Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 41–50 of 109

41

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں

Explained together with ayah 40

42

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَعْقِلُونَ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں

Explained together with ayah 40

43

وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ

اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں

[٥٨] دل بینا اور ظاہری بینائی :۔ یعنی جو لوگ دل کے بہرے ہیں وہ اگر آپ کی باتیں سن بھی لیں تو ان کے دل پر کیا اثر ہوسکتا ہے ؟ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بےعقل بھی ہوں کہ اگر وہ سن نہیں سکتے تو کم از کم اشاروں سے ہی کچھ سمجھ جائیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہیں جو دل کے اندھے ہیں ان کا دل آپ کی باتوں کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ پھر اگر وہ آپ کی باتیں سننے کے لیے آپ کی طرف دیکھ بھی رہے ہوں تو اس دیکھنے کا انہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بےبصیرت بھی ہوں کہ اگر کوئی بات ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو اسے سمجھ ہی نہ سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ظاہری طور پر سننے اور دیکھنے سے آپ یہ توقع مت رکھیں کہ آپ کی باتوں کا ان پر کچھ اثر ہوگا اور وہ ایمان لے آئیں گے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا سننا اور دیکھنا بالکل چوپایوں کی طرح ہے وہ بھی عقل و فہم سے کورے یہ بھی کورے۔ اور بدتر اس لحاظ سے کہ چوپایوں میں تو عقل و فہم کا ملکہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، جبکہ ان میں ایسا ملکہ موجود ہونے کے باوجود اس سے کام نہیں لے رہے۔

44

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْـًۭٔا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

[٥٩] یعنی اللہ نے انہیں سننے کو کان، دیکھنے کو آنکھیں اور فہم و بصیرت کے لیے دل و دماغ سب کچھ عطا کیا تھا تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کرسکیں پھر اگر وہ ان سے کام نہ لے کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ہی قصور ہے اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

45

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے

[٦٠] قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال ہے اس کے مقابلہ میں انہیں اپنی دنیا کی زندگی یوں محسوس ہوگی کہ بس چند گھنٹے ہی دنیا میں گزارے تھے اس دن وہ ایک دوسرے کو ایسے ہی پہچانتے ہوں گے جیسے دنیا میں پہچانتے تھے مگر کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ہر ایک کو بس اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی بلکہ ایک دوسرے سے اپنے کسی دکھ سکھ اور ہمدردی کی بات چیت کے بھی روادار نہ ہوں گے اور اگر اپنا کوئی رشتہ دار نظر آئے گا تو اس سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوششیں کریں گے بعض علماء نے (يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ 45؀) 10 ۔ یونس :45) کو دنیوی زندگی سے متعلق کرکے یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں بس چند گھنٹے ایک دوسرے کی جان پہچان کے لیے ٹھہرے تھے اور حقیقی زندگی کا آغاز تو اب ہو رہا ہے۔- [٦١] اس لیے کہ نتیجہ ان کی توقع کے خلاف نکلا اور اس دن کے لیے کچھ تیاری نہ کی تھی اور ساری زندگی دنیا کی دلچسپیوں میں گزار دی تھی ان لوگوں کو اس دن واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں غلط راستے پر پڑے ہوئے تھے اور یوم آخرت سے انکار کے نتیجہ نے انہیں راہ راست پر آنے ہی نہ دیا۔

46

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے

[٦٢] کافروں پر عذاب کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی ؟:۔ کافروں اور مشرکوں کے لیے سب سے بڑا دکھ اور عذاب اسلام کا غلبہ اور ان کی ذلت آمیز شکست ہی ہوسکتا تھا تو اس عذاب کا بہت بڑا حصہ تو رسول اللہ کی زندگی میں ہی آپ نے خود اور سب مسلمانوں اور کافروں نے دیکھ لیا اسلام بدستور آگے بڑھتا رہا اور ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کرتا گیا اور غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک کافروں کو میدان جنگ میں بھی اور معاشرتی طور پر بھی شکست اور ذلت ہی نصیب ہوتی رہی۔ رہی سہی کسر اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد نکال دی اور دور عثمانی تک ایک وقت ایسا آیا جب کہ قریب قریب ساری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجتا تھا اور کفر پوری طرح مغلوب و مقہور ہوچکا تھا۔- [٦٣] پھر کافروں سے عذاب کا وعدہ صرف دنیا کی زندگی پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ آخرت میں عذاب کا وعدہ مستقل طور پر موجود تھا یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر دنیا میں وہ عذاب سے دوچار ہوچکے تو آخرت میں چھوٹ جائیں گویا دنیا کی زندگی میں اگر کوئی کافر عذاب سے بچ بھی جائے تو اخروی عذاب تو بہرحال یقینی اور بڑا سخت ہے۔

