ’’پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال‘‘ یعنی اس فاسد قول پر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’کیا اللہ نے تم کو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں ۔

[60]﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن‘‘ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلَى اللّٰهِ وُجُوۡهُهُمۡ مُّسۡوَدَّةٌ﴾(الزمر: 39؍60) ’’اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے نازل کیا۔

60

وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ

اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جو نازل کیا ہے اللہ نے واسطے تمھارے رزق، پس بنایا تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال، کہہ دیجیے! کیا اللہ نے حکم دیاہے واسطے تمھارے یا اوپر اللہ کے افتراء باندھتے ہو تم؟ (59)اور کیا گمان ہے ان لوگوں کاجو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، روز قیامت کے بارے میں ؟ بلاشبہ اللہ یقینا بڑے فضل والا ہے اوپر لوگوں کے لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (60)

[59] مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لیے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کیے تھے، ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ! اللہ نے تمھارے لیے جو روزی اتاری‘‘ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذریعۂ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ ﴿فَجَعَلۡتُمۡ مِّؔنۡهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا﴾ ’’پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال‘‘ یعنی اس فاسد قول پر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’کیا اللہ نے تم کو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں ۔

[60]﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن‘‘ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلَى اللّٰهِ وُجُوۡهُهُمۡ مُّسۡوَدَّةٌ﴾(الزمر: 39؍60) ’’اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے نازل کیا۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.