Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 109

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْحَكِيمِ

آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں

الۗرٰ : یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ - تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ : ” تِلْكَ “ اسم اشارہ ہے، مشار الیہ ” اَلْآیَاتُ “ مقدر ہے۔ مراد قرآن مجید کی تمام آیات ہیں جن میں ہماری یہ سورت بھی شامل ہے، یعنی یہ عظیم الشان آیات کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ ” الْحَكِيْمِ “ (کمال حکمت والی) کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ دانائی اور حکمت سے بھری ہوئی ہے، اس کی کوئی بات نہ خطا ہے، نہ عقل کے خلاف اور نہ کمتر درجہ کی، بلکہ ہر بات ہی کمال عقل و دانش پر مبنی ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ یہ کتاب انتہائی محکم اور مضبوط ہے، اس کی آیات میں کوئی باہمی اختلاف نہیں، نہ ہی اس کے حلال و حرام اور حدود و احکام کبھی منسوخ ہوں گے، یعنی حکیم بمعنی محکم ہے۔

2

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ ٱلْكَٰفِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌۭ مُّبِينٌ

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے

اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا ۔۔ : یعنی آخر اس میں تعجب اور حیرت کی کون سی بات ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے اور فلاح و سعادت کی راہ دکھانے کے لیے خود انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا گیا ؟ تعجب کی بات تو تب ہوتی کہ ان کا پروردگار ان کی ہدایت کا کوئی سامان نہ کرتا، یا ان میں کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتا، کیونکہ فرشتہ یا جن انسانوں کے لیے نمونۂ عمل بن ہی نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورة توبہ ( ١٢٨) اور آل عمران (١٦٤) کی تفسیر۔ - اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ ۔۔ : ” قَدَم “ کا معنی تو ظاہر ہے، دوسروں سے آگے وہی نکلتا ہے جس کا قدم دوڑ میں سب سے آگے نکل جائے، اس لیے ” قَدم “ کا معنی پیش قدمی بھی کرتے ہیں۔ درجے اور مرتبے کی بلندی بھی آگے نکلنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ ” صِدْق “ (سچ) مبالغہ کے لیے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی اتنا سچا کہ سراپا سچ ہے، جیسے ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ ” أَيْ زَیْدٌ عَادِلٌ“ گویا زید سراپا عدل ہے۔ صدق قول میں بھی ہوتا ہے اور فعل میں بھی۔ ” قَدَم “ (موصوف) اپنی صفت ” صِدْقٍ “ کی طرف مضاف ہے، جیسا کہ ” مَسْجِدُ الْجَامِعِ “ معنی یہ ہوا کہ ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں حقیقی پیش قدمی اور سچا مرتبہ ہے، کفار اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھے ہی نہیں بلکہ شرک و کفر میں ایسے اندھے ہوئے کہ وہ شخص جس کی چالیس سالہ زندگی کے صدق و امانت کے وہ خود شاہد تھے اس پر ایمان لانے کے بجائے ضد اور عناد سے اسے جادوگر کہہ دیا، ایسے اندھوں اور بہروں کو رب تعالیٰ کے ہاں حقیقی پیش قدمی اور سچا مرتبہ کیسے حاصل ہوسکتا تھا۔ سو وہ آگے بڑھنے کے بجائے جہنم میں گرنے کے لیے پیچھے رہ گئے۔ چونکہ ان کا آپ کو جادوگر قرار دینا بالکل ہی بودی بات تھی، اس لیے اس کا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ - 3 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر قرار دینے سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کے دماغ یہ مان گئے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام آدمی نہیں۔ مگر ان کی بدبختی دیکھیے کہ وہ جادوگروں کی غلیظ اور خبیث زندگی اور بد عادات سے خوب واقف ہونے کے باوجود سب سے زیادہ امین، راست باز، پاک دامن اور صاحب عقل و دانش انسان کو محض ہٹ دھرمی کی بنا پر جادوگر کہہ رہے ہیں۔

