وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں
10: جب تک مصیبت کا سامنا تھا، اس وقت تک تو بس اللہ ہی یاد آتا تھا، لیکن جب اس کی رحمت سے مصیبت دور ہوجاتی ہے اور اچھا وقت آتا ہے تو اس کی اطاعت سے منہ موڑنے کے لیے حیلے بہانے شروع ہوجاتے ہیں، جس کی مثال آگے آیت نمبر 22 میں آ رہی ہے۔
11: اللہ تعالیٰ کے لیے چال کا لفظ ایک طنز کے طور پر ہے اور اس سے مراد ان کی چالبازیوں کی سزا دینا ہے۔