Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 31–40 of 109

31

قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔۔ : بت پرستوں کی حماقتوں اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے بت پرستی کی تردید میں دلائل کا بیان شروع ہوا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہاں چار چیزیں شرک کی تردید اور توحید الٰہی کی دلیل کے طور پر پیش فرمائی ہیں، اول یہ کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟ آسمان سے بارش برسانے والا اور زمین سے تمہارے کھانے اور ضرورت کی ہر چیز پیدا کرکے تمہیں روزی دینے والا کون ہے ؟ دوم انسان کے حواس جن میں سب سے زیادہ باشرف سمع و بصر ہیں، جو انسان کے علم کا ذریعہ بنتے ہیں، یہ دونوں کس کے قبضہ میں ہیں کہ اگر چاہے تو چھین کر اندھا اور بہرا کر دے ؟ سوم موت و حیات کا اختیار کس کے پاس ہے، کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ مثلاً نطفہ اور جان دار، انڈا اور پرندے، بیج اور لہلہاتے کھیت اور درخت، مومن اور کافر میں سے ایک کو دوسرے سے کون نکالتا ہے۔ چہارم پوری کائنات کے ہر معاملہ کی تدبیر کون کرتا ہے کہ اس میں نہ کوئی خرابی ہے نہ حادثہ ؟ تدبیر میں پہلی تمام چیزیں بھی آجاتی ہیں، جو باقی رہ گئی تھیں تدبیر کی صراحت کے بعد وہ سب بھی شامل ہوگئیں۔ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔ - فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۔۔ : یہ ” سین “ تاکید کے لیے ہے، قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، یعنی یہ مشرک بھی ضرور کہیں گے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا تم ان سے کہو کہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وقت کے کافر بھی اس بات کے قائل تھے کہ کوئی اللہ کے برابر نہیں اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، مگر بتوں یا بزرگوں کو اس کی جناب میں اپنا وکیل اور وسیلہ سمجھ کر مانتے تھے، اس سے کافر ہوگئے۔ سو اب بھی جو کوئی کسی مخلوق کے لیے عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے اس پر شرک ثابت ہوجاتا ہے، گو اللہ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کو ثابت نہ کرے۔

32

فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے۔ اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ثابت شدہ، سچا، یعنی تمہارے رزق، موت و حیات، تمہارے جسم کا مالک و خالق اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا جب تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو تو جان لو کہ پھر تمہارا سچا، ثابت شدہ اور حق رب تو یہی اللہ ہے۔ اب خواہ کوئی بھی چیز ہو وہ یا تو حق ہوگی یا باطل، دونوں نہیں ہوسکتیں کہ حق بھی ہو باطل بھی، تو جب اللہ کا رب اور مالک ہونا حق ہے اور صرف اسی کا صاحب اختیار ہونا حق ہے تو پھر کسی اور کا صاحب اختیار ہونا یا اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی قوت رکھنے والا ہونا باطل نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرتے ہو۔ سوچو راہ حق سے کیسے ہٹائے جا رہے ہو ؟- فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ حق ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، یہ بات کہ جو جہاں لگا ہوا ہے لگا رہنے دو ، سب ٹھیک ہیں، یا مسلمانوں میں خیر القرون کے بعد بننے والے چاروں سنی فرقے، حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی سب حق ہیں، اس آیت کے خلاف ہے۔ ان تمام مذاہب کی ہر بات ایک ہی وقت میں حق کیسے ہوسکتی ہے ؟ ان کے اختلافی مسائل میں حق مسئلہ اگر ہوا تو صرف ایک ہوگا، دوسرے خطا ہوں گے۔ مجتہد کو اگرچہ خطا کے باوجود اس کی نیک نیتی اور محنت کا ایک اجر مل جائے گا مگر اس کی خطا کو حق ہرگز نہیں کہہ سکتے، مثلاً ایک فرقے کی یہ بات کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ صرف انگور یا کھجور کی بنائی ہوئی شراب حرام ہے، باقی نشہ آور چیزیں سب حلال ہیں، دونوں حق کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ایک کی یہ بات کہ اجرت پر لا کر کسی عورت سے زنا کرے تو اس پر حد ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ اجرت پر لائی ہوئی عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں، دونوں کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ ایک مسلک کا یہ کہنا کہ ماں بہن سے نکاح کی حرمت کے علم کے باوجود نکاح کرکے زنا کرلے تو حد نہیں اور دوسرے کا یہ کہنا کہ یہ حرکت تو ارتداد ہے جس کی حد قتل ہے، دونوں باتیں کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ پھر بہت سے ائمہ کا کہنا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اعمال ایمان کا جز ہیں اور ہمارے اور انبیاء و ملائکہ و صحابہ کے ایمان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض حضرات کا یہ کہنا کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، اعمال خواہ نماز روزہ ہی ہوں، ایمان کا جز نہیں اور چونکہ تصدیق اور اقرار ہم نے بھی کیا ہے، جبریل (علیہ السلام) اور ابوبکر (رض) نے بھی کیا ہے، سو ایمان میں ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کہ کسی کا کم ہو یا کسی کا زیادہ، سب کا برابر ہے۔ آپ خود ہی بتائیں اتنے تضاد کے باوجود دونوں حق کس طرح ہوگئے ؟ خلاصہ یہ کہ ہر دو متضاد چیزوں میں اگر ایک حق ہے تو یقیناً دوسری ضلال اور گمراہی ہوگی۔

