Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 11–20 of 109

11

۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

اور اگر جلدی کرتا اللہ واسطے لوگوں کے برائی (پہنچانے) میں مانند جلدی طلب کرنے ان (لوگوں ) کے بھلائی کو تو ، البتہ پورا کر دیا جاتا ان کا وقت مقرر، پھر چھوڑ دیتے ہم ان لوگوں کو جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، ان کی سرکشی میں ، وہ سرگرداں ، پھرتے (11)

[11] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے... کہ جب بندے برائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس برائی میں عجلت سے پکڑنا اور انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنا چاہے، جس طرح وہ نیکی کرتے ہیں تو ان کے لیے جلدی سے ثواب لکھ لیا جاتا ہے، ﴿ لَقُضِيَ اِلَيۡهِمۡ اَجَلُهُمۡ﴾ ’’تو ختم کر دی جائے ان کی عمر‘‘ یعنی عذاب ان کو ملیا میٹ کر دے... مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے اور اپنے بہت سے حقوق کے بارے میں ان کی کوتاہیوں کو معاف کر دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم پر ان کا مواخذہ کرے تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے۔اس آیت کریمہ میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے اہل و اولاد اور مال پر ناراض ہو کر بددعا کر بیٹھتا ہے اگر اس کی بددعا قبول ہو جائے تو سب ہلاک ہو جائیں اور اس سے اسے سخت نقصان پہنچے۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت حلیم اور حکمت والا ہے۔ (یعنی ایسی بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا)﴿ فَنَذَرُ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ﴾ ’’پس ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ‘‘ یعنی وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اسی لیے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون سی چیز انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گی۔ ﴿ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ ﴾ ’’اپنی سرکشی میں ۔‘‘ یعنی اپنے باطل میں ، جس کی بنا پر انھوں نے حق اور حدود سے تجاوز کیا ﴿ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’وہ حیران اور سرگرداں پھرتے ہیں ‘‘ انھیں کوئی راستہ نہیں ملتا اور نہ وہ کسی مضبوط دلیل کی توفیق سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور یہ ان کے ظلم اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کی پاداش میں ان کے لیے سزا ہے۔

12

وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًۭا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّۢ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں

اور جب پہنچتی ہے انسان کو تکلیف تو وہ پکارتا ہے ہمیں اپنے پہلو پر (لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے، پھر جب کھول دیتے ہیں ہم اس سے تکلیف اس کی تو (یوں ) گزر جاتا ہے وہ گویا کہ نہیں پکارا تھا اس نے ہمیں اس تکلیف کے (ہٹانے) کے لیے جو اسے پہنچی تھی، اسی طرح مزین کر دیے گئے واسطے حد سے گزرنے والوں کے جو تھے وہ (برے) عمل کرتے (12)

[12] اس میں انسان کی فطرت کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ جب اسے کسی مرض یا مصیبت کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو خوب دعائیں کرتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے، اپنی دعاؤں میں گڑگڑاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دے۔ ﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنۡ لَّمۡ يَدۡعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّؔ مَّسَّهٗ﴾ ’’پس جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ (یوں ) چلا جاتا ہے گویا کہ اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچنے پر پکارا ہی نہیں ‘‘ یعنی اپنے رب سے روگردانی کرتے ہوئے غفلت میں مستغرق رہتا ہے گویا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہیں آئی، جسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہو۔ اس سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہے کہ انسان اپنی غرض پوری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی یہ غرض پوری کر دے تو پھر وہ اپنے رب کے حقوق کی طرف نہ دیکھے، گویا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ہی نہیں ۔ یہ شیطان کا آراستہ کرنا ہے۔ شیطان ان تمام چیزوں کو مزین کرتا ہے جو انسانی عقل و فطرت کے مطابق انتہائی بری اور قبیح ہیں ۔ ﴿ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠ ﴾ ’’اسی طرح خوش نما بنا دیے گئے ہیں بے باک لوگوں کے لیے‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں ﴿ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو عمل وہ کرتے تھے۔‘‘

13

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ ۙ وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

