Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 109

21

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں

واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم جب لوگوں کو کوئی دکھ پہنچتا ہے اور پھر ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ رحمت سے مراد ہے سرسبزی ‘ ارزانی ‘ فراخ دستی ‘ صحت۔ اور ضَّراء سے مراد ہے خشک سالی ‘ بدحالی ‘ افلاس اور بیماری۔

اذا لھم مکر فی ایٰتنا تو فوراً ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : مکر سے مراد ہے تکذیب و استہزاء۔ میں کہا ہوں : مکر کا معنی ہے پوشیدہ طور پر کسی کو برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا۔ آیات کی تکذیب بظاہر رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور آپ کو برائی پہنچانے کے ارادہ کا مظاہرہ تھا ‘ اللہ کی تکذیب نہ تھی لیکن آیات اللہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا ‘ اسلئے درپردہ تکذیب اور ارادۂ شر کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے ‘ اور یہی مکر کی حقیقت ہے۔

مقاتل بن حبان نے کہا : (ا اللہ ان کو رزق دیتا تھا ‘ بارش برساتا تھا اور) وہ اللہ کے رازق ہونے کے قائل نہ تھے بلکہ کہتے تھے : نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ تکذیب آیات کی ان کی طرف سے یہ حیلہ سازی تھی ‘ اسی کو مکر کہا گیا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ایک بار اہل مکہ قحط میں مبتلا ہوئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحم کیا اور قحط کو دور کردیا۔ قحط دور ہوتے ہی وہ ناشکری اور استہزاء بآیات اللہ کرنے لگے۔ اللہ کی نعمت کے شکرگذار نہ ہوئے۔ بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ کافروں کی بےرخی اور روگردانی دیکھ کر رسول اللہ (ﷺ) نے بددعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! یوسف (علیہ السلام) کے سات سالوں کی طرح ان کو ہفت سالہ قحط میں مبتلا کر کے میری مدد فرما۔ بددعا کے نتیجہ میں اہل مکہ پر قحط مسلط ہوگیا کہ ہر چیز (یعنی کھیتی ‘ سبزی ‘ پھل وغیرہ) تباہ ہوگئی ‘ کھالیں اور مردار جانور تک کھانے کی نوبت آگئی۔ ابو سفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد (ﷺ) تمہاری قوم والے ہلاک ہوگئے۔ تم اللہ کی اطاعت اور صلۃ الرحم (قرابتداروں سے حسن سلوک) کا ہم کو حکم دیتے ہو۔ اللہ سے ان کیلئے دعا کر دو کہ اللہ ان کی مصیبت کو دور کر دے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے دعا فرما دی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ قحط میں مبتلا ہونے کے بعد مشرکوں نے کہا تھا : اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ‘ ہم ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ (ﷺ) کو (ا اللہ کی طرف سے) اطلاع دی گئی کہ اگر یہ مصیبت دور کردی گئی تو یہ لوگ پھر اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے (کفر کرنے لگیں گے) ۔

غرض رسول اللہ (ﷺ) نے دعا کردی اور اللہ نے مصیبت دور کردی ‘ مگر وہ پھر (شرک و تکذیب کی طرف) لوٹ گئے۔ اس کی سزا اللہ نے ان کو بدر کے دن دی (کہ سرداران شرک کو تباہ کردیا) ۔

قل اللہ اسرع مکرًا آپ کہہ دیجئے کہ خفیہ تدبیر کرنے میں اللہ تم سے تیز ہے۔ اس کی خفییہ تدبیر یا تو ڈھیل ہے۔

حضرت علی کا ارشاد ہے : اللہ جس کی دنیا فراخ کر دے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے تو اس کی عقل فریب خوردہ ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت کی مراد یہ ہے کہ وسعت دنیا حاصل ہونے کے بعد جو شخص (ا اللہ کی ڈھیل کو نہ سمجھے اور) شکر ادا نہ کرے وہ فریب خوردہ ہے۔