33

كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ۔۔ : یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا، یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سواکچھ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو لوگ فسق اختیار کریں، یعنی جان بوجھ کر ضد اور سرکشی اختیار کریں وہ ایمان نہیں لایا کرتے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش اور نافرمان ہوں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔ “ (موضح)

34

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ۔۔۔۔ تُؤْفَكُوْنَ ” اِفْکٌ“ کا معنی ہے کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا، ہٹا دینا۔ اس لیے جھوٹ اور بہتان کو بھی ” اِفْکٌ“ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بھی سننے والے کو اصل بات سے پھیر دیا جاتا ہے۔ یعنی آپ ان سے پوچھیں کیا تمہارا کوئی شریک ایسا ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بنائے ؟ جیسا کہ اللہ نے انسان کو مٹی سے، پھر نطفہ، پھر علقہ، غرض تمام منازل سے گزار کر پیدا کیا، اسی طرح ساری مخلوق کی ابتدا اس نے کی اور دوبارہ بھی وہی بنائے گا۔ وہ جواب میں خاموشی اختیار کریں گے، اگر کوئی ایسا شریک ہے تو اس کا نام لو۔ اب نہ وہ ایسے شریک کا نام لے سکتے ہیں، کیونکہ خود مان چکے ہیں کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نہ وہ یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے شرکاء میں سے کوئی ایسا نہیں، کیونکہ اس سے ان کے شرکاء کی حقیقت کھلتی اور ان کی بےبسی ظاہر ہوتی ہے، اس لیے وہ جواب ہی نہیں دیں گے۔ سو اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود فرمائیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جو پہلے پیدا کرتا ہے دوبارہ بھی وہی اٹھائے گا۔ پھر اس کے باوجود تم کیسے گوارا کرتے ہو کہ سیدھے راستے، یعنی توحید کو چھوڑ کر صاف گمراہی، یعنی شرک کی طرف پھیر دیے جاؤ جو سراسر افک (جھوٹ) ہے۔

35

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ ۔۔ : ” يَّهْدِيْٓ“ ہدایت دیتا ہے۔ ” لَّا يَهِدِّيْٓ“ اصل میں ” لاَ یَھْتَدِیْ “ تھا، تاء کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا، جس کا معنی ہے ہدایت نہیں پاتا، یعنی آپ ان سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرکے ان کی حق کی طرف راہنمائی کا انتظام بھی فرمایا، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، شریعت مقرر فرمائی، کائنات کا نہایت دقیق و مستحکم نظام مقرر کیا کہ اس کے مقرر کردہ راستے سے کوئی چیز ایک ذرہ ادھر ادھر نہیں ہوتی۔ انسان کو پیدا ہوتے ہی پستان چوسنا سکھایا، فرمایا : (ۙوَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ ) [ البلد : ١٦ ] ” اور ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیے۔ “ بطخ کو تیرنا، پرندوں کو اڑنا، درندوں کو شکار کرنا، چرندوں کو چرنا، بلبل کو پھول کی طرف رغبت، پروانے کو جلنا، ماں کو محبت کی طرف، موذی اشیاء کو دشمنی کی طرف راہ نمائی کون کر رہا ہے ؟ اسی طرح زمین، آسمان، سورج، چاند، سیاروں، کہکشاؤں، سمندروں اور بادلوں کا راستہ کہاں سے متعین ہو رہا ہے ؟ غرض ہر چیز محض اللہ کی ہدایت کے مطابق چل رہی ہے، کسی داتا یا دستگیر کا اس میں کوئی دخل ہے تو پیش کرو۔ بتاؤ تمہارا وہ شریک کون سا ہے جس نے حق کی طرف ہدایت کا کام کیا ہو، یا کائنات کے راہ راست پر چلنے کے نظام میں اس کا کوئی دخل ہو۔ اب خود ہی بتاؤ کہ وہ ذات پاک جو حق کی طرف ہدایت دیتی ہے، شرعی طور پر بھی اور کونی طور پر بھی، اس کا اتباع کیا جانا چاہیے، یا وہ شرکاء جو اللہ تعالیٰ کی ” کونی “ ہدایت کے بغیر خود اپنا راستہ معلوم نہیں کرسکتے، جنھیں کھانا، پینا، چلنا، دیکھنا سب کچھ اللہ تعالیٰ نے سکھایا، وہ خود کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ رازی نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اکثر اپنی توحید کے اثبات کے لیے خلق کے ساتھ ہدایت کو بھی ذکر فرمایا ہے، چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قول : (ۙالَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ ) [ الشعراء : ٧٨ ] ” وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے۔ “ اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قول : (قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى) [ طٰہٰ : ٥٠ ]” ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔ “ اور ہمارے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اسی کا حکم دیا، چناچہ فرمایا : (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙالَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى ۝۽وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى ) [ الأعلٰی : ١ تا ٣ ]” اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔ وہ جس نے پیدا کیا، پھر درست بنایا۔ اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر راستہ دکھایا۔ “ - فَمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ : یہ دو جملے ہیں ڈانٹنے کے لیے اور حق کی طرف توجہ دلانے کے لیے، دو طرح سے سوال کیا، ایک یہ کہ تمہیں کیا ہوگیا ؟ دوسرا یہ کہ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو ؟

