Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 109

41

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں

وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریؤن مما اعمل وانا برئ مما تعملون۔ اور (دلیل قائم ہونے اور لاجواب ہونے کے بعد بھی) اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے رہیں تو آپ ان سے (بیزاری کا اظہار کر دیجئے اور) کہہ دیجئے : میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے (میرے عمل کا بدلہ مجھے ملے گا اور تمہارے عمل کا بدلہ تم کو ملے گا) تم میرے اعمال سے الگ ہو (میرے عمل کا مؤاخذہ تم سے نہ ہوگا ‘ میرا فعل تم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا ‘ لہٰذا مجھے دکھ نہ دو اور مجھ پر تہمت تراشی نہ کرو) اور میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں ‘ تمہارے اعمال کی گرفت مجھ سے نہ ہوگی۔ میں تو تم سے جو کچھ کہتا ہوں تمہاری بہتری کیلئے کہتا ہوں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : جو چیز مجھے دے کر اللہ نے بھیجا ہے ‘ اس کی اور میری حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے قوم والوں سے کہا ہو کہ (اس پہاڑ کے اس طرف) میں نے اپنی آنکھوں سے (دشمن کی) فوج دیکھی ہے (جو تم پر آخر رات میں حملہ کر دے گی اور تم کو قتل و غارت کر دے گی) میں تم کو اس خطرہ سے آگاہ کئے دیتا ہوں۔ بہت جلد (یہاں سے) نکل جاؤ اور بھاگ کر چلے جاؤ۔ اس شخص کے قول کو کچھ لوگوں نے مان لیا اور فرصت کو غنیمت سمجھ کر رات ہی کو چل دئیے ‘ اس طرح دشمن کے حملہ سے بچ گئے اور کچھ لوگوں نے اس شخص کو جھوٹا سمجھا اور صبح تک اپنی جگہ پر ڈٹے رہے۔ صبح کو دشمن کی فوج نے ان پر حملہ کردیا ‘ سب کو تباہ کردیا اور ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے میری لائی ہوئی تعلیم کو مانا اور میری تصدیق کی ‘ یا تکذیب کی اور میری لائی ہوئی صداقت کو نہ مانا۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم من حدیث ابی موسیٰ ۔

کلبی اور مقاتل نے کہا : آیت جہاد سے یہ آیت منسوخ ہے جیسے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ منسوخ ہے۔

42

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَعْقِلُونَ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں

ومنھم من یستمعون الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف (بظاہر) کان لگاتے ہیں۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں اور حکمت و شریعت کی باتیں کرتے ہیں تو بظاہر کان لگا کر سنتے ہیں لیکن دل کے کانوں سے نہیں سنتے ‘ دلوں سے توجہ نہیں کرتے۔ حکمت و شریعت کی حقیقت کو اپنی استعداد کی خرابی کی وجہ سے نہیں سمجھتے ‘ گویا وہ ایسے پیٹ بھرے ہیں جو کان لگاتے ہیں اور شنوائی کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے سن نہیں پاتے۔

افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون۔ تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ بےسمجھ بھی ہوں۔ اگر بہرے کے پاس سمجھ ہو تو قرائن کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ بھی لیتا ہے اور بےسمجھ بہرا ہو تو وہ کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ پس جس طرح بےعقل بہرے کو آپ نہیں سنا سکتے ‘ ایسے ہی ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو گوش دل سے سننے اور فکر و نظر سے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

43

وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ

اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں

ومنھم من ینظر الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ‘ سچائی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ علامات نبوی ان کو نظر آتی ہیں لیکن ان کے دل نابینا ہیں۔ قلبی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق نہیں کرتے (گویا وہ اندھے بھی ہیں اور بےبصیرت بھی) ۔

افانت تھدی العمی ولو کانوا لا یبصرون۔ تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا دیں گے خواہ وہ (بےبصر ہونے کے ساتھ) بےبصیرت بھی ہوں۔ مفقود البصر اگر معدوم البصیرت بھی ہو تو اس کو راستہ کیسے نظر آسکتا ہے۔

