Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 109

21

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں

اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا : یعنی جب ہم لوگوں کو بیماری کے بعد شفا، قحط کے بعد خوش حالی، جنگ کے بعد امن یا انھیں پہنچنے والی کسی بھی تکلیف کے بعد اپنی کسی رحمت کی لذت چکھاتے ہیں تو ہمارے شکر گزار ہو کر ہماری توحید اور ہمارے رسول کی رسالت ماننے کے بجائے اسے جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے کی کوئی نہ کوئی چال اختیار کرتے ہیں۔ ” مکر “ کا معنی خفیہ تدبیر ہے، جو شر کے لیے ہو، یہ لفظ کبھی خیر کے لیے بھی استعمال ہوجاتا ہے، یا مقابلے میں بول لیا جاتا ہے۔ کفار کی اس عادت کی مثال فرعون کا پے در پے معجزے دیکھ کر انھیں جادو کہہ کر ایمان لانے سے انکار ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (١٣٠ تا ١٣٦) انسان کی اس عادت کا تذکرہ سورة زمر (٨) ، ہود (١٠) اور اعراف (٩٥) میں بھی کیا گیا ہے۔ - قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا : اللہ کی چال سے مراد وہ سزا ہے جو وہ مشرکین کو ان کی مکاریوں اور چال بازیوں پر دیتا ہے اور وہ ہے اس کا انھیں ان کی باغیانہ روش پر چھوٹ دینا اور انھیں اپنے رزق اور نعمتوں سے نوازتے رہنا، تاکہ وہ جی بھر کر اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔ - اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ : یعنی جب تمہارا نامۂ اعمال خوب سیاہ ہوجائے گا تو اچانک موت کا پیغام آجائے گا اور تم اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے دھر لیے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر اللہ پر رہتی ہے، جب کام بن گیا تو لگا اسباب پر نگاہ رکھنے۔ سو ڈرتا نہیں کہ اللہ پھر کوئی سبب کھڑا کر دے اسی تکلیف کا، سب اسباب اس کے ہاتھ میں (ہر وقت) تیار ہیں، ایک اسی کی صورت آگے اور فرمائی۔ “ (موضح)

22

هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں

ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۔۔ : اس آیت میں بھی پہلے مشرکین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔ آگے چل کر ان کا ذکر غائب کے ساتھ کیا کہ وہ کشتیاں انھیں لے کر چل پڑتی ہیں۔ مخاطب کو غائب کے الفاظ سے ذکر کرنا التفات کہلاتا ہے۔ یہ التفات بھی ناراضگی کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ لوگ اپنی بدعہدی کی وجہ سے خطاب کے قابل نہیں، اس لیے ان کا غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ جب وہ کشتیاں موافق اور طیب ہوا کے ساتھ ان کی خواہش کے مطابق چل رہی ہوتی ہیں تو اچانک تند و تیز آندھی آجاتی ہے اور انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ وہ گھیرے میں آ چکے ہیں، اب اگر اللہ تعالیٰ نہ بچائے تو بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ - دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ : تو یہ مشرک لوگ (جو خطاب کے قابل ہی نہیں ہیں) اپنی پوری عبادت اور اطاعت ایک اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں اور اپنے تمام معبودوں اور بتوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)- لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ : یہ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کا حال بیان فرمایا ہے، مگر ہمارے زمانے کے بعض نام کے مسلمانوں کا حال ان سے بھی بدتر ہے، ان پر جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے، مثلاً دریا میں ڈوبنے یا آگ میں جلنے لگتے ہیں تو بھی شرک سے توبہ نہیں کرتے اور وہی ” یا خواجہ خضر “ ” یا علی مدد “ کا نعرہ لگاتے ہیں، مرتے اور ڈوبتے وقت بھی اللہ کو نہیں پکارتے۔ [ لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ ]