36

وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ

اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے

وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا۔۔ : ظن کا لفظ اگرچہ بعض اوقات یقین پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ ) [ البقرۃ : ٤٦ ] ” وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔ “ بعض اوقات غالب گمان کے معنی میں بھی آتا ہے، جو صحیح گمان ہو، اگرچہ اس میں خطا کا بھی نہایت کمزور سا احتمال ہو۔ جہاں یہ معانی مراد ہوں وہاں اس کا قرینہ اور دلیل بھی موجود ہوتی ہے۔ اس معنی میں ظن پر دنیا کے تمام معاملات چل رہے ہیں، جب تک کسی دلیل سے اس کا غلط ہونا ثابت نہ ہو اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ خط، ٹیلی فون، پیغام کے ذریعے سے پہنچنے والی تمام خبریں ظنی ہوتی ہیں، کیونکہ ان میں غلطی یا جعل سازی کا کمزور سا احتمال موجود ہوتا ہے، مگر سب لوگ ان پر عمل کرتے، ان کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں اور شرعی احکام پر بھی عمل کرتے ہیں، خطا کے احتمال کی پروا نہیں کرتے۔ خبر واحد یا حدیث کو بعض لوگ جو ظنی کہتے ہیں وہ اسی معنی میں ہے، اگرچہ فی نفسہ یہ بات درست نہیں کہ احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظنی ہیں، بلکہ صحیح احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعی اور یقینی ہیں، خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام احادیث اور دوسری کتب کی سنداً صحیح احادیث سب یقینی اور قطعی ہیں اور ان پر عمل واجب ہے۔ البتہ عام طور پر ظن کا جو معنی مراد لیا جاتا ہے وہ ہے ایسا وہم و گمان اور خیال جس کی کوئی بنیاد نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ اکثر اسی مذموم معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور ایسے استعمال کے موقع پر اس کی مذمت کا قرینہ بھی موجود ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ ) [ بخاری، النکاح، باب لا یخطب علی خطبۃ أخیہ۔۔ : ٥١٤٣ ] ”(ظن) گمان سے بچو، کیونکہ ظن (گمان) سب سے جھوٹی بات ہے۔ “ اس ظن سے وہ بےبنیاد بات مراد ہے جو محض کسی کی تقلید یا وہم و خیال پر مبنی ہو اور اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ مشرکین کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ محض ظن، یعنی بےبنیاد وہم و خیال کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، جس کی نہ کوئی حقیقت ہے نہ دلیل، جیسا کہ لات، عزیٰ اور منات کے پجاریوں کے متعلق فرمایا : (اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ ) [ النجم : ٢٣ ] ” یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔ “ اور فرشتوں کا نام عورتوں والا رکھنے والے مشرکوں کے متعلق فرمایا، جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے : (وَمَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا ) [ النجم : ٢٨ ] ” حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بیشک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ “ یہاں بھی ظن کا یہی معنی ہے، کیونکہ یہ حق کے مقابلے میں آیا ہے اور صاف واضح ہے کہ اللہ کا شریک بنانے والے علم سے بالکل کورے اور کسی بھی عقلی یا نقلی دلیل سے بالکل خالی ہاتھ ہیں اور ایسے وہم و گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتے۔ اسی مفہوم کی تائید کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (٦٦) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی جو لوگ پکارتے ہیں حقیقت میں کوئی ایسا شریک ہے ہی نہیں جسے وہ پکارتے ہوں، بلکہ محض اپنے دماغ کے بنائے ہوئے خیالی خاکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ - 3 یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے اکثر محض گمان کی پیروی کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں تمام مشرکین محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، تو مفسرین نے اسے دو طرح سے حل کیا ہے، ایک تو یہ کہ اکثر سے مراد وہ سب کے …