اور البتہ تحقیق ہم نے ہلاک کر دیا ان امتوں کو جو تم سے پہلے گزریں ، جب انھوں نے ظلم کیا،اور آئے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلیلوں کےاور نہ ہوئے وہ کہ ایمان لاتے، اسی طرح سزا دیتے ہیں ہم ان لوگو ں کو جو مجرم ہیں (13) پھر بنایا ہم نے تمھیں جانشین زمین میں بعد ان کےتاکہ ہم دیکھیں کیسے تم عمل کرتے ہو؟ (14)

[13] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے گزشتہ قوموں کو ان کے کفر و ظلم کی بنا پر تباہ کر دیا۔ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس واضح دلائل آئے اور ان کے سامنے حق واضح ہوگیا مگر انھوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور وہ ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کر دیا جو کسی مجرم اور اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والے سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ تمام قوموں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔

[14]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے تم کو‘‘ یعنی اے مخاطبو! ﴿ خَلٰٓىِٕفَ فِي الۡاَرۡضِ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ لِنَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’زمین میں جانشین ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘ اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت حاصل کی اور نصیحت پکڑی، اللہ تعالیٰ کی آیات کی اتباع کی اور اس کے انبیاء و رسل کی تصدیق کی تو تم دنیا و آخرت میں نجات پاؤ گے۔ اور اگر تم نے بھی وہی کام کیے جو تم سے پہلے ظالم قوموں نے کیے تھے تو تم پر بھی وہی عذاب بھیج دیا جائے گا جو ان پر بھیجا گیا تھا اور جس نے تنبیہ کر دی اس نے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔

14

ثُمَّ جَعَلْنَٰكُمْ خَلَٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو

اور البتہ تحقیق ہم نے ہلاک کر دیا ان امتوں کو جو تم سے پہلے گزریں ، جب انھوں نے ظلم کیا،اور آئے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلیلوں کےاور نہ ہوئے وہ کہ ایمان لاتے، اسی طرح سزا دیتے ہیں ہم ان لوگو ں کو جو مجرم ہیں (13) پھر بنایا ہم نے تمھیں جانشین زمین میں بعد ان کےتاکہ ہم دیکھیں کیسے تم عمل کرتے ہو؟ (14)

[13] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے گزشتہ قوموں کو ان کے کفر و ظلم کی بنا پر تباہ کر دیا۔ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس واضح دلائل آئے اور ان کے سامنے حق واضح ہوگیا مگر انھوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور وہ ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کر دیا جو کسی مجرم اور اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والے سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ تمام قوموں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔

[14]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے تم کو‘‘ یعنی اے مخاطبو! ﴿ خَلٰٓىِٕفَ فِي الۡاَرۡضِ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ لِنَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’زمین میں جانشین ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘ اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت حاصل کی اور نصیحت پکڑی، اللہ تعالیٰ کی آیات کی اتباع کی اور اس کے انبیاء و رسل کی تصدیق کی تو تم دنیا و آخرت میں نجات پاؤ گے۔ اور اگر تم نے بھی وہی کام کیے جو تم سے پہلے ظالم قوموں نے کیے تھے تو تم پر بھی وہی عذاب بھیج دیا جائے گا جو ان پر بھیجا گیا تھا اور جس نے تنبیہ کر دی اس نے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔

15

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٍۢ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، لے آ تو کوئی (اور) قرآن علاوہ اس کے یا بدل دے اس کو (کچھ)، کہہ دیجیے! نہیں لائق واسطے میرے یہ کہ بدل دوں میں اسے اپنی طرف سے، نہیں اتباع کرتا میں مگر اسی چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، بے شک میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے نافرمانی کی اپنے رب کی، عذاب سے بہت بڑے دن کے(15) کہہ دیجیے! اگر چاہتا اللہ تو نہ تلاوت کرتا میں اس کی تم پراور نہ اللہ اطلاع دیتا تمھیں اس کی، پس تحقیق ٹھہرا ہوں میں تمھارے اندر ایک مدت اس (دعوائے نبوت) سے پہلے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (16) پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے افتراء باندھا اوپر اللہ کے جھوٹا یا اس نے جھٹلایا اس کی آیتوں کو؟ بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے مجرم(17)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوت کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰؔذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ﴾ ’’اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا یا اس کو بدل دے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے کہہ دیں : ﴿قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ مجھے یہ زیبا ہے نہ میرے لائق ہے‘‘ ﴿اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَفۡسِيۡ﴾ ’’کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں ‘‘ کیونکہ میں تو صرف رسول ہوں میرے اختیار میں کچھ نہیں ۔ ﴿اِنۡ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ﴾ ’’میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی اتباع وحی کے علاوہ میرا کوئی اختیار نہیں کیونکہ میں تو مامور بندہ ہوں ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ مخلوق میں بہترین ہستی کا قول اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور وحی کے بارے میں اس کا رویہ ہے، تب یہ بیوقوف اور گمراہ لوگ، جنھوں نے جہالت اور گمراہی، ظلم اور عناد اور اللہ رب العالمین پر اعتراضات اور عجز کی طرف اس کی نسبت کو جمع کر رکھا ہے، کیوں کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کر سکتے ہیں ۔ کیا وہ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ان آیات و معجزات کے ذریعے سے ان کے سامنے حق واضح ہو جائے، جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ اس بارے میں جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بیان کر دی ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہیں ، اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور حکمت ربانی کے مطابق ان آیات میں تصرف کرتا ہے۔