یا مکر سے مراد ہے مگر کی سزا ___ یعنی لوگ تو خفیہ تدبیریں بعد کو کرتے ہیں ‘ اللہ ان کی سازشوں سے پہلے ہی ان کی سزا کی خفیہ تدبیر یا (خفیہ) ڈھیل دینے کو تجویز کرچکا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے سرعت مکر کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ حق کو دفع کرنے کی جو تدبیریں کافر کرتے ہیں ‘ ان سے زیادہ سرعت کے ساتھ اللہ ان کو ہلاک کردینے کی تدبیر کردیتا ہے۔ اللہ کا عذاب ان پر بہت جلد آجاتا ہے۔ اللہ چونکہ قدرت رکھتا ہے ‘ اسلئے وہ جو کچھ چاہتا ہے وہ ضرور آ کر رہتا ہے اور کافر دفع حق کی قدرت نہیں رکھتے۔

ان رسلنا یکتبون ما تمکرون۔ جو مکاریاں تم کرتے ہو ہمارے پیامبر (یعنی اعمال کی نگرانی رکھنے والے فرشتے) اس کو لکھ لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ تمہاری خفیہ تدبیریں نگرانی رکھنے والے ملائکہ سے …

22

هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں

ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر اللہ وہی ہے جو خشکی اور سمندر میں تم کو چلاتا ہے۔ یعنی تم کو سفر پر آمادہ کرتا اور چلنے کی طاقت دیتا ہے۔

حتی اذا کنتم فی الفلک یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (اور جہازوں) میں ہوتے ہو۔ فُلک کا استعمال ایک

کیلئے بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ کیلئے بھی (گویا یہ لفظ واحد بھی ہے اور جمع بھی) اس آیت میں جمع کا معنی مراد ہے کیونکہ آئندہ فقرہ میں جمع کی ضمیر اس لفظ کی طرف راجع کی گئی ہے۔

وجرین بھم اور کشتیاں (یا جہاز) اپنی سواریوں کو لے کر چلتے ہیں۔ کنتم میں خطاب ہے اور بھم میں ضمیر غائب ہے۔

عبارت کی یہ رنگینی کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے اختیار کی گئی۔ ھِمْ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ تذکرہ مخاطبین کا نہیں ‘ دوسرے لوگوں کا ہے جن کی حالت تعجب انگیز ہے۔

بریح طیبۃ نرم رفتار منزل تک پہنچانے والی ہوا کے ساتھ۔

وفرحوا بھا اور خوش رفتار ہوا کی وجہ سے وہ خوش ہوتے ہیں۔

جآء ھا ریح عاصف تو (کشتیوں پر) آجاتی ہے آندھی ‘ یعنی سخت طوفان۔

وجآء ھم الموج من کل مکان اور ہر جگہ (یا ہر طرف) سے ان پر (طوفانی) موجیں آجاتی ہیں۔

وظنوا انھم احیط بھم اور ان کا غالب گمان ہوجاتا ہے کہ ہر طرف سے وہ موجوں اور تباہیوں سے گھر گئے ‘ بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں رہا۔ مستقبل میں ہلاک ہوجانے کے قرائن ہوتے ہیں اور قرائن سے غالب گمان ہی ہو سکتا ہے ‘ یقین نہیں پیدا ہوتا ‘ اسلئے ظنوا فرمایا۔

دعوا اللہ مخلصین لہ الدین اس وقت سب خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ یعنی خلوص دل کے ساتھ اللہ سے دعا کرتے ہیں ‘ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں پکارتے۔ عرب کے مشرک بھی سخت مصیبت پڑنے پر اللہ ہی کو پکارتے تھے۔

لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ اگر تو ہم کو اس طوفان سے بچا لے گا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔

23

فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

فلما انجھم اذاھم یبغون فی الارض بغیر الحق پھر جب اللہ ان کو اس مہلکہ سے بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ اطراف زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اللہ جب ان کی دعا قبول کرلیتا ہے اور طوفان سے رہائی دے دیتا ہے تو یکدم وہ حدود فساد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اِذَامفاجات کیلئے ہے اور بغی سے مراد ہے اباحت کی حدود سے نکل کر فساد کی طرف بڑھنا۔ بغیر الحق کے لفظ سے یبغون کے مفہوم کی تاکید ہو رہی ہے کیونکہ فساد تو ہوتا ہی ناحق ہے۔

شبہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی کافروں کی بستیوں کو تباہ کرتے ‘ ان کی کھیتیوں کو اجاڑتے اور باغوں کو ویران کرتے۔ یہ بھی تو فساد ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ (فساد نما) حرکات جو مسلمان سے سرزد ہوتی ہیں ‘ تخریب کیلئے نہیں ہیں بلکہ ان کی غرض تعمیر اور اصلاح ہوتی ہے۔ ایسا اللہ کے حکم سے کیا جاتا ہے ‘ حدود اباحت سے تجاوز نہیں کیا جاتا۔

یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم اے لوگو ! (سن لو) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال (جان) ہونے والی ہے۔ ظلم کا برا نتیجہ تمہاری ہی طرف لوٹتا ہے۔ ترمذی و ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : حسن سلوک اور اقربا پروری کا اچھا نتیجہ ہر بھلائی سے جلد مل جاتا ہے اور ظلم و قطع رحم کا برا نتیجہ ہر برائی کے نتیجے سے پہلے آجاتا ہے۔ ابو الشیخ ‘ خطیب اور ابن مردویہ نے تفسیر میں حضرت انس کی روایت سے بیان کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ تین چیزیں اپنے کرنے والے پر ہی لوٹ پڑتی ہیں : ظلم ‘ فریب ‘ دغا۔

ابن لالی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر پہاڑ ‘ پہاڑ پر ظلم کرے تو ظلم کرنے والا (پہاڑ) پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے گا۔

متاع الحیوۃ الدنیا زندگی میں چندے اس سے حظ اٹھا رہے ہو ‘ یعنی عارضی اور فنا پذیر ہے۔ متاع الحیٰوۃ فعل محذوف کا مفعول ہے یا بغیکا۔

ثم الینا مرجعکم پھر (مرنے کے بعد یا قیامت کے دن) تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہوگی۔

فننبئکم بما کنتم تعملون۔ پھر تمہارے اعمال کا بدلہ دے کر ہم تم کو آگاہ کردیں گے (کہ یہ بدلہ فلاں عمل کا ہے) ۔

24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًۭا فَجَعَلْنَٰهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

انما مثل الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی کی عجیب حالت ‘ یعنی دنیوی زندگی بہت جلد زوال پذیر ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس پر شیفتہ ہیں ‘ یہ عجیب بات ہے۔

کما انزلنہ من السماء ایسی ہے جیسے ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں۔

فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام پھر اس پانی سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں ‘ خوب گنجان ہو کر نکلے۔ اخْتَلَطَ گتھ جاتا ہے ‘ گھنا ہوجاتا ہے۔ مَا یَأکُلُ النَّاس یعنی انسان کی خوراک غلہ ‘ پھل ‘ سبزیاں۔ وَالْاََنْعَامُط اور چوپایوں کی خوراک یعنی گھاس ‘ چارہ۔

حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت یہاں تک کہ وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی۔ زُخْرُف حسن ‘ رونق ‘ رنگا رنگ پھولوں اور سبزیوں سے پیدا ہونے والا جمال ارضی۔

وظن اھلھًا انھم قدرون علیھا اور اس زمین کے مالکوں نے خیال کرلیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے۔

یعنی زمین کے مالک کو یہ خیال ہوجاتا ہے کہ اب زمین کی پیداوار میرے قبضہ میں آگئی ‘ میں کھیتی کاٹ کر غلہ حاصل کرسکتا ہوں اور پھل توڑ کر فائدہ اٹھا سکتا ہوں۔

اتھا امرنا لیلاً او نھارًا فجعلنھا حصیدًا (اچانک بعض حوادث کی وجہ سے کھیتی کو تباہ کرنے کیلئے) رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ پہنچتا ہے اور ہم اس کو کٹے ہوئے کھیت کی طرح کردیتے ہیں۔ یعنی کھڑی کھیتی کو ہم ایسا کردیتے ہیں جیسے کھیت کو کسی نے جڑ سے کاٹ لیا ہو۔

