Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 51–60 of 109

51

أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ

کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۔۔ : یعنی کیا جوں ہی وہ عذاب آگیا تو فوراً ایمان لے آؤ گے ؟ ہاں، بیشک اس وقت ایمان لے آؤ گے مگر عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہوگا۔ دیکھیے سورة مومن (٨٤، ٨٥) ، یونس (٩٠، ٩١) اور نساء (١٨) اس لیے تمہارا پہلے ایمان لانے کے بجائے پہلے عذاب کی جلدی مچانا بےکار ہے۔

52

ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے

ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا ۔۔ : یہ بات عذاب آنے پر انھیں مزید ڈانٹنے اور ذلیل کرنے کے لیے کہی جائے گی۔

53

۞ وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ۔۔ : ” نَبَأٌ“ بہت بڑی اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ (راغب) ” یَسْتَنْبِءُوْنَ “ ” نَبَأَ “ کے باب استفعال سے طلب کے لیے ہے۔ جب کفار کو ان کے سوال ” مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ “ کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انھوں نے اسی سلسلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوبارہ سوال کیا ” اَحَقٌّ ھُوَ “ کیا یہ سچ ہی ہے، یا محض ہمیں ڈرایا جا رہا ہے ؟ چونکہ کفار اپنے قیامت کے انکار اور قرآن کے اس کے قیام پر واضح دلائل کی وجہ سے سخت قلق اور پریشانی کا شکار تھے کہ اسے مانیں یا نہ مانیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یقین دلانے کے لیے تاکید کے کئی الفاظ جمع کرکے فرمایا ” قُلْ “ آپ ان سے کہہ دیجیے : (اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ)” اِیْ “ کا معنی ” نَعَمْ “ یعنی ہاں ہے، مگر یہ ہمیشہ قسم کے ساتھ آتا ہے، پھر ” اِنَّ “ تاکید کا ہے، پھر لام تاکید ہے کہ ہاں، مجھے اپنے رب کی قسم ہے یقیناً یہ ضرور حق ہے۔ حافظ ابن کثیر (رض) نے فرمایا، قرآن مجید میں اس جیسی صرف دو اور آیتیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے منکروں کو قسم کھا کر کہنے کا حکم دیا، پہلی آیت : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ ) [ سبا : ٣ ] دوسری آیت : (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ) [ التغابن : ٧ ] - وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ : ” باء “ کی وجہ سے نفی کی تاکید کے لیے ترجمہ ” ہرگز “ کیا گیا ہے، یعنی نہ تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو کہ ہمیں پکڑنے سے عاجز کر دو اور نہ کسی طرح اسے روک سکتے ہو۔

54

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍۢ ظَلَمَتْ مَا فِى ٱلْأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا

وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ : یعنی جس عذاب کا وہ ساری عمر مذاق اڑاتے رہے جب وہ ان کی توقع کے بالکل خلاف یکایک سامنے آجائے گا تو ان کی عجیب کیفیت ہوگی، ایک طرف وہ سخت شرمندہ ہوں گے اور ان کے ضمیر انھیں کوس رہے ہوں گے، لیکن دوسری طرف وہ اپنی شرمندگی کو اپنے ساتھیوں اور ماننے والوں سے چھپانا بھی چاہیں گے کہ کہیں وہ ملامت نہ کریں، اس لیے دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے اور بظاہر مطمئن بننے کی کوشش کریں گے۔ قاموس میں لکھا ہے کہ ” اَسَرَّہُ “ اضداد میں سے ہے، اس کا معنی چھپانا بھی ہے اور ظاہر کرنا بھی۔ دوسرا معنی یہ بنے گا کہ وہ عذاب دیکھیں گے تو ندامت کا اظہار کریں گے۔ - وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ : یعنی یہ عذاب ان کے اعمال ہی کا نتیجہ ہوگا، اس لیے وہ عین انصاف ہوگا اور ان پر کسی طرح ظلم نہیں ہوگا۔