ایمان نہ لانے والے کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے اور رخ پھیر لینے کا سابق آیت میں حکم دیا تھا۔ ان دونوں جملوں میں اس حکم کی علت بھی بیان فرما دی جس سے رسول اللہ (ﷺ) کو تسلی دینا بھی مقصود ہے کہ وہ بہرے جن میں شنوائی کی طاقت ہی نہ ہو اور وہ اندھے جو معدوم البصیرت ہوں ‘ ان کو تم سنا سکتے ہو نہ راہ دکھا سکتے ہو۔ پس جن کو میں نے ایمان سے محروم کردیا ہے ‘ تم ان کو توفیق ایمان نہیں دے سکتے۔

44

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْـًۭٔا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

ان اللہ لا یظلم الناس شیءًا ولکن الناس انفسھم یظلمون۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اپنی فطری صلاحیتوں کی خرابی اور اختیار و پسندیدگی کی غلطی کی وجہ سے اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کے بتائے ہوئے راستے کو صحیح نہیں مانتے۔

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جو ہدایات (اور دینی تعلیم) اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی زمین پر خوب بارش ہو تو زمین کو جو ٹکڑا اچھا ہوتا ہے ‘ وہ پانی لے لیتا ہے پھر اس میں سبزہ ‘ گھاس ‘ چارہ بکثرت ہوجاتا ہے اور زمین کا کچھ ٹکڑا پتھریلا سخت ہوتا ہے ‘ وہ پانی کو اپنے اندر روک لیتا ہے (اس پانی سے اس زمین کے ٹکڑے میں تو روئیدگی نہیں ہوتی مگر) اللہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ‘ لوگ پیتے پلاتے اور کھیتیاں سینچتے ہیں۔ لیکن زمین کا ایک ٹکڑا وہ ہوتا ہے جو چٹیل میدان ہوتا ہے (پانی اس پر برستا ہے اور برس کر بہہ جاتا ہے) وہ نہ پانی کو اپنے اندر روکتا ہے نہ سبزہ پیدا کرتا ہے۔ یہی حالت اس دین کی ہے۔ کچھ لوگ دین کو سمجھتے ہیں۔ اللہ نے جو تعلیم مجھے دے کر بھیجا ہے ‘ ان کو اس تعلیم سے فائدہ ہوتا ہے۔ وہ خود بھی سیکھتے ہیں ‘ دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں اور کچھ لوگ دین کی طرف قطعاً توجہ نہیں کرتے ‘ سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور جو ہدایت مجھے دے کر بھیجا گیا ہے ‘ اس کو قبول نہیں کرتے (متفق علیہ من حدیث ابی موسیٰ ) ۔

بعض علماء نے آیت مذکورہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہوش و حواس اور قوت فہم کو اللہ سلب کرلے اور آلات استدلال سے محروم کر دے (اور پھر ہدایت پر چلنے کا حکم دے) اللہ ایسا ظلم نہیں کرتا۔ گویا اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کو کسب (یعنی عمل) کا اختیار ہے ‘ اس کی اختیاری طاقت اللہ نے سلب نہیں کرلی ہے (برے بھلے میں تمیز کرنے کی طاقت عام لوگوں کو بھی دی گئی ہے۔ خود آدمی اس طاقت سے کام نہ لے یا غلط کام لے تو یہ قصور انسان کا ہے) اس سے فرقۂ جبریہ کے قول کی تردید ہوتی ہے (جو انسان کو پتھر کی طرح بےبس اور مجبور جانتے ہیں) ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ منکرین نبوت و قرآن کو اس آیت میں عذاب کی وعید ہو کہ قیامت کے دن جس عذاب میں یہ لوگ گرفتار ہوں گے وہ ان پر ظلم نہ ہوگا ‘ سراسر انصاف ہوگا۔ عذاب کے اسباب کو انہوں نے خود اختیار کیا تھا (جس کے نتیجہ میں ان پر عذاب ہوگا) ۔

45

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے

ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار اور جس روز ہم ان کو جمع کریں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ (دنیا میں یا قبروں میں) ان کا قیام گویا گھڑی بھر رہا تھا۔ منظر کی ہولناکی کی وجہ سے وہ دنیوی زندگی یا قیام قبر کی میعاد کو گھڑی بھر سمجھیں گے۔

