Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 1–10 of 109

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْحَكِيمِ

آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں

پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتاہے۔ وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتاہے۔ اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر اندازکردیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کرپاتے جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔

پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتاہے جو سننے والوں کو بے دلیل کردیتاہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کررہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے، نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔

پیغمبر کا اصل مشن انذار وتبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہوں، ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس ليے آتاہے کہ لوگوں کو اس حقیقتِ واقعہ سے آگاہ کردے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہوجانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکرکرني چاہیے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے دکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔

ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لیے ہے، جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت وترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت وترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔

2

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ ٱلْكَٰفِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌۭ مُّبِينٌ

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے

پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتاہے۔ وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتاہے۔ اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر اندازکردیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کرپاتے جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔

پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتاہے جو سننے والوں کو بے دلیل کردیتاہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کررہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے، نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔

پیغمبر کا اصل مشن انذار وتبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہوں، ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس ليے آتاہے کہ لوگوں کو اس حقیقتِ واقعہ سے آگاہ کردے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہوجانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکرکرني چاہیے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے دکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔

ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لیے ہے، جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت وترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت وترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔

3

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

کائنات میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں کا ظہور بیک وقت نہیں ہوا بلکہ تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک ہوا ہے۔ قرآن اس تدریجی تخلیق کو چھ ادوار (periods) میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ دَوری تخلیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کی پیدائش شعوری منصوبہ کے تحت ہوئی ہے۔ پھر کائنات کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا نظام حد درجہ محکم قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ ہر چیز ٹھیک اسی طرح عمل کرتی ہے جس طرح مجموعی تقاضے کے تحت اسے عمل کرنا چاہيے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا ایک زندہ مدبر ہے جو ہر لمحہ اس کا انتظام کررہا ہے۔

کائنات کا یہ حیران کن نظام خود ہی پکار رہاہے کہ اس کا مالک اتنا کامل اور اتنا عظیم ہے جس کے یہاں کسی سفارشی کی سفارش چلنے کا کوئی سوال نہیں۔ کائنات اپنی خصوصیات کے آئینہ میں اپنے خالق کی خصوصیات کو بتارہی ہے۔

ساری کائنات میں ’’قسط‘‘ کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ یہ ہورہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتاہے اسی کے مطابق نتیجہ اس کے سامنے آتاہے۔ ہر ایک کو وہی ملتاہے جو اس نے کیا تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جاتا ہے جس کے لیے اس نے نہیں کیا تھا۔ زمین کا جو حصہ رات کے اسباب جمع کرے وہاں تاریکی پھیل کر رہتی ہے اور زمین کا جو حصہ روشنی کے اسباب پیدا کرے اس کے اوپر روشن سورج چمک کر رہتاہے۔

یہ مادی نتائج کا حال ہے۔ مگر اخلاقی نتائج کے معاملہ میں دنیا کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ انسان نیکی کرتا ہے اور اس کو نیکی کا پھل نہیں ملتا۔ انسان سرکشی کرتا ہے مگر اس کی سرکشی اپنا نتیجہ دکھائے بغیر جاری رہتی ہے۔ خالق کی جو مرضی اس کی دوسری مخلوقات میں چل رہی ہے اس کی وہی مرضی انسان کے معاملات میں کیوں ظاہر نہیں ہوتی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں خدائی انصاف کے ظہور کو خدا نے بعد کو آنے والی دنیا کے ليے موخر کردیا ہے۔ پہلی زندگی انسان کو عمل کے لیے دی گئی ہے، دوسری زندگی اس کو اپنے عمل کا نتیجہ پانے کے لیے دی جائے گی۔ اور دوسری زندگی کا ظہور یقیناً اتنا ہی ممکن ہے جتنا پہلی زندگی کا ظہور۔