[16]﴿قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰىكُمۡ بِهٖ١ۖٞ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر اللہ چاہتا تو میں پڑھتا اس کو تمھارے سامنے نہ وہ خبر کرتا تم کو اس کی، پس تحقیق میں رہ چکا ہوں تم میں ایک طویل عرصہ‘‘ یعنی بہت طویل عرصے تک میں تمھارے اندر رہا ہوں ۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’اس سے پہلے‘‘ یعنی اس کی تلاوت اور تمھارے اس کو جان لینے سے قبل۔ اور میں نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا اور یہ چیز کبھی میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر تم نہیں سوچتے‘‘ یعنی میں نے عمر بھر تمھارے سامنے اس کو تلاوت نہیں کیا اور مجھ سے کبھی کوئی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو اس پر دلالت کرتی ہو، پھر اس کے بعد میں کیوں کر …

16

قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًۭا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، لے آ تو کوئی (اور) قرآن علاوہ اس کے یا بدل دے اس کو (کچھ)، کہہ دیجیے! نہیں لائق واسطے میرے یہ کہ بدل دوں میں اسے اپنی طرف سے، نہیں اتباع کرتا میں مگر اسی چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، بے شک میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے نافرمانی کی اپنے رب کی، عذاب سے بہت بڑے دن کے(15) کہہ دیجیے! اگر چاہتا اللہ تو نہ تلاوت کرتا میں اس کی تم پراور نہ اللہ اطلاع دیتا تمھیں اس کی، پس تحقیق ٹھہرا ہوں میں تمھارے اندر ایک مدت اس (دعوائے نبوت) سے پہلے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (16) پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے افتراء باندھا اوپر اللہ کے جھوٹا یا اس نے جھٹلایا اس کی آیتوں کو؟ بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے مجرم(17)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوت کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰؔذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ﴾ ’’اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا یا اس کو بدل دے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے کہہ دیں : ﴿قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ مجھے یہ زیبا ہے نہ میرے لائق ہے‘‘ ﴿اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَفۡسِيۡ﴾ ’’کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں ‘‘ کیونکہ میں تو صرف رسول ہوں میرے اختیار میں کچھ نہیں ۔ ﴿اِنۡ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ﴾ ’’میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی اتباع وحی کے علاوہ میرا کوئی اختیار نہیں کیونکہ میں تو مامور بندہ ہوں ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ مخلوق میں بہترین ہستی کا قول اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور وحی کے بارے میں اس کا رویہ ہے، تب یہ بیوقوف اور گمراہ لوگ، جنھوں نے جہالت اور گمراہی، ظلم اور عناد اور اللہ رب العالمین پر اعتراضات اور عجز کی طرف اس کی نسبت کو جمع کر رکھا ہے، کیوں کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کر سکتے ہیں ۔ کیا وہ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ان آیات و معجزات کے ذریعے سے ان کے سامنے حق واضح ہو جائے، جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ اس بارے میں جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بیان کر دی ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہیں ، اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور حکمت ربانی کے مطابق ان آیات میں تصرف کرتا ہے۔