یتعارفون بینھم باہم ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ‘ جیسے دنیا میں ان کا باہمی تعارف تھا۔ گویا تھوڑی دیر کو جدا ہوئے تھے ‘ پھر جمع ہوگئے (اور کوئی کسی کو نہیں بھولا) بغوی نے لکھا ہے : یہ باہمی شناخت قبروں سے اٹھنے کے وقت تو ہوگی ‘ پھر قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے باہم تعارف جاتا رہے گا۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ آدمی اپنے برابر والے کو پہچان تو لے گا مگر ہیبت اور خوف کی وجہ سے اس سے بات نہیں کرے گا۔

قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ (منکرین حشر باہم تعارف کے دوران کہیں گے کہ آج) گھاٹے میں پڑگئے جنہوں نے قیامت کا (اور اللہ کے سامنے جانے کا) انکار کیا تھا۔ یا یہ اللہ کی طرف سے شہادت ہے (کافروں کا قول نہ ہوگا) ایمان چھوڑ کر کفر کو اختیار کرنا اور جنت کی جگہ جہنم نصیب ہونا بڑا گھاٹا ہے۔

وما کانوا مھتدین۔ اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے کہ حصول معرفت وسعادت کے جو آلات ان کو دئیے گئے تھے ‘ ان کو صحیح طور پر استعمال کرتے۔ اس جملہ میں تعجب کا مضمون ہے۔

46

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے

واما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجعھم اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے تھوڑا سا (عذاب) اگر آپ کو دکھلا دیں (تو آپ دیکھ ہی لیں گے) یا (اس کے نزول کے قبل) ہم آپ کو وفات دے دیں ‘ سو ہمارے پاس ہی تو ان کو لوٹ کر آنا ہے (عذاب سے تو چھوٹ ہی نہیں سکتے ‘ ہم آپ کو آخرت میں دکھا دیں گے) ۔

ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر (سب کو معلوم ہے کہ) اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہے۔ اطلاع سے مراد ہے نتیجۂ اطلاع (سبب بول کر مسبب مراد ہے) اسی لئے شہادت کو رجوع کا نتیجہ قرار دیا ہے (یعنی شہید کے لفظ سے مطلع ہونا مراد نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن واپسی کے بعد اللہ کا ان کے افعال پر مطلع ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اللہ تو دنیا میں بھی ان کے افعال سے واقف ہے ‘ قیامت کے دن واپسی کے بعد ہی واقف نہیں ہوگا۔ البتہ شہید کا معنی اگر عذاب دہندہ کہا جائے تو مطلب درست ہوجائے گا کہ واپسی سب کی اللہ کے پاس ہوگی اور واپسی کے بعد اللہ ان کو عذاب دے گا) مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے افعال سے واقف ہے ‘ قیامت کے دن اسی واقفیت کی بناء پر ان کو سزا دے گا۔ بعض علماء نے کہا : لفظ ثُمَّ بمعنی واؤ ہے (اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے واقف ہے۔ ان سب کی واپسی اللہ کے پاس ہوگی۔ گویا دونوں مضمون جدا جدا دو جملوں میں مستقل طور پر بیان کر دئیے گئے (کسی مضمون کا دوسرے سے تقدم و تأخر مراد نہیں ہے) مجاہد نے کہا : عذاب کا جو حصہ اللہ نے اپنے رسول (ﷺ) کو آنکھوں سے دکھا دیا ‘ اس سے بدر کے دن کا عذاب (سرداران کفر کا قتل اور کافروں کی دوامی شکست) مراد ہے ‘ باقی انواع عذاب کا مرنے کے بعد وقوع ہوگا۔

47

وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمْ قُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا

ولکل امۃ رسولٌ اور ہر امت کیلئے ایک رسول ہوا ہے۔ رسول سے مراد ہے قاصد ‘ حکم پہنچانے والا ‘ اسلام کی دعوت دینے والا۔

