Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 1–10 of 109

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْحَكِيمِ

آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں

یہ حروف مقطعات ہیں۔ یہاں پر ایک قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ سورة آل عمران اور سورة الاعراف تین سورتوں کا آغاز حروف مقطعات اآآّ ‘ ا آمآآ سے ہوتا ہے اور ان تینوں مقامات پر حروف مقطعات پر آیت مکمل ہوجاتی ہے ‘ مگر یہاں ان حروف پر آیت مکمل نہیں ہورہی ہے ‘ بلکہ یہ پہلی آیت کا حصہ ہیں۔ بہر حال یہ توقیفی امور حضور ﷺ کے بتانے پر موقوف ہیں۔ گرائمر ‘ منطق ‘ نحو ‘ بیان وغیرہ کے کسی اصول یا قاعدے کو یہاں دخل نہیں ہے۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ”یہ بڑی حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔“

2

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ ٱلْكَٰفِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌۭ مُّبِينٌ

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے

آیت 2 اَکَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْہُمْ ”کیا لوگوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ ہم نے وحی بھیج دی ایک شخص پر انہی میں سے“اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْ ”کہ آپ ﷺ لوگوں کو ‘ خبردار کردیجیے اور اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے۔“قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ ”اس پر کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادوگر ہے۔“یعنی یہ تو اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ اس کا فیصلہ ہے کہ وہ اس منصب کے لیے انسانوں میں سے جس کو چاہے پسند فرما کر منتخب کرلے۔ اگر اس نے محمد ﷺ کا انتخاب کر کے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی انذار اور تبشیر کی خدمت پر مامور کیا ہے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے !

3

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

آیت 3 اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ”یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی چھ دنوں میں“ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ ط ”پھر وہ عرش پر متمکن ہوگیا ‘ اور وہ تدبیر کرتا ہے ہر معاملہ کی۔“اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور منصوبہ بندی کے مطابق پوری کائنات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی رح نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ”حجۃ اللہ البالغہ“ کے باب اول میں اللہ تعالیٰ کے تین افعال کے بارے میں بڑی تفصیل سے بحث کی ہے : 1 ابداع creation ex nehilo یعنی کسی چیز کو عدم محض سے وجود بخشنا ‘ 2 خلق ‘ یعنی کسی چیز سے کوئی دوسری چیز بنانا ‘ اور 3 تدبیر ‘ یعنی اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق کائناتی نظام کی منصوبہ بندی planning فرمانا۔ مَا مِنْ شَفِیْعٍ الاَّ مِنْم بَعْدِ اِذْنِہٖ ط ”نہیں ہے کوئی بھی شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد۔“کوئی اس کا اذن حاصل کیے بغیر اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کرسکتا۔ اس سے پہلے آیت الکرسی سورۃ البقرۃ میں بھی شفاعت کے بارے میں اسی نوعیت کا استثناء آچکا ہے۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ”وہ ہے اللہ تمہارا رب ‘ پس تم اسی کی بندگی کرو۔ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے !“

4

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے

آیت 4 اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًاط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا ط ”تم سب کا لوٹنا اسی کی جانب ہے۔ یہ وعدہ ہے اللہ کا سچا۔“اِنَّہٗ یَبْدَؤُالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ”وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کا اعادہ کر دے گا“پہلے پہل کسی کام کا کرنا یا ابتدائی طور پر کسی چیز کو تخلیق کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ اس کا اعادہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہ ایک معقول اور منطقی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اور پہلی بار اسے اس تخلیق میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہوجائے گا ! بہر حال وہ تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا : لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بالْقِسْطِ ط ”تاکہ وہ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے انصاف کے ساتھ۔“وہ اہل ایمان جنہوں نے اللہ اور اس کے دین کے لیے ایثار کیا ہے ‘ ان کی قربانیوں اور مشقتوں کے بدلے میں انہیں انعامات سے نوازا جائے گا اور ان کے ان اعمال کی پوری پوری قدر کی جائے گی۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے پینے کے لیے ہوگا کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ‘ اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔“

5

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءًۭ وَٱلْقَمَرَ نُورًۭا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

آیت 5 ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا ”وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمکدار اور چاند کو نور“یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ سورج کے اندر جاری احتراق یعنی جلنے combustion کے عمل کی وجہ سے جو روشنی پیدا generate ہو رہی ہے اس کے لیے ”ضیاء“ جبکہ منعکس reflect ہو کر آنے والی روشنی کے لیے ”نور“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سورج اور چاند کی روشنی کے لیے قرآن حکیم نے دو مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ‘ اس لیے کہ سورج کی اپنی چمک ہے اور چاند کی روشنی ایک انعکاس ہے۔وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط ”اور اس نے اس چاند کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تمہیں معلوم ہو گنتی برسوں کی اور تم معاملات زندگی میں حساب کرسکو۔“مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ الاَّ بالْحَقِّج یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ”اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ ‘ اور وہ تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں۔“یعنی یہ کائنات ایک بےمقصد تخلیق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ‘ بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے۔

6

إِنَّ فِى ٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَّقُونَ

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

آیت 6 اِنَّ فِی اخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ان نشانیوں سے وہی لوگ سبق حاصل کرکے مستفیض ہوسکتے ہیں جن کے اندر خوف خدا ہے اور ان کی اخلاقی حس بیدار ہوتی ہے۔