23

فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ ۔۔ : یعنی طوفان سے بچ نکلنے پر پھر وہی ناحق سرکشی اور ظلم شروع کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ مشرکین کے اس رویے کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت ( ٦٥، ٦٦) اور لقمان ( ٣٢) ہاں، کوئی سعادت مند ہو تو اپنے عہد پر قائم رہتا ہے مگر وہ اتنے کم ہیں کہ نہ ہونے کے برابر ہیں، جیسا کہ سعد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن چار مردوں اور دو عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ جہاں پائے جائیں قتل کردیے جائیں۔ ان میں سے ایک عکرمہ بن ابوجہل بھی تھے۔ عکرمہ نے یہ سنا تو سمندر کے راستے راہ فرار اختیار کی، لیکن جب سفر شروع ہوا تو کشتی والوں کو تند و تیز ہوا نے آلیا۔ (لوگ اپنے اپنے خداؤں کو پکارنے لگے) کشتی والوں نے کہا : ( أَخْلِصُوْا فَإِنَّ آلِھَتَکُمْ لاَ تُغْنِیْ عَنْکُمْ شَیْءًا ھٰھُنَا، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ وَاللّٰہِ لَءِنْ لَمْ یُنَجِّنِیْ مِنَ الْبَحْرِ إِلاَّ الإِْخْلَاصُ لَا یُنَجِّیْنِیْ فِی الْبَرِّ غَیْرُہٗ ، اَللّٰھُمَّ إِنَّ لَکَ عَلَیَّ عَھْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَیْتَنِیْ مِمَّا أَنَا فِیْہِ أَنْ آتِیَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی أَضَعَ یَدِيْ فِيْ فَلَأَجِدَنَّہُ عَفُوًّا کَرِیْمًا فَجَاءَ فَأَسْلَمَ ) [ نسائی، تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد : ٤٠٧٢، وصححہ الألباني ] ” خالص اللہ کو پکارو، کیونکہ اس وقت یہاں تمہارے (خود ساختہ) معبود تمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ “ عکرمہ نے (دل میں) کہا : ” اللہ کی قسم اگر سمندر میں نجات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات دے سکتی ہے تو پھر خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، اے اللہ اگر تو نے مجھے اس طوفان سے نجات دے دی تو میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا، کیونکہ میں انھیں بہت درگزر کرنے والا، مہربان پاتا ہوں۔ “ چناچہ وہ آئے اور مسلمان ہوگئے۔ “ - يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۔۔ : یعنی اس سرکشی کا وبال تمہاری اپنی ہی جانوں پر ہے، اس سے تم کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا سکو گے، دنیوی زندگی کا تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو، آخر تمہیں ہمارے پاس ہی آنا ہے، پھر ہم تمہیں بتلائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو، یعنی پھر ہم تمہیں ایسی سزا دیں گے جس سے تمہیں پتا چل جائے گا کہ تم کتنا بھاری ظلم کرتے رہے ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ یُّعَجِّلَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِصَاحِبِہٖ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا مَعَ مَا یَدَّخِرُ لَہٗ فِی الْآخِرَۃِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِیْعَۃِ الرَّحِمِ ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب فی النہي عن البغی : ٤٩٠٢، عن أبي بکرۃ (رض) ]” کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دنیا میں بھی جلدی دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کی سزا باقی رکھے سوائے ظلم و زیادتی اور قطع رحمی کے۔ “

24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًۭا فَجَعَلْنَٰهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ تم یہاں جتنی بھی سرکشی کرلو یا لذتوں میں مست ہو کر ہماری آیات کو جھٹلا لو، یہ دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور بہت جلد فنا ہوجانے والا ہے۔ اس آیت میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ آسمان سے پانی برسنے سے زمین میں سے لوگوں کے اور ان کے چوپاؤں کے کھانے اور لذت حاصل کرنے کے لیے مختلف فصلیں، کھیتیاں، چارا اور پھل پیدا ہوئے، پھر خوب پھلے پھولے، زمین سج گئی، مالک سمجھنے لگے کہ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کی اور اس سے غلہ، میوے اور سبزیاں حاصل کرنے کی پوری قدرت حاصل ہے۔ - اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا۔۔ : ” اَمْرُنَا “ سے مراد اس کے فنا کا حکم ہے، خواہ وہ پک کر زرد ہوگئی ہو اور کاٹ لی گئی ہو، یا پھر کسی دشمن نے کچی ہی برباد کردی ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت سیلاب، پالے، آگ یا طوفان کی شکل میں آ پڑی کہ پکنے سے پہلے کچی ہی اس طرح کٹ کرنا پید ہوگئی گویا کبھی یہاں رہی ہی نہیں۔” حصید “ بمعنی ” مَحْصُوْدٌ“ یعنی کٹی ہوئی۔- كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بالْاَمْسِ : ” لَمْ تَغْنَ “ ” غَنِیَ یَغْنٰی “ (ع) کسی جگہ رہنا۔ یہی حال انسانی زندگی کا ہے، روح پانی کی طرح آسمان سے اترتی ہے اور بدن اس سے مل کر خوب پھلتا پھولتا ہے، جب جوانی پر آتا ہے تو علم و ہنر سیکھتا ہے اور امید ہوجاتی ہے کہ چند روز جی کر مزے اڑائیں گے، گھر والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اب کما کر لائے گا کہ یکایک موت آجاتی ہے اور تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیتی ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے ” كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بالْاَمْسِ “ (جیسے وہ کل تھا ہی نہیں) ، کچھ مدت بعد وہ ذہنوں سے بھی محو ہوجاتا ہے اور اگر وہ اپنی عمر پوری بھی کرلے تو جس طرح پکی ہوئی کھیتی کاٹ لی جاتی ہے یا خود بخود ہی چورا بن کر بکھر جاتی ہے، اسی طرح بڑھاپے کے بعد یہ بھی فنا کی نذر ہوجاتا ہے۔ سورة حدید (٢٠) اور قلم (١٧ تا ٣٣) میں بھی دنیا کی بےثباتی کا نقشہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے ایک لمبی حدیث میں آیا ہے : ( یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ ھَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ ؟ فَیَقُوْلُ لاَ وَاللّٰہِ یَا رَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسَا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ ؟ فَیَقُوْلُ لاَ وَاللّٰہِ یَا رَبِّ مَا مَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ ) [ مسلم، صفات المنافقین، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار : ٢٨٠٧، عن أنس (رض) ] ” قیامت کے دن اس شخص کو جو اہل جہنم میں سے دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، لایا جائے گا، اسے آگ میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا : ” کیا تم نے کبھی کوئی خوشحالی دیکھی، کیا تیرے پاس آسودگی آئی ؟ “ وہ جواب دے گا : ” نہیں اللہ کی قسم اے میرے رب “ پھر اہل جنت میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ بدحال تھا، اسے جنت میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا : ” کیا تم نے دنیا میں کوئی بدحالی دیکھی، یا کوئی سختی پہنچی ؟ “ وہ جواب دے گا :” نہیں اللہ کی قسم اے میرے رب مجھے کوئی سختی نہیں پہنچی اور میں نے کوئی بدحالی نہیں دیکھی۔ “ - یَتَفَکَّرُوْن : تاکہ ان پر غور کریں اور ان سے سبق حاصل کریں۔

25

وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَار السَّلٰمِ ۔۔ : اوپر کی آیت میں دنیا اور اس کے بہت جلد زوال کا ذکر کرکے لوگوں کو اس کی طرف مائل ہونے سے نفرت دلائی، اب اس آیت میں جنت کی ترغیب دی اور جنت کا نام ” دار السلام “ رکھا۔ دیکھیے سورة انعام (١٢٥ تا ١٢٧) یعنی جو ہر قسم کے آفات و آلام سے پاک ہے اور اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے، فرشتے ہر طرف سے اس میں سلام کریں گے اور اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کا تحیہ پیش کریں گے، فرمایا : (تَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ) [ یونس : ١٠ ] ” اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی۔ “ رب رحیم کی طرف سے بھی سلام کی نعمت سے سرفراز ہوں گے، فرمایا : (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) [ یٰسٓ : ٥٨] ” سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بیحد مہربان ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے جنت کی دعوت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے دی ہے، چناچہ جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جبریل اور میکائیل نے آپس میں میرے لیے ایک مثال بیان کی کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک محل بنایا، پھر اس میں ایک شان دار دعوت کا اہتمام کیا اور لوگوں کو بلانے کے لیے ایک بلانے والا بھیجا، پس جس شخص نے اس بلانے والے کے کہنے کو قبول کیا وہ تو محل میں بھی داخل ہوگا اور کھانا بھی کھائے گا اور جو بلانے والے کے کہنے کو قبول نہیں کرے گا وہ نہ تو محل میں داخل ہوگا اور نہ کھانا کھائے گا، پھر انھوں نے کہا، اس کے لیے اس کی وضاحت کرو، تاکہ یہ سمجھ جائے تو ایک نے کہا کہ وہ محل جنت ہے اور اس کی طرف بلانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، تو جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی، تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے (اچھے برے کے) درمیان فرق (کرنے والے) ہیں۔ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٧٢٨١ ]

26

۞ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌۭ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌۭ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ: احسان کی تفسیر حدیث جبریل میں ہے، فرمایا : ( أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہٗ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ ) [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ : ٥٠ ] ” اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو یقیناً وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ “ مقصد یہ کہ خلوص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو جنت کے ساتھ ایک عظیم زائد چیز بھی عطا ہوگی۔ ” زِیَادَۃٌ“ میں تنکیر تعظیم کے لیے ہے۔ - جنت کی دعوت دینے کے بعد اس کی سعادتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں ” اَلْحُسْنیٰ “ جو ” أَحْسَنُ “ کی مؤنث ہے، اس کا معنی سب سے اچھا بدلہ ہے اور فرمایا ایک عظیم زائد چیز بھی ہے۔ ” زِیَادَۃٌ“ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس ” زِیَادَۃٌ“ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔ یہی مفہوم سورة نساء (١٧٣) ، نور (٣٨) اور سورة ق (٣٥) میں بیان ہوا ہے۔ متعدد صحیح احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چناچہ صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ) اور فرمایا : ” جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اس وقت ایک منادی کرنے والا پکارے گا : ” اے جنت والو اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی پورا کردیا جائے۔ “ وہ کہیں گے : ” وہ کون سا وعدہ ہے ؟ کیا اس نے ہمارے میزان (نیک اعمال کے تول) بھاری نہیں کردیے ؟ کیا اس نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیے، ہمیں جنت میں داخل اور آگ سے محفوظ نہیں کردیا ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فَیُکْشَفُ لَھُمُ الْحِجَابُ فَیَنْظُرُوْنَ إِلَیْہِ ، قَالَ : ” فَوَاللّٰہِ مَا أَعْطَاھُمْ شَیْءًا أَحَبَّ إِلَیْھِمْ مِنَ النَّظْرِ إِلَیْہِ وَلاَ أَقَرَّ بِأَعْیُنِھِمْ ) [ مسند أحمد : ٤؍ ٣٣٣، ح : ١٨٩٦٥۔ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین۔۔ : ١٨١ ]” اس وقت ان کے لیے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔ “ پھر فرمایا : ” اللہ کی قسم انھیں اب تک ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو انھیں اس دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور اس میں ان کی آنکھوں کے لیے اس سے زیادہ ٹھنڈک ہو۔ “ اس آیت کی تفسیر ایک دوسری آیت اور اس کی تفسیر سے بھی ہوسکتی ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (٧٢) ۔

27

وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍۢ ۖ كَأَنَّمَآ أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ ۔۔ : اوپر محسنین (نیکی کرنے والوں) کا بیان تھا، اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سیئات (برائیوں) کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ” سَیِّئَۃٍ “ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” کسی بھی برائی “ کیا ہے۔ گزشتہ آیت میں ذکر ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہت اچھا، یعنی جنت اور مزید دیدارِ الٰہی کی صورت میں ملے گا، اب بتایا کہ برائی خواہ کوئی ہو اس کا بدلہ صرف اس کے برابر ملے گا، زیادہ یا کئی گنا نہیں ملے گا۔ انھیں بہت بڑی ذلت گھیرے ہوئے ہوگی، یعنی ” ذِلَّۃٌ“ میں تنوین تہویل و تعظیم کے لیے ہے۔ - مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ : حقیقت میں تو دنیا ہو یا آخرت، کہیں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، مگر انسان دنیا میں بہت سے سہارے تلاش کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعے سے میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے، مگر آخرت میں اس قسم کے سب اسباب ختم ہوجائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں، جیسا کہ سورة قیامہ میں فرمایا : (ۙيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ 10۝ۚكَلَّا لَا وَزَرَ 11۝ۭاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرّ ) [ القیامۃ : ١٠ تا ١٢ ] ” اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں، اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔ “- اَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا : ” غَشِیَ یَغْشٰی “ (ع) ڈھانپنا۔ ” اَغْشٰی یُغْشِیْ “ (افعال) کسی پر کوئی چیز ڈال دینا جو اسے ڈھانپ لے۔ ان کے چہروں کی حد سے بڑھی ہوئی سیاہی کو تشبیہ دی ہے کہ گویا اندھیری رات کے اندھیروں کے کئی ٹکڑے ملا کر ان کے چہروں پر ڈال دیے گئے ہوں، جنھوں نے ان کو ڈھانپ رکھا ہو۔ مجرموں کے چہروں کی سیاہی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورة آل عمران (١٠٦، ١٠٧) ، قیامہ (٢٢ تا ٢٥) اور عبس (٣٨ تا ٤١) ” مٗظٌلِماً “ یہ ” اَلَّیٌلِ “ سے حال ہے۔

