مجرم اور ظالموں کا سرغنہ ٭٭
اس سے زیادہ ظالم، اس سے زیادہ مجرم، اسے زیادہ سرکش اور کون ہو گا؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو۔ رسالت کا دعویٰ کردے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں۔
پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی علیہ السلام اس سے غافل رہیں؟ یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کر دیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو رکھئے تو اتنا ہی فرق معلوم ہوگا، جتنا آدھی رات اور دوپہر کے وقت میں دونوں کے اخلاق عادات، حالات کا معائنہ کرنے والا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اس کی غلط گوئی میں کوئی شک نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سجاح اور اسود عنسی کا دعویٰ ہے کہ نظر ڈالنے کے بعد کسی کو ان کے جھوٹ میں شک نہیں رہتا۔
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کے لیے گئے۔ میں بھی گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نظریں پڑتے ہی میں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں۔ پاس گیا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کلام سنا کہ لوگو سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاتے رہا کرو صلہ رحمی قائم رکھو، راتوں کو لوگوں کی نیند کے وقت تہجد کی نماز پڑھا کرو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے ۔ [سنن ترمذي:2485قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر3665
اسی طرح جب سعد بن بکر کے قبیلے کے وفد میں سیدنا ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پوچھا کہ اس آسمان کا بلند کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس نے پوچھا ان پہاڑوں کا گاڑنے ولا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ۔ اس نے پوچھا اس زمین کا پھیلانے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ، تو اس نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس نے ان آسمانوں کو بلند کیا، ان پہاڑوں کو گاڑ دیا اس زمین کو پھیلا دیا کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اسی اللہ کی قسم ہاں ۔ اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کی بابت بھی اس نے ایسی ہی تاکیدی قسم دلا کر سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قسم کھا کر جواب دیا۔ تب اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ اس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ نہ میں اس پر بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا ۔ [صحیح بخاری:63]
پس اس شخص نے صرف اسی پر قناعت کرلی۔ اور جو دلائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اس کے سامنے تھے ان پر اسے اعتبار آگیا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کتنا اچھا شعر کہا ہے
«لَوْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ آيَاتٌ مُبَيِّنَةٌ» «كَانَتْ بَدِيهَتُهُ تَأْتِيكَ بِالْخَبَرِ»
صفحہ نمبر3666
یعنی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اگر اور ظاہر اور کھلی نشانیاں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی ایک بات کافی تھی کہ چہرہ دیکھتے ہی بھلائی اور خوبی تیری طرف لپکتی ہے۔ «فَصَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
برخلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کذاب مسیلمہ کے جس نے اسے بیک نگاہ دیکھ لیا اس کا جھوٹ اس پر کھل گیا، خصوصاً جس نے اس کے فضول اقوال اور بدترین افعال دیکھ لیے، اسے اس کے جھوٹ میں ذرا سا شائبہ بھی نہ رہا۔ جسے وہ اللہ کا کلام کہہ …