Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 109

41

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں

وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ ۔۔ : یعنی اگر وہ حجت پوری ہونے کے بعد بھی جھٹلانے پر اصرار کریں تو انھیں صاف کہہ دیں کہ مجھ پر قرآن اور اللہ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا، میں نے اسے کسی کمی یا زیادتی کے بغیر ادا کردیا ہے، اگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو گے، مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ اس مفہوم کی چند مزید آیات کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٣٩) ، آل عمران (٢٠) ، شوریٰ (١٥) اور سورة الکافرون مکمل۔

42

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَعْقِلُونَ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں

وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ۔۔ : پچھلی آیت (٤٠) کی ایک تفسیر کے مطابق کفار کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو قرآن کے حق ہونے پر یقین رکھتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے جھٹلا رہے ہیں اور ایک وہ جو عقل کے اندھے ہیں، جنھیں قرآن کے حق ہونے کا یقین ہی نہیں۔ دوسری تفسیر کے مطابق کچھ وہ کفار ہیں جو آئندہ ایمان لے آئیں گے، کچھ وہ جن کی قسمت میں یہ نعمت نہیں ہے۔ اس آیت میں کفار کی اس دوسری قسم کا ذکر ہے جن کی قسمت میں ایمان نہیں اور جنھوں نے ہر حال میں کفر پر اڑے رہنا ہے۔ فرمایا کہ ان میں سے کچھ لوگ آپ کی بات اور قرآن کی قراءت پر کان لگاتے ہیں مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ حق سننے سے ان کے کان بہرے ہیں، پھر بہرے بھی اگر عقل رکھتے ہیں تو بات سمجھ جاتے ہیں مگر جو بہرے بھی ہوں اور عقل سے بھی خالی ہوں، آپ اپنی بات ان تک کیسے پہنچا سکتے ہیں۔ ” الصُّمَّ “ جمع ہے ” اَصَمُّ “ کی، یعنی بہرے۔ اسی طرح کچھ لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں، اگر کوئی عبداللہ بن سلام (رض) جیسا سعادت مند ہو تو چہرہ دیکھ کر ہی پہچان لیتا ہے کہ یہ جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ [ ترمذی : ٢٤٨٥۔ ابن ماجہ : ١٣٣٤ ] مگر جو جان بوجھ کر اندھا بن جائے اور دل کا بھی اندھا ہو، کیا آپ اسے راہ راست پر لاسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ ” اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ “ میں ” اَلْعُمْیُ “ ” اَعْمٰی “ کی جمع ہے، مراد آنکھوں کا اندھا ہونا اور ” لَایُبْصِرُوْن “ میں مراد بصارت نہیں بلکہ بصیرت کا نہ ہونا ہے، تاکہ تکرار لازم نہ آئے۔ ایسے لوگوں کو اندھے و بہرے کے علاوہ مردہ بھی کہا گیا ہے، فرمایا : (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى ) [ النمل : ٨٠ ] ” بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ “ مقصد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ایسے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ پریشان خاطر یا دل برداشتہ نہ ہوں۔

43

وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ

اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں

Explained together with ayah 42

44

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْـًۭٔا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دیے ہیں، پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ مزید دیکھیے سورة عنکبوت (٤٠) ۔

