Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 11–20 of 109

11

۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

[١٧] قریش مکہ پر قحط :۔ قریش مکہ کی مسلسل ایذا رسانیوں اور نافرمانیوں کے نتیجہ میں مکہ میں سخت قحط نمودار ہوا جس کی مصیبت سے اہل مکہ بلبلا اٹھے قریشی متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک گئیں۔ کھانے کو کچھ نہ ملتا تھا حتیٰ کہ یہ لوگ ہڈیاں اور چمڑہ تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک کی شدت اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا اور ان دنوں وہ اللہ سے آہ زاریاں بھی کرتے تھے اور بت پرستی میں بھی خاصی کمی آگئی تھی جب اس قحط نے طول کھینچا تو ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا آپ قحط کے عذاب سے نجات کے لیے دعا کریں، آپ تو صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں جبکہ ہم بھوکوں مر رہے ہیں۔ اگر یہ عذاب دور ہوگیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے چناچہ آپ نے دعا فرمائی تو بارشیں ہونے لگیں اور قحط دور ہوگیا اور یہ دعائیں انسانوں کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے تھیں۔- اچھی دعاجلدی قبول ہوجاتی ہے اور بری نہیں ہوتی :۔ دوسری طرف کافر لوگ آپ سے کہتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ قرآن برحق ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسادے (٨: ٣٢) یہ دعا انسانوں کی برائی اور تباہی کے لیے تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول نہ کیا حتیٰ کہ بعض دفعہ رسول اللہ کی بددعا کے جواب میں فرما دیا۔ (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ ١٢٨۔ ) 3 ۔ آل عمران :128)- اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا دستور یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی اچھی چیز طلب کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اس طرح اگر وہ تم لوگوں کی بددعائیں بھی قبول کرنے لگتا تو اس وقت تک تم میں سے کوئی بھی زندہ نہ رہتا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ برے کاموں کے بدلہ میں یا بددعاؤں کے نتیجہ میں فوراً عذاب نہیں نازل کیا کرتا بلکہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے پھر اگر باربار کی تنبیہات کے باوجود بھی لوگ نافرمانیوں سے باز نہ آئیں تب ان پر عذاب آتا ہے۔

12

وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًۭا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّۢ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں

[١٨] شرکیہ کام خوشحالی میں ہی بھلے لگتے ہیں :۔ انسان کی ایک عادت تو یہ ہے کہ وہ دوسرے کے حق میں یا اپنے لیے کوئی بددعا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد از جلد قبول ہو جس کا لازمی نتیجہ سب لوگوں کی تباہی پر منتج ہوتا ہے اور اس کی دوسری عادت یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے پکارنے لگتا ہے اور اللہ سے کئی طرح کے وعدے کرتا ہے لیکن جب اللہ وہ مصیبت دور کردیتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے نہ اسے اللہ یاد رہتا ہے اور نہ اس سے کیے ہوئے وعدے یاد رہتے ہیں پھر اسے اپنے خود ساختہ حاجت روا اور مشکل کشا یاد آنے لگتے ہیں جیسا کہ قریش مکہ نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ جب آپ کی دعا سے قحط دور ہوگیا تو ان لوگوں کی وہی سرکشیاں، بداعمالیاں، اپنے معبودوں سے لگاؤ اور دین برحق کے خلاف پہلی سی سرگرمیاں پھر شروع ہوگئیں اور مصیبت کے وقت جو دل اللہ کی طرف رجوع کرنے لگے تھے پھر اپنی سابقہ روش اور غفلتوں میں ڈوب گئے اور انہی کاموں میں انہیں لطف آنے لگا اور اچھے معلوم ہونے لگے۔

13

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ ۙ وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