7

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

آیت 7 اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا ”بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں“یہاں پر یہ نکتہ نوٹ کریں کہ یہ الفاظ اس سورت میں باربار دہرائے جائیں گے۔ اصل میں یہ ایسی انسانی سوچ اور نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق انسانی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ انسانی زندگی جو ہم اس دنیا میں گزار رہے ہیں اس کی اصل حقیقت کیا ہے ! اسے محاورۃً ”چار دن کی زندگی“ قرار دیا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر ؔ نے بھی کہا ہے ؂عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں !اگر انسان اس دنیا میں طویل طبعی عمر بھی پائے تو اس کا ایک حصہ بچپن کی ناسمجھی اور کھیل کود میں ضائع ہوجاتا ہے۔ شعور اور جوانی کی عمر کا تھوڑا سا وقفہ اس کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی بڑھاپا اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے لِکَیْ لاَ یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْءًا ط النحل : 70 کی جیتی جاگتی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ تو کیا انسانی زندگی کی حقیقت بس یہی ہے ؟ اور کیا اتنی سی زندگی کے لیے ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا جاتا ہے ؟ انسان غور کرے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ انسانی زندگی محض ہمارے سامنے کے چند ماہ وسال کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نام ہے۔ علامہ اقبالؔ کے بقول : ؂تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی اوراقبالؔ ہی نے اس سلسلے میں انسانی ناسمجھی اور کم ظرفی کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے : ؂تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگئ داماں بھی ہے !اس لامتناہی سلسلۂ زندگی میں سے ایک انتہائی مختصر اور عارضی وقفہ یہ دنیوی زندگی ہے جو اللہ نے انسان کو آزمانے اور جانچنے کے لیے عطا کی ہے : اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط الملک : 2۔ جبکہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور وہ بہت طویل ہے۔ جیسے سورة العنکبوت میں فرمایا : وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ 7 لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ”اور یقیناً آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے ‘ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !“ مگر وہ لوگ جن کا ذہنی افق تنگ اور سوچ محدود ہے ‘ وہ اسی عارضی اور مختصر وقفۂ زندگی کو اصل زندگی سمجھ کر اس کی رعنائیوں پر فریفتہ اور اس کی رنگینیوں میں گم رہتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال ؔ :کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق !اصل اور دائمی زندگی کی عظمت اور حقیقت ایسے لوگوں کی نظروں سے بالکل اوجھل ہوچکی ہے۔ وَرَضُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَاَ نُّوْا بِہَا وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ”اور وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور اسی پر مطمئن ہیں ‘ اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔“انسانوں کے اندر اور باہر اللہ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں اور ان کی فطرت انہیں بار بار دعوت فکر بھی دیتی ہے : ؂کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ ! مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ !مگر وہ لوگ شہوات نفسانی کے چکروں میں اس حدتک غلطاں و پیچاں ہیں کہ انہیں آنکھ کھول کر انفس و آفاق میں بکھری ہوئی ان لاتعداد آیات الٰہی کو ایک نظر دیکھنے کی فرصت ہے نہ توفیق۔

8

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے

آیت 8 اُولٰٓءِکَ مَاْوٰٹہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ”یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے ‘ اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔“جس شخص نے اپنی پوری دنیوی زندگی میں نہ اللہ کی طرف رجوع کیا اور نہ آخرت ہی کی کچھ فکر کی ‘ ساری عمر ’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘ جیسے نعرے کو اپنا ماٹو بنائے رکھا ‘ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی قیود سے بےنیاز ہو کر جھوٹی مسرتیں اور عارضی خوشیاں جہاں سے ملیں ‘ جس قیمت پر ملیں حاصل کرلیں ‘ تو ایسے شخص کا آخری ٹھکانہ آگ کے سوا بھلا اور کہاں ہوسکتا ہے !

9

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی

آیت 8 اُولٰٓءِکَ مَاْوٰٹہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ”یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے ‘ اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔“جس شخص نے اپنی پوری دنیوی زندگی میں نہ اللہ کی طرف رجوع کیا اور نہ آخرت ہی کی کچھ فکر کی ‘ ساری عمر ’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘ جیسے نعرے کو اپنا ماٹو بنائے رکھا ‘ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی قیود سے بےنیاز ہو کر جھوٹی مسرتیں اور عارضی خوشیاں جہاں سے ملیں ‘ جس قیمت پر ملیں حاصل کرلیں ‘ تو ایسے شخص کا آخری ٹھکانہ آگ کے سوا بھلا اور کہاں ہوسکتا ہے !

10

دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌۭ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے

آیت 10 دَعْوٰٹہُمْ فِیْہَا سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ ”اس میں ان کا ترانہ ہوگا : اے اللہ تو پاک ہے“وہ لوگ جنت کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و مناجات کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ‘ تو ہر ضعف سے پاک ہے ‘ ہر عیب اور ہر نقص سے مبرا ہے اور احتیاج کے ہر تصور سے ارفع و اعلیٰ ہے۔ وَتَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلٰمٌ ج ”اور اس میں ان کی آپس کی دعا ’ سلام ‘ ہوگی۔“اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کو ملتے ہوئے السلام علیکم کے الفاظ کہیں گے ‘ اس طرح وہاں ہر طرف سے سلام ‘ سلام کی آوازیں آ رہیں ہوں گی۔ جیسے سورة الواقعہ میں فرمایا : لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۔ ”وہاں نہ بےہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ۔ وہاں ان کا کلام سلام سلام ہوگا۔“وَاٰخِرُ دَعْوٰٹہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”اور ان کی دعا اور مناجات کا اختتام ہمیشہ ان کلمات پر ہوگا کہ کل حمد اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.