[16]﴿قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰىكُمۡ بِهٖ١ۖٞ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر اللہ چاہتا تو میں پڑھتا اس کو تمھارے سامنے نہ وہ خبر کرتا تم کو اس کی، پس تحقیق میں رہ چکا ہوں تم میں ایک طویل عرصہ‘‘ یعنی بہت طویل عرصے تک میں تمھارے اندر رہا ہوں ۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’اس سے پہلے‘‘ یعنی اس کی تلاوت اور تمھارے اس کو جان لینے سے قبل۔ اور میں نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا اور یہ چیز کبھی میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر تم نہیں سوچتے‘‘ یعنی میں نے عمر بھر تمھارے سامنے اس کو تلاوت نہیں کیا اور مجھ سے کبھی کوئی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو اس پر دلالت کرتی ہو، پھر اس کے بعد میں کیوں کر …

17

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، لے آ تو کوئی (اور) قرآن علاوہ اس کے یا بدل دے اس کو (کچھ)، کہہ دیجیے! نہیں لائق واسطے میرے یہ کہ بدل دوں میں اسے اپنی طرف سے، نہیں اتباع کرتا میں مگر اسی چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، بے شک میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے نافرمانی کی اپنے رب کی، عذاب سے بہت بڑے دن کے(15) کہہ دیجیے! اگر چاہتا اللہ تو نہ تلاوت کرتا میں اس کی تم پراور نہ اللہ اطلاع دیتا تمھیں اس کی، پس تحقیق ٹھہرا ہوں میں تمھارے اندر ایک مدت اس (دعوائے نبوت) سے پہلے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (16) پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے افتراء باندھا اوپر اللہ کے جھوٹا یا اس نے جھٹلایا اس کی آیتوں کو؟ بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے مجرم(17)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوت کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰؔذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ﴾ ’’اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا یا اس کو بدل دے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے کہہ دیں : ﴿قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ مجھے یہ زیبا ہے نہ میرے لائق ہے‘‘ ﴿اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَفۡسِيۡ﴾ ’’کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں ‘‘ کیونکہ میں تو صرف رسول ہوں میرے اختیار میں کچھ نہیں ۔ ﴿اِنۡ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ﴾ ’’میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی اتباع وحی کے علاوہ میرا کوئی اختیار نہیں کیونکہ میں تو مامور بندہ ہوں ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ مخلوق میں بہترین ہستی کا قول اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور وحی کے بارے میں اس کا رویہ ہے، تب یہ بیوقوف اور گمراہ لوگ، جنھوں نے جہالت اور گمراہی، ظلم اور عناد اور اللہ رب العالمین پر اعتراضات اور عجز کی طرف اس کی نسبت کو جمع کر رکھا ہے، کیوں کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کر سکتے ہیں ۔ کیا وہ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ان آیات و معجزات کے ذریعے سے ان کے سامنے حق واضح ہو جائے، جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ اس بارے میں جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بیان کر دی ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہیں ، اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور حکمت ربانی کے مطابق ان آیات میں تصرف کرتا ہے۔

[16]﴿قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰىكُمۡ بِهٖ١ۖٞ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر اللہ چاہتا تو میں پڑھتا اس کو تمھارے سامنے نہ وہ خبر کرتا تم کو اس کی، پس تحقیق میں رہ چکا ہوں تم میں ایک طویل عرصہ‘‘ یعنی بہت طویل عرصے تک میں تمھارے اندر رہا ہوں ۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’اس سے پہلے‘‘ یعنی اس کی تلاوت اور تمھارے اس کو جان لینے سے قبل۔ اور میں نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا اور یہ چیز کبھی میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر تم نہیں سوچتے‘‘ یعنی میں نے عمر بھر تمھارے سامنے اس کو تلاوت نہیں کیا اور مجھ سے کبھی کوئی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو اس پر دلالت کرتی ہو، پھر اس کے بعد میں کیوں کر …

18

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے

اور وہ عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے اس چیز کی جو نہیں نقصان پہنچاتی ان کو اور نہ نفع دیتی ہے انھیں اور وہ کہتے ہیں ، یہی لوگ ہیں ہمارے سفارشی اللہ کے ہاں ، کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو ساتھ اس چیز کے کہ نہیں جانتا وہ(اسے) آسمانوں اور زمین میں ، وہ پاک اور بلند ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (18)