کان لم تغن بالامس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کل کھیتی تھی ہی نہیں۔ لَِمْ تَغْنَ ۔ غَنِیَ بالمکان سے ماخوذ ہے۔

غَنِیَ بالمکان اس جگہ ٹھہرا ‘ قیام کیا ‘ رہا۔ بِالْاَمْسِ یعنی اس وقت سے تھوڑے پہلے ‘ مراد ہے ماضی قریب۔

یہ تشیبہ مرکب بمرکب ہے۔ اگرچہ عبادت میں مشبہ بہ پانی کو قرار دیا گیا ہے لیکن واقعہ کے پورے مضمون کے ساتھ تشبیہ دینی مقصود ہے۔ پورے کلام کا مضمون یہ ہے کہ کھیتی سرسبز اور باغ کے پھل تر و تازہ ہوتے ہیں ‘ زمین شاداب اور پررونق ہوتی ہے۔ مالکوں کو خیال ہوجاتا ہے کہ اب یہ پیداوار اور کھیتی ہر حادثہ سے نکل گئی ‘ اب اس پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی کہ یکدم اللہ کا حکم آ پہنچتا ہے (مختلف ارضی و سماوی حوادث کی وجہ سے) اللہ بھرے پرے باغوں اور سرسبز لہلہاتی کھیتیوں کو تباہ کر کے ‘ ریزہ ریزہ اور بھوسہ بنا دیتا ہے ‘ یہی حالت دنیوی زندگی کی ہے۔ قتادہ نے کہا : دنیا پر بھروسہ رکھنے والے اور سامان دنیا میں ڈوبے ہوئے شخص پر یکدم اللہ کا حکم اور اس کا عذاب انتہائی غفلت کی حالت میں آ پہنچتا ہے (گویا اس تشبیہ کی وجہ شبہ ‘ بےفکری اور غفلت کی حالت میں عذاب خداوندی کا آ پہنچنا ہے) ۔

کذلک نفصل الایت لقوم یتفکرون۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کیلئے جو سوچتے ہیں۔

25

وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

وا اللہ یدعوا الی دارالسلام اور اللہ (سب لوگوں کو) ایسے گھر کی طرف بلا رہا ہے جو ہر قسم کی تباہی اور ہلاکت سے سالم ہے ‘ یعنی جنت کی طرف۔ قتادہ نے کہا : جنت اللہ کا گھر ہے۔ السلام اللہ کا نام ہے (یعنی آیت میں السلام سے مراد سلامتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا خاص نام مراد ہے اور یہ صیغۂ صفت ہے ‘ مصدر مراد نہیں ہے) لفظ السلام کا ذکر اسی مفہوم پر تنبیہ کرنے کیلئے کیا گیا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سو رہے تھے کہ کچھ فرشتے آئے اور آپس میں کہنے لگے : تمہارے اس ساتھی کی ایک خاص حالت ہے ‘ مثال دے کر اس کی حالت بیان کرو۔ کسی فرشتے نے کہا : یہ سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل بیدار ہے۔ پھر فرشتوں نے کہا : اس کی حالت ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی مکان بنایا اور (مہمانوں کو کھلانے کیلئے) دسترخوان بچھایا اور لوگوں کو بلانے کیلئے ایک آدمی کو بھیجا۔ جن لوگوں نے دعوت قبول کرلی ‘ وہ اس گھر میں آگئے اور دسترخوان پر کچھ کھالیا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ گھر کے اندر نہیں آیا اور نہ دسترخوان سے کچھ کھایا۔ (دوسرے) فرشتوں نے کہا : اس مثال کی تشریح کرو تاکہ یہ شخص سمجھ جائے۔ ایک فرشتے نے کہا : یہ تو سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل تو بیدار ہے۔ فرشتوں نے کہا : اس کی تشریح یہ ہے کہ مکان جنت ہے اور لوگوں کو بلانے والا محمد (ﷺ) ہے۔ جس نے محمد (ﷺ) کا کہا مانا ‘ اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد (ﷺ) کی نافرمانی کی ‘ اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ لوگوں کے مختلف فرقے ہیں۔ رواہ البخاری

