وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں
اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو غیر اللہ کی طرف سے لیکن ( یہ تو) تصدیق کرنے والا ہے ان (کتب) کی جو اس سے پہلے ہوئیں اور تفصیل بیان کرنے والا ہے تمام کتابوں کی، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، رب العالمین کی طرف سے ہے(37)کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے گھڑا ہے اسے؟ کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم ایک ہی سورت اس جیسی اور بلا لو جنھیں (بلانے کی) استطاعت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے، اگر ہو تم سچے (38)بلکہ انھوں نے جھٹلایا ایسی چیز کو کہ نہیں طاقت رکھی اس کو جاننے کی اور ابھی تک نہیں آئی تھی ان کے پاس حقیقت اس کی، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پھر دیکھیے کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (39) اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کےاور بعض ان میں سے وہ ہیں جو نہیں ایمان لاتے ساتھ اس کےاور آپ کا رب خوب جانتا ہے فساد کرنے والوں کو(40) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے! میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل ، تم بری ہو اس سے جو میں عمل کرتا ہوں اور میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو(41)
[37]﴿ وَمَا كَانَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا جائے اللہ کے ورے ورے ہی‘‘ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ١ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ﴾(حم السجدۃ:41؍42) ’’باطل کا دخل اس میں آگے سے ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔‘‘ یہ ایسی کتاب ہے ﴿ لَّىِٕنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍88) ’’اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسی کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔‘‘یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا، تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہو سکتی ہے تو اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا ﴿تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی‘‘ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں ان کی تصدیق ہے، یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے، ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الہٰیہ نے خبر دی تھی۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور کتاب کی تفصیل ہے۔‘‘ یعنی اس میں حلال و حرام، احکام دینی، احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ ﴿ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور …