Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 109

31

قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟

کہہ دیجیے! کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ یا کون ہے وہ جو مالک ہو کانوں اور آنکھوں کا؟ اورکون ہے وہ جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اورنکالتا ہے مردہ کو زندہ سے؟ اور کون ہے وہ جو تدبیر کرتا ہے تمام کاموں کی؟ پس وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دیجیے ! کیا پس نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(31) پس یہی ہے اللہ تمھارا رب سچا، پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے؟ پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟ (32) اسی طرح ثابت ہو گيا ہے کلمہ آپ کے رب کا اوپر ان لوگوں کے جنھوں نے نافرمانی کی، کہ بے شک وہ نہیں ایمان لائیں گے (33)

[31]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے توحید ربوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کون ہے جو تمھیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے‘‘ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ﴿اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا‘‘ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا، یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ كےباب سے ہے، نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے‘‘مثلاً: شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا، مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈے سے تخلیق کیا۔ ﴿ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ﴾ ’’اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے‘‘ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس ﴿ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ﴾ ’’اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے؟ اور اس میں تدابیر الہٰیہ کی تمام اقسام شامل ہیں ۔اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں ﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ کہیں گے، اللہ‘‘ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ۔‘‘ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔

[32]﴿فَذٰلِكُمُ ﴾ ’’پس یہی‘‘ یعنی وہ ہستی، جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمُ ﴾ ’’اللہ ہے، تمھارا رب‘‘ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ ﴿الۡحَقُّ١ۚ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ﴾ ’’اور وہ حق ہے۔ پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے کیا ہے؟‘‘ یعنی وہ تمھارا پروردگار برحق ہے، حق کے بعد، گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے، وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم، صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ ﴿ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو‘‘ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جو خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں ۔ وہ اس کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں …

32

فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے۔ اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو

کہہ دیجیے! کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ یا کون ہے وہ جو مالک ہو کانوں اور آنکھوں کا؟ اورکون ہے وہ جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اورنکالتا ہے مردہ کو زندہ سے؟ اور کون ہے وہ جو تدبیر کرتا ہے تمام کاموں کی؟ پس وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دیجیے ! کیا پس نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(31) پس یہی ہے اللہ تمھارا رب سچا، پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے؟ پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟ (32) اسی طرح ثابت ہو گيا ہے کلمہ آپ کے رب کا اوپر ان لوگوں کے جنھوں نے نافرمانی کی، کہ بے شک وہ نہیں ایمان لائیں گے (33)

[31]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے توحید ربوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کون ہے جو تمھیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے‘‘ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ﴿اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا‘‘ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا، یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ كےباب سے ہے، نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے‘‘مثلاً: شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا، مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈے سے تخلیق کیا۔ ﴿ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ﴾ ’’اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے‘‘ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس ﴿ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ﴾ ’’اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے؟ اور اس میں تدابیر الہٰیہ کی تمام اقسام شامل ہیں ۔اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں ﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ کہیں گے، اللہ‘‘ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ۔‘‘ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔

[32]﴿فَذٰلِكُمُ ﴾ ’’پس یہی‘‘ یعنی وہ ہستی، جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمُ ﴾ ’’اللہ ہے، تمھارا رب‘‘ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ ﴿الۡحَقُّ١ۚ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ﴾ ’’اور وہ حق ہے۔ پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے کیا ہے؟‘‘ یعنی وہ تمھارا پروردگار برحق ہے، حق کے بعد، گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے، وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم، صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ ﴿ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو‘‘ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جو خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں ۔ وہ اس کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں …

33

كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے

کہہ دیجیے! کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ یا کون ہے وہ جو مالک ہو کانوں اور آنکھوں کا؟ اورکون ہے وہ جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اورنکالتا ہے مردہ کو زندہ سے؟ اور کون ہے وہ جو تدبیر کرتا ہے تمام کاموں کی؟ پس وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دیجیے ! کیا پس نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(31) پس یہی ہے اللہ تمھارا رب سچا، پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے؟ پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟ (32) اسی طرح ثابت ہو گيا ہے کلمہ آپ کے رب کا اوپر ان لوگوں کے جنھوں نے نافرمانی کی، کہ بے شک وہ نہیں ایمان لائیں گے (33)

[31]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے توحید ربوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کون ہے جو تمھیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے‘‘ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ﴿اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا‘‘ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا، یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ كےباب سے ہے، نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے‘‘مثلاً: شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا، مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈے سے تخلیق کیا۔ ﴿ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ﴾ ’’اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے‘‘ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس ﴿ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ﴾ ’’اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے؟ اور اس میں تدابیر الہٰیہ کی تمام اقسام شامل ہیں ۔اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں ﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ کہیں گے، اللہ‘‘ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ۔‘‘ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔

[32]﴿فَذٰلِكُمُ ﴾ ’’پس یہی‘‘ یعنی وہ ہستی، جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمُ ﴾ ’’اللہ ہے، تمھارا رب‘‘ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ ﴿الۡحَقُّ١ۚ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ﴾ ’’اور وہ حق ہے۔ پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے کیا ہے؟‘‘ یعنی وہ تمھارا پروردگار برحق ہے، حق کے بعد، گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے، وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم، صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ ﴿ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو‘‘ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جو خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں ۔ وہ اس کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں …

34

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو

کہہ دیجیے! کیا ہے کوئی تمھارے (بناوٹی) شریکوں میں سے جو پہلی بار پیدا کرے مخلوق کو ، پھر دوبارہ پیدا کر دے اسے؟ کہہ دیجیے ! اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو، پھر وہی دوبارہ (بھی) پیدا کرے گا اس کو، پس کیسے ، پھرے جاتے ہو تم (34)کہہ دیجیے! کیاہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے جو ہدایت دیتا ہو حق کی طرف؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی ہدایت دیتا ہے واسطے حق کے ، کیا پس جو ہدایت دیتا ہے حق کی طرف زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس کا اتباع کیا جائے یا وہ جو نہیں ہے خود ہدایت یافتہ مگر یہ کہ وہ ہدایت دیا جائے (حق کی)؟ پس کیاہے تمھیں ؟ کیسے فیصلہ کرتے ہو تم؟(35)اور نہیں اتباع کرتے اکثر ان کے مگر ظن کی، بلاشبہ ظن (گمان) تو نہیں فائدہ دیتا حق سے کچھ بھی، بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے اس چیز کو جو وہ کر رہے ہیں (36)

[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو‘‘ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’پھر اسے دوبارہ زندہ کرے‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کر سکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔

[35]﴿ قُلِ اللّٰهُ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغیر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی معاون کی مدد کے تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس کہاں پھرے جاتے ہو تم؟‘‘ یعنی پھر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، ایسی ہستیوں کی عبادت کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر بلکہ خود مخلوق ہیں ۔﴿قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے‘‘ یعنی اپنے بیان اور راہ نمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے، حق کی طرف راہ نمائی کر سکتا ہو۔ ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ﴿ يَهۡدِيۡ لِلۡحَقِّ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف‘‘ دلائل و براہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ﴿ اَفَمَنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ يُّتَّبَؔعَ اَمَّنۡ لَّا يَهِدِّيۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّهۡدٰؔى ﴾ ’’کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح، اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔‘‘ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑے ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں ، سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔ ﴿ فَمَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل و برہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبودان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں، تب وہ کون سی …

35

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟

کہہ دیجیے! کیا ہے کوئی تمھارے (بناوٹی) شریکوں میں سے جو پہلی بار پیدا کرے مخلوق کو ، پھر دوبارہ پیدا کر دے اسے؟ کہہ دیجیے ! اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو، پھر وہی دوبارہ (بھی) پیدا کرے گا اس کو، پس کیسے ، پھرے جاتے ہو تم (34)کہہ دیجیے! کیاہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے جو ہدایت دیتا ہو حق کی طرف؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی ہدایت دیتا ہے واسطے حق کے ، کیا پس جو ہدایت دیتا ہے حق کی طرف زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس کا اتباع کیا جائے یا وہ جو نہیں ہے خود ہدایت یافتہ مگر یہ کہ وہ ہدایت دیا جائے (حق کی)؟ پس کیاہے تمھیں ؟ کیسے فیصلہ کرتے ہو تم؟(35)اور نہیں اتباع کرتے اکثر ان کے مگر ظن کی، بلاشبہ ظن (گمان) تو نہیں فائدہ دیتا حق سے کچھ بھی، بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے اس چیز کو جو وہ کر رہے ہیں (36)

[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو‘‘ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’پھر اسے دوبارہ زندہ کرے‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کر سکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔

[35]﴿ قُلِ اللّٰهُ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغیر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی معاون کی مدد کے تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس کہاں پھرے جاتے ہو تم؟‘‘ یعنی پھر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، ایسی ہستیوں کی عبادت کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر بلکہ خود مخلوق ہیں ۔﴿قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے‘‘ یعنی اپنے بیان اور راہ نمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے، حق کی طرف راہ نمائی کر سکتا ہو۔ ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ﴿ يَهۡدِيۡ لِلۡحَقِّ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف‘‘ دلائل و براہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ﴿ اَفَمَنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ يُّتَّبَؔعَ اَمَّنۡ لَّا يَهِدِّيۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّهۡدٰؔى ﴾ ’’کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح، اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔‘‘ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑے ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں ، سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔ ﴿ فَمَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل و برہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبودان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں، تب وہ کون سی …

36

وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ

اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے

کہہ دیجیے! کیا ہے کوئی تمھارے (بناوٹی) شریکوں میں سے جو پہلی بار پیدا کرے مخلوق کو ، پھر دوبارہ پیدا کر دے اسے؟ کہہ دیجیے ! اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو، پھر وہی دوبارہ (بھی) پیدا کرے گا اس کو، پس کیسے ، پھرے جاتے ہو تم (34)کہہ دیجیے! کیاہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے جو ہدایت دیتا ہو حق کی طرف؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی ہدایت دیتا ہے واسطے حق کے ، کیا پس جو ہدایت دیتا ہے حق کی طرف زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس کا اتباع کیا جائے یا وہ جو نہیں ہے خود ہدایت یافتہ مگر یہ کہ وہ ہدایت دیا جائے (حق کی)؟ پس کیاہے تمھیں ؟ کیسے فیصلہ کرتے ہو تم؟(35)اور نہیں اتباع کرتے اکثر ان کے مگر ظن کی، بلاشبہ ظن (گمان) تو نہیں فائدہ دیتا حق سے کچھ بھی، بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے اس چیز کو جو وہ کر رہے ہیں (36)

[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو‘‘ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’پھر اسے دوبارہ زندہ کرے‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کر سکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔

[35]﴿ قُلِ اللّٰهُ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغیر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی معاون کی مدد کے تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس کہاں پھرے جاتے ہو تم؟‘‘ یعنی پھر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، ایسی ہستیوں کی عبادت کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر بلکہ خود مخلوق ہیں ۔﴿قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے‘‘ یعنی اپنے بیان اور راہ نمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے، حق کی طرف راہ نمائی کر سکتا ہو۔ ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ﴿ يَهۡدِيۡ لِلۡحَقِّ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف‘‘ دلائل و براہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ﴿ اَفَمَنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ يُّتَّبَؔعَ اَمَّنۡ لَّا يَهِدِّيۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّهۡدٰؔى ﴾ ’’کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح، اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔‘‘ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑے ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں ، سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔ ﴿ فَمَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل و برہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبودان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں، تب وہ کون سی …

37

وَمَا كَانَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے

اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو غیر اللہ کی طرف سے لیکن ( یہ تو) تصدیق کرنے والا ہے ان (کتب) کی جو اس سے پہلے ہوئیں اور تفصیل بیان کرنے والا ہے تمام کتابوں کی، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، رب العالمین کی طرف سے ہے(37)کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے گھڑا ہے اسے؟ کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم ایک ہی سورت اس جیسی اور بلا لو جنھیں (بلانے کی) استطاعت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے، اگر ہو تم سچے (38)بلکہ انھوں نے جھٹلایا ایسی چیز کو کہ نہیں طاقت رکھی اس کو جاننے کی اور ابھی تک نہیں آئی تھی ان کے پاس حقیقت اس کی، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پھر دیکھیے کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (39) اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کےاور بعض ان میں سے وہ ہیں جو نہیں ایمان لاتے ساتھ اس کےاور آپ کا رب خوب جانتا ہے فساد کرنے والوں کو(40) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے! میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل ، تم بری ہو اس سے جو میں عمل کرتا ہوں اور میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو(41)

[37]﴿ وَمَا كَانَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا جائے اللہ کے ورے ورے ہی‘‘ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ١ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ﴾(حم السجدۃ:41؍42) ’’باطل کا دخل اس میں آگے سے ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔‘‘ یہ ایسی کتاب ہے ﴿ لَّىِٕنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍88) ’’اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسی کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔‘‘یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا، تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہو سکتی ہے تو اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا ﴿تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی‘‘ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں ان کی تصدیق ہے، یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے، ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الہٰیہ نے خبر دی تھی۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور کتاب کی تفصیل ہے۔‘‘ یعنی اس میں حلال و حرام، احکام دینی، احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ ﴿ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور …

38

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو

اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو غیر اللہ کی طرف سے لیکن ( یہ تو) تصدیق کرنے والا ہے ان (کتب) کی جو اس سے پہلے ہوئیں اور تفصیل بیان کرنے والا ہے تمام کتابوں کی، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، رب العالمین کی طرف سے ہے(37)کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے گھڑا ہے اسے؟ کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم ایک ہی سورت اس جیسی اور بلا لو جنھیں (بلانے کی) استطاعت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے، اگر ہو تم سچے (38)بلکہ انھوں نے جھٹلایا ایسی چیز کو کہ نہیں طاقت رکھی اس کو جاننے کی اور ابھی تک نہیں آئی تھی ان کے پاس حقیقت اس کی، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پھر دیکھیے کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (39) اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کےاور بعض ان میں سے وہ ہیں جو نہیں ایمان لاتے ساتھ اس کےاور آپ کا رب خوب جانتا ہے فساد کرنے والوں کو(40) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے! میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل ، تم بری ہو اس سے جو میں عمل کرتا ہوں اور میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو(41)