دارمی نے حضرت ربیعہ جرشی کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ مجھ سے کہا گیا : (قوم کے) سردار نے ایک مکان بنایا اور دسترخوان تیار کیا اور ایک آدمی کو (عام لوگوں کو کھانے کیلئے) بلانے کیلئے بھیجا۔ پس جس شخص نے دعوت قبول کرلی ‘ وہ گھر کے اندر آگیا اور دستر خوان پر اس نے (کھانا) کھالیا اور (میزبان) سردار اس سے خوش ہوگیا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ گھر کے اندر نہیں آیا ‘ اس نے دسترخوان سے کچھ نہیں کھایا اور سردار اس سے ناخوش ہوگیا۔ فرمایا : پس اللہ سردار ہے اور محمد (ﷺ) بلانے والا ہے اور مکان اسلام ہے اور دسترخوان جنت ہے۔

بعض علماء کے نزدیک (آیت میں) سلام سے مراد یہی عرفی اسلامی سلام ہے۔ اہل جنت ‘ جنت کے اندر باہم سلام علیک کریں گے ‘ اسی لئے جنت کو دارالسلام کہا گیا اور فرشتے بھی جنت میں سلام کریں گے۔ وَالْمَلَآءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔

ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ بتا دیتا ہے۔ سیدھی راہ سے مراد ہے دین اسلام ‘ طریقۂ سنت اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ۔ دعوت عمومی ہے (جنت کی طرف اللہ سب لوگوں کو بلا رہا ہے) اور ہدایت یابی مشیت خداوندی پر مؤقوف ہے۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ امر اور ارادہ میں فرق ہے (امر تمام لوگوں کو ہے اور ہدایت یابی کا ارادہ صرف مؤمن سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ (ازلی) کافر کو ہدایت کرنا نہیں چاہتا (اگرچہ ہدایت قبول کرنے کا حکم کافر کو بھی دیا ہے) امر الٰہی سے تخلف تو ممکن بلکہ واقع ہے ‘ بیشتر انسان اللہ کے حکم کے خلاف چلتے ہیں مگر اللہ کے ارادے کی خلاف ورزی کوئی نہیں کرسکتا۔ کفر بھی ایمان کی طرح اللہ کے ارادہ سے ہوتا ہے مگر امر کے خلاف ہوتا ہے۔ اشاعرہ کا یہی قول ہے۔ فرقۂ معتزلہ امر اور ارادہ میں فرق نہیں کرتا۔ ان لوگوں کے نزدیک کفر اور ہر قسم کا گناہ اللہ کے ارادہ سے نہیں ہوتا۔

26

۞ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌۭ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌۭ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

درس نمبر 96 ایک نظر میں

للذین احسنوا الحسنٰی وزیادۃ جن لوگوں نے (دنیا میں) نیک عمل کئے ‘ ان کیلئے (آخرت میں) اچھا ثواب ہوگا اور مزید (انعام) بھی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے احسان کی تشریح میں فرمایا : احسان (عبادت کا حسن) یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا (عبادت کے وقت) تم اس کو دیکھ رہے ہو ‘ اگر تمہارا معائنہ نہ ہو (اور یہ درجہ میسر نہ ہو تو کم سے کم اتنا یقین رکھو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ صحیحین من حدیث عمر بن الخطاب۔ الحسنٰی سے مراد ہے اچھا ثواب ‘ یعنی جنت۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا (یعنی) لاآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کی شہادت دی۔ الْحُسْنٰی (یعنی) جنت وَزِیَادَۃٌ (یعنی) اللہ کی طرف دیکھنا۔

ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد یہی نقل کیا ہے ‘ حضور (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ایک منادی مقرر فرمائے گا جو اتنی آواز سے ندا کرے گا کہ اگلے پچھلے سب سن لیں گے : اے اہل جنت ! اللہ نے تم سے اچھے ثواب کا وعدہ کیا تھا اور زیادت کا بھی۔ اچھا ثواب جنت ہے اور مزید (انعام) رحمن کا دیدار حاصل ہونا۔

ابن جریر ‘ ابن مردویہ ‘ لالکانی اور ابن ابی حاتم نے مختلف سندوں سے حضرت ابی بن کعب کی مرفوع حدیث ایسی ہی نقل کی ہے۔ ابن مردویہ ‘ ابو الشیخ اور لالکانی نے حضرت انس کی مرفوع حدیث ‘ نیز ابو الشیخ نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت بھی اسی مضمون کی بیان کی ہے۔

ابن جریر ‘ ابن مردویہ ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے اپنی اپنی تفسیروں میں اور لالکانی نے ‘ نیز اجری نے کتاب الرویتہ میں حضرت ابوبکر صدیق کا قول نقل کیا ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابو الشیخ ‘ لالکانی اور اجری نے حضرت حذیفہ بن یمان کا قول اس آیت کے ذیل میں یہی بیان کیا ہے۔

ہناد ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ اور لالکانی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قول بھی یہی نقل کیا ہے۔ ابن مردویہ نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابن ابی حاتم اور لالکانی نے بطریق سدی از ابو مالک از ابو صالح حضرت ابن عباس کا قول اور عکرمہ کے حوالہ سے حضرت ابن مسعود کا قول بھی یہی لکھا ہے۔ لالکانی نے یہی تفسیری قول اپنی اسنادوں سے حضرت سعید بن مسیب ‘ حسن بصری ‘ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ‘ عامر بن سعید بجلی ‘ ابن ابی اسحاق سبیعی ‘ عبدالرحمن بن سابط ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور قتادہ کی طرف منسوب کیا ہے۔

قرطبی نے کتاب الرویتہ میں لکھا ہے : یہ تفسیر صحابہ اور تابعین میں مستفیص اور مشہور تھی اور ایسی اجماعی تفسیر رسول اللہ (ﷺ) سے سنے بغیر نہیں کی جاسکتی۔

مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت صہیب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوچکیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا : کیا تم اس سے زیادہ کچھ اور چاہتے ہو ؟ جنتی عرض کریں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دئیے ‘ کیا تو نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کردیا ‘ کیا تو نے ہم کو دزخ سے نہیں بچا لیا (اس سے زیادہ ہم اور کس چیز کی خواہش کرسکتے ہیں) اللہ فوراً (اپنے چہرہ سے) پردہ اٹھا لے گا اور اہل جنت اللہ کی طرف دیکھیں گے۔ پس اس وقت تک جو کچھ ان کو دیا گیا ہوگا ‘ سب سے زیادہ محبوب ان کو اللہ کی طرف دیکھنا ہوگا (یعنی اللہ کے دیدار کے مقابلہ میں جنت کی ساری نعمتیں ہیچ ہوجائیں گی) قرطبی نے لکھا ہے : پردہ کھول دینے سے یہ مراد ہے کہ اللہ کے دیدار سے تمام رکاوٹیں دور کردی جائیں گی اور جنتی اپنی آنکھوں سے نور عظمت و جلال کو اسی طرح دیکھیں گے جس طرح وہ ہے۔ گویا پردہ مخلوق کیلئے پردہ ہے (مخلوق اس کو اب یہاں نہیں دیکھ سکتی ‘ اس کی آنکھوں کیلئے پردہ ہے) خالق کیلئے پردہ نہیں ہے (وہ مخفی نہیں ہے بلکہ مخلوق کی آنکھوں پر حجاب ہے) ۔

ولا یرھق وجوھھم قترو …

27

وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍۢ ۖ كَأَنَّمَآ أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