3

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ ۔۔ : نبوت کے اثبات کے بعد توحید و قیامت کے دلائل شروع ہوتے ہیں۔ توحید کی پہلی اور اظہر من الشمس دلیل جو قرآن بار بار بیان کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا آسمان و زمین اور ہر چیز کا خالق ومالک، رب اور مدبر ہونا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢١، ٢٢) یہ بات مکہ کے مشرک بھی مانتے تھے۔ دیکھیے سورة مومنون (٨٤ تا ٨٩) جب رب وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں کی جائے۔ اس آیت میں اور دوسرے بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور دوسری صفات کو اس کے واحد معبود برحق ہونے کی دلیل بنایا ہے۔ - فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ : اس آیت میں دہر یہ کا بھی رد ہے جو رب تعالیٰ کے وجود ہی کے منکر ہیں، جب معمولی سے معمولی چیز بنانے والے کے بغیر نہیں بنتی تو سمجھ لو کہ اتنی بڑی کائنات اور اس کا عظیم الشان نظام، جس میں کوئی حادثہ یا تصادم نہیں، اسے بنانے والا تمہارا رب ہی ہے۔ چھ دنوں سے مراد یا تو وہ دن ہیں جن میں سے ایک دن ہمارے ہزار سال کے برابر ہے، فرمایا : (وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) [ الحج : ٤٧ ] ” اور بیشک ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو۔ “ یا ہمارے چھ دنوں کے برابر مدت مراد ہے، کیونکہ یہ دن رات تو سورج کی پیدائش کے بعد وجود میں آئے۔ (واللہ اعلم)- اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت تدریج بھی ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ وہ چاہتا تو سب کچھ ایک لمحے میں ” کُنْ “ کہہ کر پیدا فرما لیتا، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ زمین و آسمان کو مرحلہ وار پیدا فرمائے۔ اس میں ہمارے لیے بھی ہر کام آرام و اطمینان کے ساتھ کرنے کا سبق ہے۔ کائنات کی اکثر اشیاء پر غور کریں تو وہ چھ مرحلوں سے گزر کر مکمل ہوئی ہیں، مثلاً انسان کی پیدائش کے لیے دیکھیے سورة مومنون (١٢ تا ١٤) ۔- ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ۔۔ : پھر عر ش پر بلند ہوا اور وہاں رہ کر اسے کائنات کی تدبیر کا مرکز بنایا۔ نیز دیکھیے سورة اعراف (٥٤) ” يُدَبِّرُ الْاَمْرَ “ سے معلوم ہوا کہ پیدا کرنے کے بعد اس کا سارا اختیار اور تدبیر و انتظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ مشرکین نے اختیار کچھ اور ہستیوں کے پاس سمجھ لیا، بھلا پیدا کرنے کے بعد اپنی ملکیت و اختیار کسی دوسرے کو کون دیتا ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ملکیت و اختیار بےبس مخلوق کو دے دے جو اپنا آپ نہیں سنبھال سکتی، حقیقت یہی ہے کہ مشرک سے بڑھ کر بےعقل کوئی نہیں ہوسکتا۔ دیکھیے سورة روم (٢٨) ۔- مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ : کفار اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کا خیال تھا اور ہے کہ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جو مالک تو نہیں، مگر وہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں کروا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کی محبت کے ہاتھوں یا ان کی غیبی قوت سے مجبور ہو کر ان کی بات اور سفارش ماننا پڑتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے بجائے ان سے التجائیں کرتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صاف نفی فرما دی۔ ہاں، خود اللہ تعالیٰ کسی کو عزت بخشنے کے لیے اسے سفارش کی اجازت دے دے تو وہ سفارش کرسکے گا، مگر صرف اس کے لیے جس کے حق میں اجازت ملے گی۔ اس میں اس کا اپنا اختیار کچھ بھی نہیں ہوگا۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کرسکے گا قرآن مجید کی متعدد آیات میں بیان ہوا ہے، مثلاً دیکھیے سورة بقرہ (٢٥٥) ، طہ (١٠٩) ، سبا (٢٣) اور نجم (٢٦) بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے سرے سے شفاعت ہی کی نفی کی ہے، جیسے فرمایا : (؀ۭفَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ ) [ المدثر : ٤٨ ] ” پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔ “ اور فرمایا : (وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ) [ البقرۃ : ٤٨، ١٢٣] ” اور کسی جان سے کوئی سفارش قبول نہ کی جائے گی۔ “ وہاں یا تو کفار کا ذکر …

4

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے

اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۔۔ : اس میں قیامت، یعنی سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونے کا بیان ہے۔ یہ اللہ کا پکا سچا وعدہ ہے کیونکہ دنیا میں نیک و بد کی جزا و سزا نہ ضروری ہے نہ ممکن، نہ یہاں اس کے لیے مطلوب فرصت میسر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے سچے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمہیں دوبارہ زندہ کرکے ایمان والوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے گا اور کافروں کو ان کے کفر کا بدلہ دے گا۔ اگر کوئی اسے ناممکن سمجھے تو سوچ لے کہ جو ذات تمہیں شروع میں پیدا کرتی ہے، یعنی عدم سے وجود میں لاتی ہے، کیا اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ مزید دیکھیے سورة روم (٢٧) ” حَمِیْمٍ “ وہ پانی جو گرمی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ دیکھیے سورة رحمن (٤٤) اور سورة محمد (١٥) ۔