[37]﴿ وَمَا كَانَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا جائے اللہ کے ورے ورے ہی‘‘ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ١ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ﴾(حم السجدۃ:41؍42) ’’باطل کا دخل اس میں آگے سے ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔‘‘ یہ ایسی کتاب ہے ﴿ لَّىِٕنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍88) ’’اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسی کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔‘‘یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا، تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہو سکتی ہے تو اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا ﴿تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی‘‘ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں ان کی تصدیق ہے، یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے، ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الہٰیہ نے خبر دی تھی۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور کتاب کی تفصیل ہے۔‘‘ یعنی اس میں حلال و حرام، احکام دینی، احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ ﴿ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور …

39

بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا

اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو غیر اللہ کی طرف سے لیکن ( یہ تو) تصدیق کرنے والا ہے ان (کتب) کی جو اس سے پہلے ہوئیں اور تفصیل بیان کرنے والا ہے تمام کتابوں کی، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، رب العالمین کی طرف سے ہے(37)کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے گھڑا ہے اسے؟ کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم ایک ہی سورت اس جیسی اور بلا لو جنھیں (بلانے کی) استطاعت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے، اگر ہو تم سچے (38)بلکہ انھوں نے جھٹلایا ایسی چیز کو کہ نہیں طاقت رکھی اس کو جاننے کی اور ابھی تک نہیں آئی تھی ان کے پاس حقیقت اس کی، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پھر دیکھیے کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (39) اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کےاور بعض ان میں سے وہ ہیں جو نہیں ایمان لاتے ساتھ اس کےاور آپ کا رب خوب جانتا ہے فساد کرنے والوں کو(40) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے! میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل ، تم بری ہو اس سے جو میں عمل کرتا ہوں اور میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو(41)

[37]﴿ وَمَا كَانَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا جائے اللہ کے ورے ورے ہی‘‘ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ١ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ﴾(حم السجدۃ:41؍42) ’’باطل کا دخل اس میں آگے سے ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔‘‘ یہ ایسی کتاب ہے ﴿ لَّىِٕنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍88) ’’اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسی کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔‘‘یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا، تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہو سکتی ہے تو اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا ﴿تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی‘‘ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں ان کی تصدیق ہے، یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے، ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الہٰیہ نے خبر دی تھی۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور کتاب کی تفصیل ہے۔‘‘ یعنی اس میں حلال و حرام، احکام دینی، احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ ﴿ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور …

40

وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِٱلْمُفْسِدِينَ

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے

اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو غیر اللہ کی طرف سے لیکن ( یہ تو) تصدیق کرنے والا ہے ان (کتب) کی جو اس سے پہلے ہوئیں اور تفصیل بیان کرنے والا ہے تمام کتابوں کی، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، رب العالمین کی طرف سے ہے(37)کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے گھڑا ہے اسے؟ کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم ایک ہی سورت اس جیسی اور بلا لو جنھیں (بلانے کی) استطاعت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے، اگر ہو تم سچے (38)بلکہ انھوں نے جھٹلایا ایسی چیز کو کہ نہیں طاقت رکھی اس کو جاننے کی اور ابھی تک نہیں آئی تھی ان کے پاس حقیقت اس کی، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پھر دیکھیے کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (39) اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کےاور بعض ان میں سے وہ ہیں جو نہیں ایمان لاتے ساتھ اس کےاور آپ کا رب خوب جانتا ہے فساد کرنے والوں کو(40) اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے! میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل ، تم بری ہو اس سے جو میں عمل کرتا ہوں اور میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو(41)

[37]﴿ وَمَا كَانَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ لیا جائے اللہ کے ورے ورے ہی‘‘ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ١ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ﴾(حم السجدۃ:41؍42) ’’باطل کا دخل اس میں آگے سے ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔‘‘ یہ ایسی کتاب ہے ﴿ لَّىِٕنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰۤى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍88) ’’اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسی کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔‘‘یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا، تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہو سکتی ہے تو اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا ﴿تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی‘‘ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں ان کی تصدیق ہے، یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے، ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الہٰیہ نے خبر دی تھی۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور کتاب کی تفصیل ہے۔‘‘ یعنی اس میں حلال و حرام، احکام دینی، احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ ﴿ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.