والذین کسبوا السیات جزاء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ‘ ان کو بدی کی سزا بدی کے برابر ملے گی ‘ اور ان پر ذلت چھائے گی۔ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا کا عطف اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْاپر ہے ‘ یا یہ مبتداء ہے اور جزآء سیءۃ خبر ہے ‘ یا کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ خبر ہے ‘ یا اولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّار خبر ہے۔ تَرْھَقُھُمْ یعنی ان کو ڈھانک لے گی۔

مالھم من اللہ من عاصم ان کو اللہ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مِنْ عَاصِمٍ میں مِنْ زائد ہے۔ یا اللہ کی طرف سے کوئی بھی ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔

کانما اغشیت وجوھھم قطعًا من الیل مظلمًا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت پرت لپیٹ دئیے گئے ہیں۔ قِطع جمع ہے ‘ اس کا واحد قطعۃ ہے۔ مِنَ الَّیْلِ قِطَعًا کا بیان ہے ‘ مُظْلِمًا الیل سے حال ہے۔

اولئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون یہی لوگ دوزخی ہیں ‘ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

شبہ : فرقۂ معتزلہ قائل ہے کہ مرتکب کبائر ہمیشہ دوزخ میں رہے گا (یعنی گناہ کبیرہ کرنے والا مؤمن نہیں رہتا) اس آیت سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے۔

جواب : السَّءِّاٰت (بدیاں ‘ برے اعمال) کا لفظ صغیرہ گناہوں کو بھی ہے اور کبیرہ گناہوں کو بھی اور کفر کو بھی شامل ہے۔ اب اگر اس لفظ کا عمومی معنی مراد لیا جائے گا تو صغیرہ گناہ کے مرتکب کو بھی دوامی دوزخی کہنا پڑے گا اور اس کا کوئی قائل نہیں۔ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِھَا بھی اس قول کے خلاف شہادت دے رہا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ سزا کے درجات مختلف ہیں۔ کبیرہ گناہ کی سزا صغیرہ سے زیادہ اور کفر سے کم ہے۔ لامحالہ اولٰٓءِکَ کا اشارہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ کی طرف عموماً نہیں ہو سکتا بلکہ مرتکبین سیّآت کے بعض کی طرف ہوگا ‘ یعنی صرف کفار کی طرف ہوگا۔ جیسا والْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھُنَّ کے بعد وَبَعْوْلَتُھنَّ احق بِرَدِّھِنَّ آیا ہے اور ھن کا مرجع عام مطلقات نہیں ہیں (بلکہ وہ عورتیں ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو) ۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہوں کیونکہ ان کے مقابل اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا کو ذکر کیا گیا ہے اور چونکہ ایمان تمام نیکیوں کی چوٹی ہے ‘ اسلئے کبیرہ گناہ کرنے والے مؤمن بھی اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا میں داخل ہیں اور جب مرتکبین کبائر کو اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا شامل ہے تو لامحالہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہی ہوں گے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے وہ بدکار مراد ہوں جو رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں موجود تھے ‘ کیونکہ مؤمن جو رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں تھے ‘ وہ سب صحابی تھے اور صحابہ کا عدول (غیرفاسق) ہونا بالاجماع ثابت ہے۔ اگر کسی صحابی سے کسی گناہ کا صدور ہو بھی جاتا تھا تو وہ فوراً توبہ کرلیتا تھا جس کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتا تھا۔ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے ‘ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بدکار گناہگار اس زمانہ میں صرف کافر تھے اور اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا سے وہی لوگ مراد ہیں۔

28

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔

ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔

فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔

وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔

معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے :

فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔

29

فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَٰفِلِينَ

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے

ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔

ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔

فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔

وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔

معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے :

فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔

30

هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّآ أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا

ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔

وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔

ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔

ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ مَوْلٰی لَھُمُ میں مولیٰ کا معنی ہے مددگار اور حمایتی۔

وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور جو معبود انہوں نے (از خود) تراش رکھے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے ‘ کھو جائیں گے (کوئی بھی ان کا ساتھی نہ ہوگا) یَفْتَرُوْنَکا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو شفیع سمجھے ہوئے تھے ‘ یا ان معبودیت کے مدعی تھے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.