4

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے

کائنات میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں کا ظہور بیک وقت نہیں ہوا بلکہ تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک ہوا ہے۔ قرآن اس تدریجی تخلیق کو چھ ادوار (periods) میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ دَوری تخلیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کی پیدائش شعوری منصوبہ کے تحت ہوئی ہے۔ پھر کائنات کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا نظام حد درجہ محکم قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ ہر چیز ٹھیک اسی طرح عمل کرتی ہے جس طرح مجموعی تقاضے کے تحت اسے عمل کرنا چاہيے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا ایک زندہ مدبر ہے جو ہر لمحہ اس کا انتظام کررہا ہے۔

کائنات کا یہ حیران کن نظام خود ہی پکار رہاہے کہ اس کا مالک اتنا کامل اور اتنا عظیم ہے جس کے یہاں کسی سفارشی کی سفارش چلنے کا کوئی سوال نہیں۔ کائنات اپنی خصوصیات کے آئینہ میں اپنے خالق کی خصوصیات کو بتارہی ہے۔

ساری کائنات میں ’’قسط‘‘ کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ یہ ہورہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتاہے اسی کے مطابق نتیجہ اس کے سامنے آتاہے۔ ہر ایک کو وہی ملتاہے جو اس نے کیا تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جاتا ہے جس کے لیے اس نے نہیں کیا تھا۔ زمین کا جو حصہ رات کے اسباب جمع کرے وہاں تاریکی پھیل کر رہتی ہے اور زمین کا جو حصہ روشنی کے اسباب پیدا کرے اس کے اوپر روشن سورج چمک کر رہتاہے۔

یہ مادی نتائج کا حال ہے۔ مگر اخلاقی نتائج کے معاملہ میں دنیا کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ انسان نیکی کرتا ہے اور اس کو نیکی کا پھل نہیں ملتا۔ انسان سرکشی کرتا ہے مگر اس کی سرکشی اپنا نتیجہ دکھائے بغیر جاری رہتی ہے۔ خالق کی جو مرضی اس کی دوسری مخلوقات میں چل رہی ہے اس کی وہی مرضی انسان کے معاملات میں کیوں ظاہر نہیں ہوتی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں خدائی انصاف کے ظہور کو خدا نے بعد کو آنے والی دنیا کے ليے موخر کردیا ہے۔ پہلی زندگی انسان کو عمل کے لیے دی گئی ہے، دوسری زندگی اس کو اپنے عمل کا نتیجہ پانے کے لیے دی جائے گی۔ اور دوسری زندگی کا ظہور یقیناً اتنا ہی ممکن ہے جتنا پہلی زندگی کا ظہور۔

5

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءًۭ وَٱلْقَمَرَ نُورًۭا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

سورج ہماری زمین سے نہایت درست فاصلہ پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے لیے روشنی اور حرارت جیسی نعمتوں کا خزانہ بناہوا ہے۔ اگر اس انداز ہ میں فرق ہوجائے تو سورج ہمارے لیے سورج نہ رہے بلکہ آگ کي جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتاہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لیے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ یہ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہوسکتا۔

پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ یہاں حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا ہے۔ یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہواور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم ہو جائے۔

آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پاسکتے ہیں ،نہ کہ کسی اور روپ میں۔

خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہیے۔

زمین و آسمان میں اگر چہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لیے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈریا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا— پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتاہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے گا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔

6

إِنَّ فِى ٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَّقُونَ

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

سورج ہماری زمین سے نہایت درست فاصلہ پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے لیے روشنی اور حرارت جیسی نعمتوں کا خزانہ بناہوا ہے۔ اگر اس انداز ہ میں فرق ہوجائے تو سورج ہمارے لیے سورج نہ رہے بلکہ آگ کي جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتاہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لیے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ یہ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہوسکتا۔

پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ یہاں حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا ہے۔ یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہواور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم ہو جائے۔

آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پاسکتے ہیں ،نہ کہ کسی اور روپ میں۔

خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہیے۔

زمین و آسمان میں اگر چہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لیے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈریا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا— پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتاہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے گا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔

7

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔

’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔

اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔

آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

8

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔

’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔

اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔

آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

9

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔

’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔

اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔

آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

10

دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌۭ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔

’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔

اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔

آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.