[١٩] قرن کے معنی ایک عہد کے لوگ ہیں اور یہاں قرون سے ایسی اقوام مراد ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں عروج حاصل کیا تھا اوراقوام عالم میں نامور شمار ہوئی تھیں اور ہلاک کرنے سے یہی مراد نہیں کہ ان پر کوئی ارضی و سماوی عذاب وغیرہ بھیج کر ان کی نسل تک کو تباہ کر ڈالا تھا بلکہ ہلاکت کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ جتنا اس قوم نے عروج حاصل کیا تھا اتنا ہی وہ زوال پذیر ہوجائے حتیٰ کہ اتنی کہ قعرمذلت میں گرے اقوام عالم میں وہ شمار کے قابل بھی نہ رہے یعنی ان کے گناہوں کی پاداش میں بتدریج اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔- [٢٠] ظلم کا مفہوم :۔ ظلم کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ اس کا اطلاق ہر گناہ اور زیادتی کے کام پر ہوسکتا ہے چناچہ سب سے بڑے گناہ شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جب کوئی قوم سر نکالتی یا عروج حاصل کرتی ہے تو یہی وقت اس کے ظلم و زیادتی کا ہوتا ہے وہ دوسرے لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھ کر ان پر ہر جائز و ناجائز طریقے سے تسلط جمانا اپنا حق سمجھتی ہے اور اللہ کی یاد سے غافل ہو کر ہر گناہ کے کام کی مرتکب ہوتی ہے ایسے ہی اوقات میں اللہ تعالیٰ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے مگر جو لوگ اپنی عیش و عشرت میں مست اور گناہوں کے کاموں میں مستغرق ہوں وہ بھلا رسولوں کی بات کیسے مانیں گے چناچہ عموماً ایسی مجرم ضمیر قوموں نے رسولوں کا انکار ہی کیا اس طرح جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی انہوں نے اپنا طرز زندگی نہ بدلا تو اللہ نے ان کے جرائم کی پاداش میں انہیں ہلاک کر ڈالا۔

14

ثُمَّ جَعَلْنَٰكُمْ خَلَٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو

[٢١] یعنی اے اہل عرب اب تمہاری باری آچکی ہے پہلی قوموں کی جگہ تم نے لے لی ہے اور جیسی زیادتیاں اور ظلم تم سے پہلے لوگ کرتے رہے وہ تم بھی کر رہے ہو ان کے پاس بھی ہم نے رسول بھیجے تھے اور تمہارے پاس بھی بھیجا ہے اور اب ہم یہ دیکھیں گے کہ تم سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہو یا نہیں ؟ اور رسول پر ایمان لاکر اپنی باغیانہ روش سے باز آتے ہو یا نہیں ؟

15

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٍۢ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے

[٢٢] کفار مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار سمجھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے تو پوری طرح قائل تھے مگر الوہیت کی صفات میں اپنے مختلف دیوی دیوتاؤں کو بھی شریک کرلیا تھا اور عقیدہ آخرت کے تو سخت منکر تھے۔ انکار آخرت کا عقیدہ کس دور میں ان کے مذہب میں شامل ہوا تھا یہ معلوم نہیں ہوسکا۔- [٢٣] کفار کی طرف سے قرآن میں تبدیلی کا مطالبہ :۔ گویا مشرکین قریش یہ سمجھتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی تصنیف کردہ ہے لہذا اپنے اس زعم باطل کو بنیاد بنا کر انہوں نے دو مطالبات پیش کردیئے ایک یہ کہ اس قرآن کے بجائے کوئی ایسا قرآن لاؤ جو ہمارے لیے بھی قابل قبول ہو اور دوسرا یہ کہ اگر سارا قرآن دوسری قسم کا نہیں لاسکتے تو کم از کم اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کردو جس کی بنا پر ہم تمہارے ساتھ صلح و سمجھوتہ کی راہ استوار کرسکیں۔ بالفاظ دیگر قرآن میں سے اس حصہ کو حذف کردو جو بت پرستی وغیرہ سے متعلق ہے اس کے عوض ہماری طرف سے تم لوگوں کو عام اجازت ہوگی کہ جیسے اور جب چاہو اپنے اللہ کو پکارو اور اسی کی عبادت کرو وغیرہ وغیرہ۔ اور یہی وہ نظریہ ہے جسے آج کل بھی مختلف مذاہب کے درمیان صلح و آشتی کی بنیاد قرار دیا جارہا ہے یعنی اپنی چھوڑو نہ اور دوسروں کو چھیڑو نہ اور یہی وہ فاسد نظریہ ہے جس کے متعلق اقبال نے کہا تھا :- باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق باطل نہ کر قبول - [٢٤] اس جملہ میں کفار کے دونوں نظریات کی تردید کردی گئی یعنی یہ قرآن میری اپنی تصنیف نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کیا گیا ہے۔ لہذا یہ بات میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں کوئی اور قرآن لاؤں نیز میں اس وحی کی پیروی کا پابند ہوں جو اس قرآن میں ہے لہذا مجھے ایسا کوئی اختیار نہیں کہ اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کرکے اسے اس قابل بناسکوں جس کی بنیاد پر ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی سمجھوتہ یا درمیانی راہ طے پاسکے۔ نیز اگر میں کوئی ایسا کام کر گزروں درآں حالیکہ میں ہی اس قرآن کی اتباع کا داعی ہوں تو پھر مجھ سے بڑھ کر مجرم کون ہوسکتا ہے ؟ میں تو اس تصور اور پھر اس کے نتیجہ میں عذاب اخروی کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہوں۔

16

قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًۭا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں

[٢٥] آپ کی سابقہ زندگی سے قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت :۔ یہ کفار کے مطالبات کا دوسرا جواب ہے یعنی اللہ کی یہی مشیت تھی کہ اس نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ میں تمہیں اس کے پیغام سے آگاہ کر دوں اور اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہیں قرآن سناتا اور نہ ہی تم اس کے مضامین پر آگاہ ہوتے اس میں میرے اپنے اختیار کی کوئی بات نہیں البتہ ایک بات کی طرف تمہاری توجہ ضرور دلاتا ہوں اور وہ ہے میری سابقہ زندگی جو میں نے تمہارے ہی درمیان گزاری ہے اور تم ان باتوں سے خوب واقف ہو کہ :- ١۔ میں خود امی یا ان پڑھ ہوں تمام تر زندگی میں نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر ایسا کلام پیش کردیتا جس کی مثل پیش کرنے سے تمہارے سب شعراء اور ادباء عاجز آچکے ہیں۔- ٢۔ نبوت سے پیشتر میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ شبہ ہوسکے کہ ایسا کلام کہنا میری جبلّت میں موجود تھا جس میں ترقی کرتے کرتے میں ایسا کلام پیش کرنے کے قابل ہوگیا ہوں جیسا کہ شعراء اور ادباء کی زندگی میں ایسا ملکہ ابتداء سے ہی موجود ہوتا ہے۔- ٣۔ میں نے کبھی نہ کسی سے جھوٹ بولا نہ فریب کیا اور تم لوگ میری صداقت و راست بازی اور دیانت و امانت کے معترف بھی ہو اور کئی دفعہ اپنی زبانی ایسا اعتراف بھی کرچکے ہو۔ پھر ان حقائق کی موجودگی میں تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں قرآن بنا لایا ہوں یا بناسکتا ہوں نیز یہ کہ آج تک میں نے کسی آدمی کے ذمہ کوئی جھوٹی بات منسوب بھی نہیں کی تو پھر اللہ کی نسبت ایسا جھوٹ کیسے منسوب کرتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ نے میری طرف وحی کیا ہے۔

17

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے

[٢٦] سب سے بڑھ کر ظالم کون ؟:۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخض ایک بات تو خود گھڑے یا تصنیف کرے پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کردے جیسا کہ مشرکین مکہ کا آپ کے متعلق خیال مذکور ہوا ہے ایسا شخص بھی سب سے بڑھ کر ظالم ہے اور اگر نبی اپنے قول میں سچا ہے تو اللہ کی آیات کا منکر بھی ویسا ہی سب سے بڑھ کر ظالم ہوگا اور دونوں کے ظلم میں کوئی فرق نہیں۔- [٢٧] نظریہ کی تبدیلی سے فلاح کے معیار میں تبدیلی :۔ فلاح سے مراد کامیابی سے ہم کنار ہونا ہے لیکن نظریہ کی تبدیلی سے کامیابی کا معیار بھی بدل جاتا ہے مثلاً ایک دنیادار اور آخرت کے منکر کے نزدیک انتہائی کامیابی یہ ہے کہ اسے امن وچین اور عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنا نصیب ہو اور لمبی عمر حاصل ہو جبکہ ایک دیندار اور آخرت پر یقین رکھنے والے کے نزدیک کامیابی کا معیار اخروی عذاب سے نجات ہے اگرچہ وہ بھی اللہ سے فلاح دارین کا طالب ہوتا ہے۔ چناچہ اس دنیا میں بھی اسے وہ کچھ نصیب ہوتا ہے جو اس کے مقدر ہوتا ہے لیکن وہ اس دنیا کی مزعومہ کامیابی کو کامیابی کا معیار قرار نہیں دیتا اس آیت میں جس کامیابی کا ذکر ہے اس سے مراد اخروی فلاح ہے یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے یا اس کی آیات کو جھٹلانے والوں کو کبھی اخروی فلاح نصیب نہیں ہوگی۔