فاذا جآء رسولھم قضي بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ سو جب ان کا رسول (ﷺ) ان کے پاس آچکا اور (اور احکام پہنچا چکا اور انہوں نے رسول (ﷺ) کی تکذیب کی تو) اس کے بعد انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا گیا۔ یعنی جب رسول (ﷺ) نے معجزات پیش کر دئیے اور اس کے بعد بھی انہوں نے نہ مانا اور رسول (ﷺ) کو جھوٹا قرار دیا تو اللہ نے رسول (ﷺ) کا اور اس کی امت کا فیصلہ انصاف سے کردیا۔ تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اور مؤمنوں کو اور رسول (ﷺ) کو محفوظ رکھا اور ہمارا یہ فیصلہ مبنی بر انصاف تھا۔ ہم نے عذاب دینے میں ان پر ظلم نہیں کیا۔ مجاہد اور مقاتل نے آیات کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر امت کا ایک رسول ہوا ہے ‘ جس کو اس امت کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور ہر رسول اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دینے آئے گا تو اللہ انصاف کا فیصلہ کرے گا ‘ مؤمنوں کو نجات دے گا اور کافروں کو سزا۔ دوسری آیت میں بھی یہی آیا ہے ‘ فرمایا : وَجِیْئَٓ بالنَّبِیِّیْنَ وَالشَّھَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ۔ دوسری جگہ فرمایا : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِءْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلاآءِ شَھِیْدًا۔

48

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟

ویقولون متٰی ھذا الوعد اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (عذاب کا) وعدہ کب (پورا ) ہوگا جس سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو۔

ان کنتم صدقین۔ اگر تم لوگ (محمد (ﷺ) اور آپ کے ساتھی) سچے ہو تو عذاب موعود کو لے آؤ۔ کفار مکہ نے یہ بات بطور استہزاء کہی تھی۔

49

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں

قل لا املک لنفسی ضرًا ولا نفعًا الا ما شآء اللہ (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی جان کے نفع نقصان کا بھی مالک نہیں ‘ سوائے اتنی مقدار کے جتنی مقدار کا (مالک بنانا) اللہ نے چاہا۔ یعنی ضرر کو دفع کرنے اور نفع و حاصل کرنے کی مجھے قدرت نہیں۔ صرف اتنی قدرت ہے جتنی اللہ نے دینی چاہی۔ یا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہی ہوتا ہے۔ مجھے اپنے نفع و ضرر پر قدرت نہیں۔

لکل امۃ اجل (ا اللہ کے علم میں) ہر امت کی ہلاکت کی ایک میعاد مقرر ہے۔

اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃً ولا یستقدمون۔ سو جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو (اس وقت) نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے سرک سکتے ہیں۔ اَجَلُھُمْ یعنی عذاب دینے کا مقرر وقت۔ سَاعَۃً ذرا سی دیر۔ مرادیہ ہے کہ عذاب آنے کی جلدی نہ مچاؤ ‘ عنقریب اس کا وقت آجائے گا اور وعدہ پورا ہوجائے گا۔

50

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوْ نَهَارًۭا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے

قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتًا او نھارًا ما ذا یستعجل منہ المجرمون۔ آپ پوچھئے : یہ تو بتاؤ ‘ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات میں آپڑے (جبکہ تم نیند میں مشغول ہو) یا دن کو (جب تم کاروبار میں مصروف ہوتے ہو) تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں۔

مَا ذَا میں استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی تعجب ہے کہ عذاب جیسی ناگوار چیز کو جلد طلب کر رہے ہیں۔ ناگوار چیز کی عاجلانہ طلب تو نامناسب ہے۔

اِنْ اَتٰکُمْ کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر رات کو یا دن کو عذاب آجائے گا تو اس وقت تم کو عجلت طلبی پر ندامت ہوگی اور اپنی غلطی جان لوگے۔

بغوی نے لکھا ہے : کفار عذاب جلد آجانے کے طلبگار تھے۔ ایک شخص نے کہا تھا : اے اللہ ! اگر یہ حق ہے ‘ تیری طرف سے ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لے آ۔ اللہ اس کے جواب میں فرما رہا ہے : یہ کون سے عذاب کے آنے کی جلدی مچا رہے ہیں ‘ عذاب تو ہر ایک کیلئے ناگواری کی چیز ہے۔

میں کہتا ہوں : مَا ذَا یَسْتَعْجِلُالخ شرط کی جزاء ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر آگیا تو اس وقت کس چیز کی طلب میں عجلت کرو گے ‘ کیا اسی قسم کا دوسرے عذاب مانگو گے اور عذاب میں رہنا پسند کرو گے یا رہائی کے طلبگار ہو گے ؟ ظاہر ہے کہ عذاب کے خواستگار نہ ہو گے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.