47

وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمْ قُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا

[٦٤] اور یہ ضابطہ صرف آپ کی امت سے ہی مختص نہیں بلکہ تمام امتوں کے متعلق اللہ کا یہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے اس طرح لوگوں پر اتمام حجت کرتا ہے پھر کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ اس کا انکار کرکے اس کے درپے آزار ہوجاتے ہیں اس طرح حق اور باطل کی سرد اور گرم جنگ شروع ہوجاتی ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی تائید کرتا ہے اور باطل پرستوں کو ذلت اور عذاب سے دوچار کردیتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ اس لیے انصاف پر مبنی ہوتا ہے کہ اللہ اتمام حجت سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا۔

48

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟

[٦٥] عذاب کے وعدہ پر کافروں کا مذاق اور اس کا جواب :۔ کافروں کو دھمکی یہ دی گئی تھی کہ اگر وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کریں گے تو انھیں ذلت اور رسوائی نصیب ہوگی اور بالآخر اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن کافروں کی سمجھ میں یہ بات آہی نہیں سکتی تھی کہ یہ مٹھی بھر ستم رسیدہ اور بےسروسامان مسلمان کسی وقت ان پر غالب آجائیں گے لہذا وہ از راہ تمسخر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ بھئی اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو ایسا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ ان کے اس تمسخر کا جواب اللہ نے دو طرح سے دیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ کو منظور ہوتا ہے پھر میں تم پر کیا عذاب ڈھا سکتا ہوں ؟ عذاب دینا اللہ کا کام ہے میرا نہیں اور نہ ہی میں نے کوئی ایسا دعویٰ کیا ہے کہ میں تمہیں عذاب میں مبتلا کردوں گا یا فلاں وقت عذاب آئے گا ہاں جب اللہ کی مشیئت ہوگی تو تم پر ایسا عذاب آکے رہے گا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ عذاب دینے کے متعلق بھی اللہ کا ایک قانون ہے جو یہ ہے کہ اللہ کسی کے گناہوں پر فوراً گرفت کرکے اس پر عذاب ڈھا کر اسے تباہ نہیں کردیتا بلکہ اس کو سنبھلنے کے لیے مہلت دیئے جاتا ہے پھر جب بار بار کی تنبیہ کے باوجود وہ راہ راست پر نہیں آتا تو اس وقت اس پر عذاب آتا ہے وہ وقت کب ہوتا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے اور جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں قطعاً تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ عذاب کا معین وقت بتلا دینا اللہ کے دستور کے خلاف ہے یا جیسا کہ کسی کی موت یا قیامت کا وقت معین بھی بتلانا دستور کے خلاف ہے اس لیے کہ اس طرح یہ دنیا دارالامتحان نہ رہے گی جبکہ اللہ کی مشیئت یہی ہے کہ انسان کے لیے یہ دنیا دارالامتحان اور دارالعمل ہے۔

49

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں

Explained together with ayah 48

50

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوْ نَهَارًۭا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے

[٦٦] یعنی عذاب کے آنے میں ایسی کون سی مزے اور خوشی کی بات ہے جس کی وجہ سے مجرم اسے جلد طلب کر رہے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرم کیسی خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ ملنے والی سزا کے تصور سے کانپ اٹھتا اور ڈر کے مارے ہلاک ہوجاتا۔ اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت یہ لوگ جلد جلد اپنا کیا بچاؤ کرسکیں گے ؟ یہ عذاب طلب کرنے والوں کے لیے تیسرا جواب ہے۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.