[18] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’اور پرستش کرتے ہیں ‘‘ یعنی رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ ﴿مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ ﴾ ’’اللہ کے سوا، اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع‘‘ یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کر سکتے ہیں ۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ ﴿ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ‘‘ یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں ۔ یہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بات ہے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں ، آسمانوں میں اور زمین میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں ۔ پس اے مشرکو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہے اور تم اسے جانتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتے ہو؟ کیا اس عقیدے سے زیادہ باطل عقیدہ پایا جا سکتا ہے جو اس امر کا متضمن ہے کہ یہ گمراہ، جہال اور بیوقوف لوگ، اللہ رب العالمین سے زیادہ علم رکھتے ہیں ؟ عقل مند شخص کے لیے اس عقیدے کا مجرد تصور ہی یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ یہ قطعی طور پر فاسد اور باطل عقیدہ ہے۔ ﴿سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بہت بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی اس کا شریک یا نظیر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ واحد، فرد اور بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اس عالم علوی اور سفلی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عقل، شرع اور فطرت کے اعتبار سے باطل ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ١ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ﴾(لقمان: 31؍30) ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے۔‘‘

19

وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا

اور نہیں تھے لوگ (پہلے) مگر ایک ہی امت، پھر انھوں نے اختلاف کیااور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (سے متعین) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو یقینا فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اس چیز کے بارے میں کہ جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے (19)وہ کہتے ہیں ، کیوں نہیں نازل کی گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے؟ سو آپ کہہ دیجیے! یقینا غیب تو اللہ ہی کے لیے ہے، پس تم انتظار کرو، بلاشبہ میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں (20)

[19]﴿ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت‘‘ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا، تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ ﴿ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہو چکی ہے‘‘ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا‘‘ بایں طور کہ ہم اہل ایمان کو بچا لیتے اور جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کر دیتے اور یہ چیز ان کے درمیان امتیاز اور تفریق کی علامت بن جاتی۔ ﴿ فِيۡمَا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے‘‘ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے اور آزمائش میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔

[20]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں : ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، مثلاً:وہ کہا کرتے تھے: ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍7) ’’اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا‘‘ اور جیسے ان کا یہ قول ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍90)’’اور انھوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لیے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کر دو۔‘‘﴿ فَقُلۡ ﴾ جب وہ آپ سے کسی آیت کا مطالبہ کریں تو آپ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا الۡغَيۡبُ لِلّٰهِ ﴾ ’’غیب کی بات تو اللہ ہی جانے‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کسی حکم، کسی دلیل، کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ۔ ﴿ فَانۡتَظِرُوۡا١ۚ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے؟

20

وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

اور نہیں تھے لوگ (پہلے) مگر ایک ہی امت، پھر انھوں نے اختلاف کیااور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (سے متعین) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو یقینا فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اس چیز کے بارے میں کہ جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے (19)وہ کہتے ہیں ، کیوں نہیں نازل کی گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے؟ سو آپ کہہ دیجیے! یقینا غیب تو اللہ ہی کے لیے ہے، پس تم انتظار کرو، بلاشبہ میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں (20)

[19]﴿ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت‘‘ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا، تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ ﴿ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہو چکی ہے‘‘ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا‘‘ بایں طور کہ ہم اہل ایمان کو بچا لیتے اور جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کر دیتے اور یہ چیز ان کے درمیان امتیاز اور تفریق کی علامت بن جاتی۔ ﴿ فِيۡمَا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے‘‘ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے اور آزمائش میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔

[20]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں : ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، مثلاً:وہ کہا کرتے تھے: ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍7) ’’اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا‘‘ اور جیسے ان کا یہ قول ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍90)’’اور انھوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لیے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کر دو۔‘‘﴿ فَقُلۡ ﴾ جب وہ آپ سے کسی آیت کا مطالبہ کریں تو آپ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا الۡغَيۡبُ لِلّٰهِ ﴾ ’’غیب کی بات تو اللہ ہی جانے‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کسی حکم، کسی دلیل، کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ۔ ﴿ فَانۡتَظِرُوۡا١ۚ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے؟

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.