28

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا : اس آیت میں بھی کفار کی ایک رسوائی بیان کی گئی ہے کہ جس دن ہم شروع سے آخر تک کے تمام جن و انس، مسلم و کافر اور نیک و بد کو اکٹھا کریں گے (دیکھیے کہف : ٤٧۔ مریم : ٩٣، ٩٤) اس دن شرک کرنے والوں اور جنھیں وہ شریک بناتے رہے ان سب کو بھی اکٹھا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی عظمت و رفعت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے کہ ” ہم “ جمع کریں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے واحد، احد ہونے میں کیا شک ہے، پورا قرآن ہی یہ سمجھانے کے لیے نازل ہوا کہ وہ ذات پاک وحدہ لا شریک لہ ہے۔ - ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور جنھیں تم نے شریک بنایا تھا اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تاکہ تمہارے لیے تمہارے شرک اور شرکاء کی حقیقت واضح ہوجائے۔ - فَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ : ان کے درمیان علیحدگی کرنے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مسلم و کافر الگ الگ کردیے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) [ یٰسٓ : ٥٩ ] ” اور الگ ہوجاؤ آج اے مجرمو “ اور دیکھیے سورة روم (١٤ تا ١٦، ٤٣) اور ایک مطلب یہ ہے کہ شرک کرنے والوں کو اور ان کے قرار دیے گئے شرکاء کو اپنی اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دے کر ان کی گفتگو کروائی جائے گی۔ مشرک ان سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہاری عبادت کرتے رہے، مشکل کے وقت پکارتے رہے، اپنے نفع نقصان کا مالک سمجھتے رہے، قیامت کے دن تمہاری پناہ میں آ کر عذاب سے بچانے کی درخواست کرتے رہے۔ - وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ : وہ شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے، معلوم نہیں کس کی عبادت کرتے رہے ہو ؟ دنیا میں جن لوگوں کی پرستش کی گئی ان میں سے کچھ وہ تھے جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے، جیسے فرعون، ابلیس وغیرہ اور کچھ وہ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے، بلکہ اللہ کا شریک کسی کو بھی بنانے سے منع کرتے تھے، جیسے انبیاء و صالحین۔ اب جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، تو وہ سب لوگ جن کی عبادت اور پرستش کی گئی اپنے پرستش کرنے والوں سے صاف لاتعلق ہوجائیں گے، جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے وہ بھی، جیسا کہ سورة بقرہ (١٦٥ تا ١٦٧) میں مذکور ہے اور وہ بھی جو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے تھے، جیسا کہ مسیح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء و صلحاء۔ ان سب کی اپنی عبادت کرنے والوں سے اور پوجنے پکارنے والوں سے صاف بری اور لاتعلق ہونے کی کئی وجہیں ہوں گی، جن میں سے پہلی وجہ تو یہ ہوگی کہ یہ مشرک تو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی عالم الغیب، ان کے حالات سے واقف اور ان کی فریاد سننے والا سمجھتے رہے اور یہ سمجھ کر دن رات یا علی یا حسن یا حسین یا دستگیر یا داتا یا شکر گنج وغیرہ پکارتے رہے، جب کہ ان حضرات کو کچھ خبر ہی نہ تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ) [ الأحقاف : ٥، ٦ ] ” اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔ “- دوسری وجہ یہ کہ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے، جب کہ قرآن اترا ہی یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، مثلاً دیکھیے سورة یونس ( ١٠٦، ١٠٧) ، زمر (٣٨) ، مومنون (٨٦ تا ٨٩) ، جن (٢١) اور بہت سی دیگر آیات۔ اس لیے تمام …

29

فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَٰفِلِينَ

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے

فَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا ۔۔ : یہ الفاظ قسم کے معنی میں بھی آتے ہیں۔ ” اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ “ میں ” اِنْ كُنَّا “ دراصل ” اِنَّا کُنَّا “ تھا، ” غَافِلِیْنَ “ پر لام کا آنا اس بات کی دلیل ہے، اس لیے اس ” اِنْ كُنَّا “ کا معنی ” اِنَّا کُنَّا “ کیا ہے، یعنی یہاں ” إِنَّ “ کا ایک نون اور جمع متکلم کی ضمیر ” نَا “ دونوں مقدر ہیں۔

30

هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّآ أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا

هُنَالِكَ ” اس وقت، اس جگہ “ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ” اس موقع پر “ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہوجائیں۔ ” تَبْلُوْا “ آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہوجاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہوجائیں گی۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.