18

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے

[٢٨] من دون اللہ کی سفارش ؟ یعنی اللہ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو کسی کی بگڑی کو بناسکے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکے لہذا ایسا عقیدہ رکھ کر کسی دوسرے کی پرستش کرنا عبث ہے اور اس لحاظ سے کہ اس نے اللہ کی صفات میں دوسروں کو شریک کیا، بہت بڑا جرم بھی ہوتا ہے۔ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کی پرستش کیوں کرتے ہو ؟ تو کہتے ہیں کہ بیشک بڑا خدا تو ایک ہی ہے مگر ان دیوی دیوتاؤں کی پرستش اور انہیں خوش رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جو تھوڑے بہت اختیار انہیں حاصل ہیں ان کے مطابق ہمارے کام درست کردیں اور جو نہیں ان کی سفارش کردیں اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی یہ ہماری سفارش کریں گے۔- [٢٩] عقیدہ سفارش مروجہ کی کوئی سند نہیں :۔ مشرکوں کا بتوں یا دیوی دیوتاؤں کے سامنے سجدہ ریز ہونے یا ان کی تعظیم بجا لانے کے متعلق عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دراصل ان پتھر کے مجسموں کی عبادت یا تعظیم نہیں کرتے بلکہ ان مجسموں کی ارواح کی تعظیم بجا لاتے ہیں جو ان کے عقیدہ کے مطابق ان مجسموں پر موجود رہتی ہیں اور یہ مجسمے بزرگوں کے بھی ہوتے ہیں۔ اللہ کی بیٹیوں اور بیٹوں کے بھی اور بعض فرشتوں کے بھی اور آج کا مسلمان یہی عقیدہ اپنے بزرگوں کی قبروں سے وابستہ کردیتا ہے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جواب میں فرمایا کہ بتوں کا شفیع ہونا اور کسی شفیع کا مستحق عبادت ہونا یہ دونوں دعوے غلط اور بےاصل ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ کسی چیز کی اصل تو موجود ہو لیکن اللہ کو اس کا علم نہ ہو پھر کیا یہ مشرک اللہ کو ایسی خود تراشیدہ باتوں کی خبر دینا چاہتے ہیں جن کا زمین و آسمان میں کہیں وجود ہی نہیں پھر یہ کن سفارشیوں کی اللہ کو خبر دینے لگے ہیں۔

19

وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا

[٣٠] یعنی سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد کافی مدت لوگ ایک ہی دین پر رہے پھر اختلاف کرکے فرقے بن گئے ان میں سے کچھ لوگ تو سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے کے بعد ان کے پجاری بن گئے اور کچھ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے اور توحید کی سیدھی راہ کو چھوڑ کر شرک کی راہوں پر جا پڑے۔- [٣١] پہلے سے طے شدہ کلمہ کیا ہے ؟ وہ طے شدہ بات یہ تھی کہ چونکہ یہ دنیا دارالعمل اور دارالامتحان ہے اس لیے کسی کو بھی اس کے جرم کی پاداش میں فوری طور پر سزا نہیں دی جائے گی اگر یہ بات پہلے سے مشیت الٰہی میں نہ ہوتی تو جب کچھ لوگ کوئی نیا فرقہ بناتے تو اللہ کا عذاب انہیں فوراً تباہ و برباد کردیتا اور اس طرح یہ دنیا کب کی ختم ہوچکی ہوتی اور اگر کچھ لوگ بچ جاتے اور وہ ایمان لے بھی آتے تو ایسے جبری ایمان کا کچھ فائدہ بھی نہ تھا۔

20

وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

[٣٢] کفار مکہ کا حسی معجزہ کا مطالبہ :۔ معجزہ سے مراد ایسا حسی معجزہ ہے جس کا کفار مطالبہ کر رہے تھے۔ مثلاً یہ کہ فلاں پہاڑ سونے کا بن جائے یا اس سرزمین سے کوئی چشمہ پھوٹ نکلے یا ہمارے گزرے ہوئے آباؤ اجداد زندہ ہو کر ہمارے سامنے آکر ہمیں حقیقت حال سے مطلع کریں وغیرہ وغیرہ۔ ان کا مطالبہ کچھ اس لیے نہ تھا کہ جونہی وہ معجزہ دیکھ لیں گے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ یہ محض ایمان نہ لانے کا بہانہ تھا ورنہ وہ کئی معجزات ایسے دیکھ چکے تھے جو ایمان لانے کے لیے بہت کافی تھے مثلاً ان میں سرفہرست قرآن بذات خود ایک ایسا معجزہ تھا۔ ان کافروں کے مطالبہ معجزہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان سے کہیے کہ جو نشانیاں آچکیں وہ تم نے بھی دیکھ لی ہیں اور میں نے بھی۔ اور جو ابھی آنے والی ہیں ان کا مجھے بھی کچھ علم نہیں۔ کیونکہ میں غیب کی باتیں نہیں جانتا لہذا تم بھی ایسی آنے والی نشانی کا انتظار کرو اور میں بھی کرتا ہوں۔- چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی کئی نشانیاں دکھلا دیں۔ مثلاً ان کی خواہشات اور پیہم رکاوٹوں کے علی الرغم اسلام کا بول بالا ہوا، مسلمانوں کو اکثر جنگوں میں تائید الٰہی میسر آتی رہی اور کافر ہر میدان میں پٹتے اور ذلیل و خوار ہوتے رہے تاآں کہ آپ کی وفات تک جزیرہ عرب سے کفر و شرک کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.