Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 51–60 of 109

51

أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ

کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

52

ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے

بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭

ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» [42-الشورى:18] ‏ ” یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں “۔

وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ” میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے “۔

«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» [63-المنافقون:11] ‏ ” جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی “۔

پھر فرمایا کہ ” وہ تو اچانک آنے والی ہے “ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔

«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدہ:12] ‏ ” اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں “۔

«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] ‏ ” لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ “۔

انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

صفحہ نمبر3710

53

۞ وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭

” پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [36-يس:82] ‏ ” یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے “ “۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔

سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» [34-سبأ:3] ‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» [64-التغابن:7] ‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

«يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] ‏ ” جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا “۔

صفحہ نمبر3715

54

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍۢ ظَلَمَتْ مَا فِى ٱلْأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭

” پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [36-يس:82] ‏ ” یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے “ “۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔

سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» [34-سبأ:3] ‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» [64-التغابن:7] ‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

«يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] ‏ ” جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا “۔

صفحہ نمبر3715

55

أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

خالق کل عالم کل ہے ٭٭

مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

صفحہ نمبر3717

56

هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

خالق کل عالم کل ہے ٭٭

مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

صفحہ نمبر3717

57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌۭ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭

اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں “۔

«وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] ‏ ” یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے “۔

ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔‏“

صفحہ نمبر3719

58

قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭

اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں “۔

«وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] ‏ ” یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے “۔

ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔‏“

صفحہ نمبر3719

59

قُلْ أَرَءَيْتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍۢ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًۭا وَحَلَٰلًۭا قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى ٱللَّهِ تَفْتَرُونَ

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو

بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭

مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» [6-الأنعام:136] ‏ ” اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں “۔

مسند احمد میں ہے عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے ۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] ‏

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ” ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر3721

اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، …

60

وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ

اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭

مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» [6-الأنعام:136] ‏ ” اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں “۔

مسند احمد میں ہے عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے ۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] ‏

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ” ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر3721

اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، …

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.