45

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے

وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا ۔۔ : سَاعَۃً ایک گھڑی، عرب نہایت کم مدت کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں۔ قیامت بھی چونکہ ایک لمحے میں قائم ہوجائے گی، اس لیے اس پر بھی ” اَلسَّاعَۃُ “ کا لفظ بولا جاتا ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ ان حق سے اندھے اور بہرے لوگوں کو حساب کے لیے اکٹھا کرے گا تو انھیں دنیا میں گزری ہوئی راحت و لذت والی لمبی مدت اور طویل ماہ و سال ایک گھڑی محسوس ہوں گے اور انھیں وہ سب لذتیں بھول جائیں گی، جیسا کہ سورة احقاف (٣٥) اور سورة روم (٥٥) میں ہے کہ مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک ساعت (لمحے) کے سوا دنیا میں نہیں رہے۔ - سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ : دن کی گھڑی چونکہ رات کی بہ نسبت زیادہ یاد رہتی ہے، اس لیے ” سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ “ فرمایا۔ - يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک تو یہ کہ دنیا میں ان کی وہ گھڑی بھی ایک دوسرے کی جان پہچان کرتے گزر گئی اور دوسری یہ کہ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو گمراہ کرنے پر ملامت اور گلے شکوے کریں گے۔- قرآن مجید کی بعض آیات میں ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم تو محض ایک دن یا دن کا کچھ حصہ دنیا میں رہے ہیں، جیسا کہ سورة مومنون (١١٢، ١١٣) میں ہے، یا یہ کہ ہم ایک سہ پہر یا دو پہر وہاں رہے ہیں۔ دیکھیے سورة نازعات (٤٦) یا یہ کہ ہم تو صرف دس راتیں وہاں رہے ہیں۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (١٠٣) اب ایک گھڑی رہنے اور ان آیات میں کیا تطبیق ہوگی، جواب یہ ہے کہ مجرموں کے درجات اور احوال مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے اندازے بھی مختلف ہوں گے۔ اسی طرح قیامت کا دن پچاس ہزار سال کی انتہائی لمبی مدت کا دن ہے (دیکھیے معارج : ٤) جس میں مجرموں پر مختلف احوال گزریں گے، اس میں ہونے والی ان کی باہمی بحثوں کا نتیجہ وہ کبھی کچھ نکالیں گے اور کبھی کچھ نکالیں گے۔ یہ بھی ان کی بدحالی کا ایک اظہار ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ ) [ سبا : ٣١] ” اور کاش تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا۔ “ - قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا ۔۔ : اللہ کی ملاقات جھٹلانے کا مطلب قیامت اور حساب کتاب کا انکار ہے اور خسارا یہ کہ دنیا میں بھی حیوانوں کی سی بےاصولی زندگی بسر کی اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنے۔

46

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے

وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ ۔۔ : یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ ” شَاہِدٌ“ کا معنی گواہ اور ” شَهِيْدٌ“ میں مبالغہ ہے۔ - اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (١١٢) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (١٠، ١١) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی : (أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ھَلَکُوْا، فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَّکْشِفَ عَنْھُمْ ، فَدَعَا ) [ بخاری، التفسیر، باب ( ثم تولوا ۔۔ ) : ٤٨٢٤ ] ” اے محمد بیشک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہوگئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔ “ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے : ” غلبۂ اسلام کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔ “ شاید ” اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ “ میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔

47

وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمْ قُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ۔۔ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک وہ جو اس آیت کا مفہوم ہے : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : ١٥ ] ” اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ “ یعنی دنیا میں ہر قوم کی طرف کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجا جاتا ہے، پھر اس کی نافرمانی اور فرماں برداری کو مدنظر رکھ کر جزا و سزا کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بےگناہ کو سزا نہیں ہوتی اور نہ حجت تمام کیے بغیر ان کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول پہنچ کر سزا ملتی ہے۔ “ (موضح) پہلی امتوں میں چونکہ دنیا کے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ تھا، اس لیے ہر امت کے لیے الگ الگ رسول مبعوث ہوئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے وقت دنیا کے تمام ممالک کے درمیان روابط پیدا ہوچکے تھے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام دنیا ایک آبادی کی طرح بن جانے والی ہے، اس لیے خاتم الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ اب آپ پر ایمان لانا یا نہ لانا قیامت کے دن جنت یا دوزخ میں جانے کا سبب ہوگا۔ دوسرا مفہوم آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر امت کے سامنے اس کا رسول بطور شاہد پیش ہوگا کہ میں نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، پھر وہ سب لوگ بھی جنھوں نے دوسروں تک پیغام حق پہنچایا بطور گواہ پیش ہوں گے، پھر ان کی شہادت کی روشنی میں انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔ یہی بات ان آیات میں کہی گئی ہے : ( فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا ) [ النساء : ٤١ ] ” پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ “ اور فرمایا : (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) [ الزمر : ٦٩ ] ” اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “

