Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 9 · Chapter 622

شکار کے مسائل

8. گوہ (ساہنہ) کے کھانے کا بیان

3 hadiths in this chapter

2054

Sunan Darmi #2054

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّبِّ، فَقَالَ: "لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔“

2055

Sunan Darmi #2055

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ: "أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سانڈا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک امت (تھی)، مسخ کر دی گئی، الله زیادہ جانتا ہے (وہ کون ہے)۔“

2056

Sunan Darmi #2056

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، فَقَدَّمَتْ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ. قُلْنَ: هَذَا الضَّبُّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَتُحَرِّمُ الضَّبَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ". قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَلَمْ يَنْهَنِي.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے (جو سیف الله (اللہ کی تلوار) کے لقب سے مشہور ہیں) خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، ام المومنین ان کی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ہیں، ان کے یہاں بھنا ہوا ضب (سانڈا یا گوہ) موجود تھا جو ان کی بہن سیدہ حفيده بنت الحارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں، انہوں نے وہ بھنا ضب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کی طرف اس وقت تک ہاتھ بڑھائیں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے کہ یہ فلاں قسم کا کھانا ہے، لیکن اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنے ہوئے ضب کی طرف ہاتھ بڑھایا اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو جو تم نے ان کے سامنے پیش کیا ہے، انہوں نے کہا: یہ ضب ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس بھنے ہوئے سانڈے سے ہٹا لیا، سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ اس کو حرام قرار دیتے ہیں؟ فرمایا: ”نہیں، لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں پایا جاتا ہے اس لئے طبیعت گوارہ نہیں کرتی ہے“، سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے کہا: لہٰذا میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور (خوب) کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے، مجھے منع (بھی) نہ کیا۔