۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
5: یہ دراصل کفارِ عرب کے ایک سوال کا جواب ہے۔ جب اُنہیں کفر کے نتیجے میں عذابِ الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا؟ اﷲ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچارہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو۔ لیکن اگر اﷲ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے توان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اﷲ تعالیٰ اُن کے اِس مطالبے کو اپنی حکمت کی بنا پر پورا نہیں کرہا ہے۔ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں، وہ گمراہی میں بھٹکتے رہیں، اور ان پر حجت تمام ہوجائے، اور جو سمجھ سے کام لینا چاہتے ہوں، انہیں راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