5

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءًۭ وَٱلْقَمَرَ نُورًۭا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً ۔۔ : ” ضِيَاۗءً “ ” ضَاءَ یَضُوْءُ ضَوْءً ا وَ ضِیَاءً “ سے ہے اور ” قِیَامًا “ کی طرح مصدر ہے، بعض کہتے ہیں یہ ” ضَوْءٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ” سَوْطٌ۔ “ کی جمع ” سِیَاطٌ“ یعنی سورج کو ” ذَاتَ ضِیَاءٍ “ تیز روشنی والا اور چاند کو ” ذَا نُوْرٍ “ نور والا بنایا، پھر ” ذَاتَ “ اور ” ذَا “ کو حذف کرکے مبالغہ کے لیے سورج کو سراپا ضیاء اور چاند کو سراپا نور قرار دیا۔ ضیاء اور نور میں وہی فرق ہے جو سورج کی تیز اور گرم روشنی اور چاند کی پر سکون روشنی میں ہوتا ہے۔ انسان اور کائنات کی حرکت و سکون کے لیے دن اور رات کی طرح سورج اور چاند بھی ضروری ہیں۔ - وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ ۔۔ : یعنی چاند کی منزلیں مقرر فرمائیں کہ ہر روز گھٹتا اور بڑھتا ہے، اگرچہ سورج کی بھی منزلیں مقرر ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے، مگر چاند کا اٹھائیس منزلوں میں روزانہ شکل بدل کر آنا، پھر ایک یا دو دن چھپ کرنئے سرے سے طلوع ہونا تاریخ اور ماہ و سال کی تعیین کے لیے زیادہ آسان اور قابل عمل ہے۔ اس لیے شریعت کے تمام احکام مثلاً حج، روزہ اور کفارہ وغیرہ بھی اسی سے متعلق ہیں۔ دیکھیے (یَسْئَلٗوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃ) [ البقرۃ : ١٨٩ ] کی تفسیر۔- مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےفائدہ اور بےمقصد پیدا نہیں فرمایا۔ یہ تفصیل علم و فہم رکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ بےعلم اور بےسمجھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کے بیان سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

6

إِنَّ فِى ٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَّقُونَ

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۔۔ : سورج روزانہ نئی جگہ سے طلوع اور نئی جگہ غروب ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رب المشارق (بہت سے مشرقوں کا رب) ہے۔ اسی سے دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، موسموں کا بدلنا، ٹھیک وقت پر شمسی سال کے لحاظ سے سال کے بعد وہی موسم دوبارہ آجانا اور زمین و آسمان میں موجود اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ بیشمار چیزوں میں یقیناً اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں ہیں، مگر ان کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور برے انجام سے بچتے ہیں۔ ان نشانیوں کی تفصیل چاہو تو ہر قدم پر اور ہر لمحہ تمہارے سامنے ہیں، مگر جو منہ ہی موڑ لے اس کا کیا علاج ؟ دیکھیے سورة یوسف (١٠٥) موٹی موٹی نشانیوں کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٦٤) ۔

7

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۔۔ : آخرت کے ذکر کے بعد دو آیتوں میں اس کے منکرین اور پھر اس پر ایمان والوں کا ذکر فرمایا، آخرت کے منکروں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی صفت ” لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا “ ” رَجَاءٌ“ کا لفظ طمع اور خوف دونوں معنوں میں آتا ہے، اس لیے ” لَا يَرْجُوْنَ “ کا مطلب ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے، یا اس سے نہیں ڈرتے، نہ ہی آخرت میں ہونے والے حشر و نشر پر ان کا ایمان ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر وہی خوش ہوتا ہے جو پورے کا پورا جسمانی لذات و خواہشات کا اسیر ہوجائے۔ تیسری یہ کہ وہ اس پر مطمئن ہوگئے، مطمئن وہی ہوتا ہے جو اسے اپنی آخری پناہ سمجھ لے، سعادت مند لوگوں کو تو اللہ کے ذکر سے اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ ان کی آخری پناہ گاہ وہی ہے، حیات دنیا کے فانی ہونے کی وجہ سے وہ کبھی اس پر مطمئن نہیں ہوتے۔ - وَالَّذِيْنَ ھُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ : چوتھی یہ کہ وہ آسمان و زمین میں موجود بیشمار نشانیوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، نہ ان پر کچھ غورو فکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیات سے مراد آیات قرآنی ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ ہمارے احکام سے غفلت برتتے ہیں، نہ ان پر غور کرتے ہیں اور نہ انھیں بجا لاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ٹھکانا ان کا ان کے اعمال بد کی وجہ سے آگ ہے۔

