قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ
(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟
18: عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس نے بیشتر اختیارات مختلف دیوتاؤں کو سونپ دئیے ہیں جو خدائی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ہیں، اور اب ان کو راضی رکھنے کے لیے ان کی عبادت کرنی چاہئے۔ اس لیے یہ آیت کریمہ ان پر یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ جب تم خود مانتے ہو کہ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے تو پھر کسی اور کی عبادت کرنا کیسی بے عقلی کی بات ہے۔