55

أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔۔ : ” اَلَا “ حرف تنبیہ ہے، یعنی آگاہ ہوجاؤ خبردار ہوجاؤ سن لو پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ ہر شخص جس نے ظلم کیا ہے، اگر آسمان و زمین میں موجود سب کچھ اس کی ملکیت ہو تو اس دن جان چھڑانے کے لیے ضرور ہی بطور فدیہ دے دے گا۔ ” لَوْ “ (اگر) ناممکن چیز کے لیے ہوتا ہے، اس لیے یہاں فرمایا کہ کان کھول کر سن لو کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ ظالم فدیہ لائے گا کہاں سے۔ دوبارہ ” اَلا “ (سن لو) کہہ کر فرمایا کہ یقیناً قیامت قائم ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ بالکل برحق ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ” اَکْثَرُھُم “ کے ساتھ اہل ایمان کو منکرین قیامت سے مستثنیٰ فرمایا، اس اشارے کے ساتھ کہ وہ تعداد میں دوسروں سے کم ہیں۔ زمین و آسمان کی ملکیت میں کسی دوسرے کا حصہ کتنا ہے، دیکھیے سورة سبا (٢٢) اور فاطر (١٣) ۔

56

هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

ھُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۔۔ : یعنی زمین و آسمان کی ملکیت ہی نہیں، زندگی بخشنا اور موت دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر اسی کے پاس جانا ہے۔

57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌۭ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ ۔۔ : یہاں سے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے قرآن مجید کی برکات اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ چناچہ بنیادی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے تمہارے پاس آئی ہے، اب دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کی چار صفات بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ یہ ” مَوْعِظَۃٌ“ ہے، تنوین تعظیم کی وجہ سے ” عظیم نصیحت “ ترجمہ کیا ہے۔ خلیل نے فرمایا کہ اس کا معنی نیکی کی نصیحت ہے جس سے دل نرم ہوجائے۔ (مفردات) راغب نے خود اس کا معنی کیا ہے کہ کسی کام سے منع کرنا، جس کے ساتھ ڈرانا بھی شامل ہو، گویا یہ کتاب موعظت نرمی و سختی ہر طرح سے سمجھا کر انسان کی اصلاح کرتی ہے۔ دوسری صفت ہے ” وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ “ یعنی یہ کتاب دلوں میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور برے اخلاق کی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان کے لیے سراسر تندرستی کا باعث ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات سے یہ بات اخذ کی ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے، جیسا کہ ابوسعید خدری (رض) کے سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے سانپ کا ڈسا ہوا تندرست ہوگیا اور انھوں نے اس پر تیس بکریاں لیں۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ علی أحیاء العرب ۔۔ : ٢٢٧٦ ] اور خارجہ بن صلت (رض) کے چچا نے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاگل آدمی کو سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا اور ان لوگوں نے انھیں ایک سو بکریاں دیں۔ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی : ٣٨٩٦ و صححہ الألبانی ] اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ سورة فاتحہ اور دوسری آیات پڑھ کر دم کرنے سے اللہ تعالیٰ چاہے تو شفا ہوتی ہے اور صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ کافروں پر دم کریں تو انھیں بھی ہوتی ہے، مگر ان آیات کا یہ مطلب نہیں بلکہ ان سے مراد روحانی بیماریاں کفر و شرک، نفاق اور حسد و بغض وغیرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) [ بنی إسرائیل : ٨٢ ] ” اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔ “ اور فرمایا : ” اور رہے وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کردیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔ “ [ التوبۃ : ١٢٥ ] اور فرمایا : ” کہہ دے یہ (قرآن) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔ “ [ حٰمٓ السجدۃ : ٤٤ ] یعنی کفار کو اس سے سینے کی بیماریوں سے شفا نہیں ہوتی۔ تیسری صفت ” ھُدیً “ نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا۔ (مفردات) چوتھی صفت ” رَحْمَۃٌ“ ہے، اس کا معنی ہر شخص سمجھتا ہے۔ یہاں چاروں صفات ” مَوْعِظَۃٌ، شِفاءْ ، ھُدیً ، رَحٌمَۃً “ مبالغہ کے لیے مصدر کے لفظ کے ساتھ آئی ہیں، مراد ان سے اسم فاعل کا مفہوم ہے، جیسے کہتے ہیں ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ زید انصاف ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اتنا عادل ہے کہ گویا سراسر عدل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو سراپا حسن ہے، مراد بہت حسن والا ہوتا ہے، یعنی یہ کتاب اس قدر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت والی ہے، گویا یہ اہل ایمان کے لیے سراسر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت ہے۔