48

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ ۔۔ : جب مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کا محاسبہ کرنے کے خلاف کفار کے پاس کوئی دلیل نہ رہ جاتی تو ان کا آخری تیر یہ تھا کہ لاؤ وہ قیامت، وہ عذاب لاتے کیوں نہیں، یہ وعدہ جو تم کرتے ہو کب پورا ہوگا ؟ اس کا جواب تو واضح ہے کہ جب معلوم ہو کہ امتحان ہونا یقینی ہے، پھر آدمی محض اس لیے تیاری نہ کرے یا اس کا انکار کرے کہ اس کی تاریخ بتاؤ، ڈیٹ شیٹ کیا ہے، تو ایسے آدمی کی بےعقلی میں کیا شبہ ہے۔ مگر ان کے اصرار پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ جواب دینے کے لیے کہا جو اگلی آیت میں ہے۔

49

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں

قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ : یعنی یہ تعیین میرے اختیار میں نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ آجائے گا پھر ایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہوگا۔ - قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ۔۔ : یعنی تمہاری موت کا وقت یا عذاب آنے کا وقت سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے، جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ رہا تمہارا مجھ سے اصرار تو میں تمہیں کیا بتاؤں، میں تو خود اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے، میرے اختیار میں ہوتا تو تم پر کبھی کا عذاب آچکا ہوتا۔ دیکھیے سورة انعام (٥٧، ٥٨) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکارتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد طلب کرتے ہیں، یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی چیزیں چاہتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کرسکتا۔ یہ مقام صرف رب العالمین کا ہے جس نے تمام انبیاء، صالحین اور مخلوقات کو پیدا فرمایا، وہی انھیں روزی اور زندگی بخشتا ہے اور جب چاہتا ہے اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے، پھر کسی نبی یا فرشتے یا کسی نیک سے نیک بندے سے کسی ایسی چیز کی درخواست کیونکر کی جاسکتی ہے جس پر اسے قدرت ہی حاصل نہیں ؟ اس آیت میں نصیحت کا خاص پہلو یہ ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جو تمام بنی آدم کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہونے کی صراحت فرما دی ہے تو کوئی ولی یا امام یا پیر اپنے یا کسی دوسرے کے نفع نقصان کا مالک کیونکر ہوسکتا ہے ؟ سخت تعجب کا مقام ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ، جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، مردوں کی قبروں پر جھکتے اور ان سے ایسی ایسی مرادیں طلب کرتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی قدرت اللہ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ یہ صریحاً شرک اور کلمہ ” لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ “ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس ان کے علماء و مشائخ پر ہے جو انھیں اس کام سے منع نہیں کرتے۔ یہ وہی جاہلیت ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے عربوں میں پائی جاتی تھی، بلکہ اس کا معاملہ اس جاہلیت سے بھی زیادہ سخت ہے، کیونکہ عرب مشرکین نفع نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھتے تھے اور بتوں کو صرف اپنا سفارشی خیال کرتے تھے، مگر یہ لوگ تو قبروں والوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کو علیحدہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اس امت میں کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں شیطان مردود نے اس ذریعے سے کفر کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے اس پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ (اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا) [ الکہف : ١٠٤ ] ” وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں۔ “ [ فَإنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے۔ آمین (مختصر از شوکانی)

50

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوْ نَهَارًۭا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ ۔۔ :” اَرَئَیْتُم “ کا لفظی معنی تو یہی ہے کہ ” کیا تم نے دیکھا “ مگر اہل عرب اس سے مراد ” اَخْبِرُوْنِیْ “ لیتے ہیں، یعنی اگر تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ ” بَیَاتاً “ یعنی رات کو، گھر کو ” بَیْتٌ“ اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی وہاں رات گزارتا ہے۔ یہ ان کے سوال ” مَتٰی ھٰذَ الْوَعْدُ “ کا دوسرا جواب ہے، یعنی اگر بالفرض عذاب رات سوتے ہوئے یا دن کی مصروفیت میں یک لخت آگیا تو وہ کون سی میٹھی اور خوش گوار چیز ہے کہ مجرم جلد از جلد اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ تو نہایت تلخ اور ناقابل برداشت چیز ہے، اس کے آنے کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو سکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے، پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.