37

وَمَا كَانَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے

وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی توحید ثابت کرنے اور شرک کی تردید کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کا بیان فرمایا کہ یہ ہرگز ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اپنے پاس سے بنا لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ایسے شخص پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، تصنیف تو بہت دور کی بات ہے۔ تم بھی اہل زبان ہو، بڑے بڑے شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت رکھنے والے مصنف ہو، اگر یقین نہ ہو کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تمہیں اصرار ہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو تم تمام جن و انس ایک دوسرے کی مدد کرکے اس جیسی کتاب تصنیف کرکے دکھا دو ۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٨٨) پھر یہ نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ نے دس سورتوں کا چیلنج کیا۔ دیکھیے سورة ہود (١٣) جب یہ بھی نہ کرسکے تو یہاں سورة یونس مکی میں اس کی مثل ایک سورت لانے کا چیلنج کیا، پھر مدینہ میں یہی چیلنج سورة بقرہ (٢٣) میں دوبارہ دوہرایا۔ قارئین یہ سب مقامات ملاحظہ فرما لیں، آج تک کوئی مشرک کافر سورة الکوثر کے برابر تین آیتوں کی سورت بھی نہیں لاسکا، جسے کسی اہل زبان یا صاحب عقل نے تسلیم کیا ہو۔ ” وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ “ اللہ تعالیٰ نے قرآن کا وصف بیان فرمایا کہ یہ پہلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور رب العالمین کی طرف سے انسان کے لیے تمام ضروری عقائد و اعمال کی تفصیل پر مشتمل کتاب ہے۔

38

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو

Explained together with ayah 37

39

بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ : یعنی یہ لوگ جو قرآن کو جھٹلا رہے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لا رہے، ان کے جھٹلانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھوں نے نہ اسے پوری طرح جانا اور نہ اس کے مطالب و مضامین سمجھنے کی کوشش کی، ان کی بنیاد جہالت، ہٹ دھرمی اور باپ دادا کی اندھی تقلید پر ہے، انھوں نے محض یہ دیکھ کر کہ قرآن ان کے موروثی عقائد و خیالات کی تردید کرتا ہے، جھٹ سے اس کا انکار کردیا، ورنہ قرآن کا ایسے حقائق کے بیان پر مشتمل ہونا جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں اور جن کی تہ تک یہ نہیں پہنچ سکتے کسی طرح بھی جھٹلانے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ قصور ان کے فہم کا ہے قرآن کا نہیں۔ (روح المعانی، کبیر) یہی حال ان حضرات کا بھی ہے جو محض اپنے بزرگوں اور اماموں کی تقلید کے چکر میں پھنس کر صحیح حدیث سے انکار کردیتے ہیں، حالانکہ اگر وہ ان صحیح احادیث پر غور کرتے اور انھیں سمجھنے کی کوشش کرتے تو کبھی صحیح حدیث کو رد نہیں کرسکتے تھے۔ - وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ : یعنی ان کے قرآن کو جھٹلانے کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ یہ کہ وہ اس کی تاویل و تفسیر سمجھنے سے قاصر ہیں اور قرآن جن غیبی چیزوں پر مشتمل ہے ان کا وقوع ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے، ورنہ اگر وہ غور و فکر کرتے اور جن امور کی پیش گوئی قرآن مجید میں کی گئی ہے ان کے واقع ہونے کا انتظار کرتے تو ان کا انکار از خود ہی زائل ہوجاتا۔ (روح المعانی) ” وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ “ کے متعلق شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” یعنی جو وعدہ ہے اس قرآن میں وہ ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ “ (موضح)- فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ : یعنی وہ ظالم سب کے سب برباد ہوگئے، فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ) [ العنکبوت : ٤٠ ] ” تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ “ اسی طرح اب یہ بھی اپنی تباہی و بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔

40

وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِٱلْمُفْسِدِينَ

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے

وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ : یعنی ان کفار میں دو طرح کے لوگ ہیں، بعض ایسے ہیں جنھیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس جیسی معجز تصنیف کرلینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے، مگر وہ ہٹ دھرمی سے اسے جھٹلائے جا رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل عقل کے اندھے اور سمجھ کے کورے ہیں، انھیں اس قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا واقعی یقین نہیں ہے۔ اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ کفر پر قائم رہیں گے۔ یہ مطلب بھی درست ہے۔ - وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بالْمُفْسِدِيْنَ : جو خواہ مخواہ تعصب اور ہٹ دھرمی سے قرآن کے برحق ہونے سے انکار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے دل میں اس کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہیں، یا تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ان میں سے کفر پر اڑا رہے گا اور کون اس کفر سے باز آجائے گا۔ گویا مفسدین کا معنی ہے مسلمان نہ ہونے والے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.