8

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے

Explained together with ayah 7

9

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی

يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ : یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کے ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں صراط مستقیم کی ہدایت، یعنی سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ایمان لانے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی ہوگی، حتیٰ کہ وہ (پل) صراط سے گزر کر سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ ان دونوں معنوں میں باء سببیت کے لیے ہے، یہ باء استعانت کے لیے بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ سورة حدید ( ١٢، ١٣) میں فرمایا کہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا، جب کہ منافق مرد اور عورتیں ان سے درخواست کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے نور سے فائدہ اٹھا کر ساتھ چلنے کا موقع دو ۔ گویا مومن اپنے نور ایمان کی مدد سے چلتے ہوئے جنت میں پہنچ جائیں گے، جب کہ منافق اندھیرے میں رہ جائیں گے۔- تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ : جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة محمد (١٥) ۔- فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ : ان نعمتوں کی تفصیل بیان میں نہیں آسکتی، فرمایا : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ) [ السجدۃ : ١٧ ] ” پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب صفۃ الجنۃ : ٤؍٢٨٢٤، عن أبی ہریرہ (رض) ]” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر اس کا خیال ہی گزرا۔ “

10

دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌۭ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے

دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ ۔۔ : یعنی وہ جنت کی نعمتیں اور عجائب دیکھ کر بےاختیار کہیں گے : ” اے اللہ تو پاک ہے “ بلکہ جس طرح دنیا میں خود بخود سانس جاری رہتا ہے اہل جنت کے دل و زبان پر ہر وقت خود بخود اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید جاری رہے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَأْکُلُوْنَ فِیْھَا وَیَشْرَبُوْنَ وَلَا یَتْفِلُوْنَ وَلاَ یَبُوْلُوْنَ وَلاَ یَتَغَوَّطُوْنَ وَلاَ یَمْتَخِطُوْنَ ، قَالُوْا فَمَا بَال الطَّعَامِ ؟ قَالَ جُشَاءٌ وَ رَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ یُلْھَمُوْنَ التَّسْبِیْحََ وَالتَّحْمِیْدَ کَمَا یُلْھَمُوْنَ النَّفْسَ ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب في صفات الجنۃ وأھلھا۔۔ : ٢٨٣٥، عن جابر بن عبد اللہ۔ ] ” جنتی جنت میں کھائیں گے اور پییں گے، وہ نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ “ صحابہ نے پوچھا : ” جو کھانا وہ کھائیں گے وہ کہاں جائے گا ؟ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : ” بس ڈکار آئے گا اور پسینا آئے گا جس سے مشک (کستوری) کی خوشبو آئے گی (اور ان کا کھانا تحلیل ہوجائے گا) ۔ (ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں پر) تسبیح اور حمد خود بخود بےاختیار جاری ہوگی جس طرح سانس خود بخود جاری ہوتا ہے۔ “ ” تَحِیَّتُھُم “ باب تفعیل کا مصدر، زندگی کی دعا دینا کہ اللہ تمہیں زندگی بخشے، یعنی وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو ایک دوسرے کو زندہ رہنے کی دعا سلام کے الفاظ سے دیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة ابراہیم (٢٣) ، سورة مریم (٦٠ تا ٦٢) اور سورة واقعہ (٢٥، ٢٦) میں بیان فرمایا ہے۔ - وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : اور ان کی دعا اور گفتگو کا اختتام رب العالمین کی حمد کے ساتھ ہوگا، دنیا میں بھی ان کی گفتگو اور دعا کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کے ساتھ ہوا کرتا تھا، جنت میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔ جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص یہ الفاظ کہے : ( سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ ) کسی ذکر کی مجلس میں تو یہ مہر کی طرح ہوں گے جو آخر میں لگائی جاتی ہے اور جو انھیں کسی لغو کی مجلس میں کہے تو اس کے لیے کفارہ ہوں گے۔ “ [ مستدرک حاکم : ١؍ ٥٣٧، ح : ١٩٧٠۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ١؍١٢٠ ] عبداللہ بن عمرو اور ابن مسعود (رض) کی روایت کے الفاظ ہیں کہ کفارۂ مجلس یہ ہے کہ بندہ یوں کہے : ( سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ ) [ صحیح الجامع : ٤٤٨٧ ]

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.