58

قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ : اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے مراد قرآن مجید، دین حق، خاتم النبیین پیغمبر، جنت اور تمام اخروی نعمتیں ہیں۔ حرف باء ” بِفَضْلِ اللّٰهِ “ اور ” َبِرَحْمَتِهٖ “ دونوں پر آیا ہے، مطلب یہ کہ آخرت کی ہر ہر نعمت مستقل طور پر اپنی اپنی جگہ اس لائق ہے کہ اہل ایمان اس پر خوش ہوں۔ - فَبِذٰلِكَ : اس فاء سے محذوف شرط کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی چیز حقیقی خوشی کے قابل ہے اور اگر تمہیں خوش ہونا ہے تو پھر یہ چیز ہے جس پر خوش ہونا چاہیے۔ ” فَبِذٰلِكَ “ پہلے لانے سے حصر بھی پیدا ہوگیا کہ صرف یہی اصل خوشی کی چیز ہے، باقی تمام چیزیں فانی ہیں اور سراسر دھوکا۔- فَلْيَفْرَحُوْا : مفردات القرآن میں ہے کہ ” فَرْحٌ“ کا معنی ہے کسی جلدی مل جانے والی لذت سے سینے کا کھل جانا، خوش ہوجانا۔ یہ لفظ اکثر بدنی لذتوں سے حاصل ہونے والی خوشی پر بولا جاتا ہے، اس لیے فرمایا : (وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ) [ الحدید : ٢٣ ] ” اور نہ اس پر پھول جاؤ جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ “ اور فرمایا : (وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) [ الرعد : ٢٦ ] ” اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے۔ “ اور فرمایا : (حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً ) [ الأنعام : ٤٤ ] ” یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انھیں دی گئی تھیں ہم نے انھیں اچانک پکڑ لیا۔ “ اور فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ ) [ القصص : ٧٦ ] ” جب اس (قارون) کو اس کی قوم نے کہا، مت پھول، بیشک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ “ ” فَرْحٌ“ کی اجازت صرف اللہ کے اس فرمان میں دی گئی ہے : (فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا) یعنی زیر تفسیر آیت میں [ مفردات القرآن للراغب ] معلوم ہوا فرح دل کی خوشی کا نام ہے، اب بعض لوگوں نے اس آیت سے میلاد کے جلوس کے لیے دلیل نکالی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا فضل ہیں، لہٰذا ان کے یوم ولادت پر خوشی منانی چاہیے، اس لیے یہ یوم عید ہے اور تیسری بلکہ سب سے بڑی عید ہے۔ ہمارے یہ بھائی اگر ایک دو باتیں مدنظر رکھیں تو کبھی آیت کے مفہوم میں اتنی تحریف کرکے بدعت کے لیے دلیل نہ گھڑیں۔ ایک تو یہ کہ ” فَرْحٌ“ کا معنی خوشی منانا تو کسی لغت میں نہیں، اس کا معنی تو خوش ہونا ہے، یہ دل کی خوشی کی کیفیت کا نام ہے نہ کہ جلوس نکال کر عید منانے کا۔ دوسرا یہ کہ یہ خوشی تو ہر وقت چوبیس گھنٹے، پورا سال اور ساری عمر مومن کے دل میں رہتی ہے اور اس کے سینے کو ٹھنڈا رکھتی ہے، آپ کو یہ کس نے کہا کہ یہ سال میں صرف ایک دن کے لیے ہے، ایک شاعر نے اپنی خوشی کا اظہار کس خوبصورتی سے کیا ہے ؂- نہ بہ نظم شاعر خوش غزل، نہ بہ نثر ناثر بےبدل - بغلامئ شہ عزوجل و بہ عاشقی نبی خوشم - ” میں نہ کسی بہترین غزل گو شاعر کے شعروں پر خوش ہوں اور نہ کسی بےمثال نثر لکھنے والے کی نثر پر، بلکہ میں تو صرف اللہ بادشاہ عزوجل کا غلام ہونے پر اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت رکھنے پر خوش ہوں۔ “ اللہ تعالیٰ یہ خوشی ہمیشہ ہمارے نصیب میں رکھے۔ آمین - ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ : یعنی یہ دنیا کے سازو سامان سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں، کیونکہ وہ مال و دولت اور جاہ و شرف دنیا میں کبھی کام آتا ہے، کبھی نہیں۔ اگر کام آتا بھی ہے تو چند دن کے لیے، پھر وہ چیز جو چھن جانے والی ہے اس پر خوشی کیسی ؟ حسن، قوت، جوانی، مال و دولت، عز و جاہ کیا ہی دل لبھانے والی چیزیں ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ ان میں سے باقی رہنے والی ایک بھی نہیں، فرمایا : (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ) [ النحل : ٩٦ ] ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ “ فانی کو باقی سے کیا …

59

قُلْ أَرَءَيْتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍۢ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًۭا وَحَلَٰلًۭا قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى ٱللَّهِ تَفْتَرُونَ

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ ۔۔ : مشرکین اور یہود نے اپنے پاس سے کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر رکھا تھا، ان سے سوال ہے کہ بتاؤ تم نے یہ حلال و حرام کس کے کہنے پر قرار دیے ہیں ؟ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے، مثلاً مشرکین کے متعلق دیکھیے سورة مائدہ (١٠٣) ، انعام (١١٨ تا ١٢١ اور ١٣٦ تا ١٤٠) اور یہود کے متعلق دیکھیے سورة آل عمران (٩٣) اور ان کے فوائد۔ - اَمْ عَلَي اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا افتراء علی اللہ، یعنی اللہ پر بہتان باندھنا ہے۔ (ابن کثیر) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لیے سخت تنبیہ ہے جو فتویٰ صادر فرمانے کی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور حلال و حرام اور جائز و ناجائز ہونے کے فتوے صادر کرتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و حدیث کا علم نہیں رکھتے، ان کے علم کی رسائی صرف یہاں تک ہوتی ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہہ دی ہے اسے نقل کردیتے ہیں، گویا انھوں نے اس شخص کو شارع (اللہ اور اس کے رسول) کی حیثیت دے رکھی ہے، کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے نہیں پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا، وہ ان کی نظر میں منسوخ ہے اور اس کا حکم ختم ہے، حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔ اس نے اجتہاد سے کام لیا اور جس رائے پر پہنچا اسے بیان کردیا۔ اگر اس نے غلطی نہیں کی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر غلطی کی تو اکہرا اجر پائے گا۔ وہ شخص تو اپنی جگہ معذور ہے، مگر یہ حضرات کسی طرح بھی معذور قرار نہیں دیے جاسکتے جنھوں نے اس کی آراء کو ایک مستقل شریعت اور قابل عمل دلیل بنا لیا۔ اہل علم کے نزدیک کسی مجتہد کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اجتہاد پر عمل کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)

60

وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ

اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : یعنی ان سے کیا سلوک کیا جائے گا ؟ (فتح الرحمن) کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے بلا دلیل اپنے پاس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے کر اللہ پر بہتان باندھنے پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہوگی اور انھیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ - اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ ۔۔ : ” فَضٌلً “ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بہت بڑے فضل والا ہے کہ پیدا کرکے عقل اور ہر نعمت بخشی، پھر انھیں مہلت دی، نافرمانیوں کے باوجود ان کے رزق میں کمی نہ کی، مگر وہ اس کی نرمی اور استدراج (مہلت دینے) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہوجاتے ہیں اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکر گزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو دین بنا رکھا تھا۔ (ابن کثیر)

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.