Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 8 · Chapter 595

قربانی کے بیان میں

9. عقیقہ میں سنت طریقہ کا بیان

4 hadiths in this chapter

2005

Sunan Darmi #2005

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ: "عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کے بارے میں فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کفایت کرتی ہے۔“

2006

Sunan Darmi #2006

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کے ساتھ عقیقہ لگا ہوا ہے سو تم اس کی طرف سے جانور ذبح کرو، اور اس کی گندگی دور کرو۔“ (یعنی بال منڈاؤ اور ختنہ کراؤ اور غسل دو)۔

2007

Sunan Darmi #2007

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ، وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔“

2008

Sunan Darmi #2008

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ وَيُدَمَّى". وَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ، فَيَقُولُ: إِذَا ذُبِحَتْ الْعَقِيقَةُ، تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَيُسْتَقْبَلُ بِهَا أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ، ثُمَّ يُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ شَبَهُ الْخَيْطِ، غُسِلَ رَأْسُهُ، ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ. حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَيُسَمَّى. قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَلَا أُرَاهُ وَاجِبًا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقے میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کی جائے، اس کے بال مونڈے جائیں اور خون (اس کے سر پر) لگایا جائے۔“ راوی حدیث امام قتادہ رحمہ اللہ خون لگانے کا طریقہ اس طرح بتاتے تھے کہ جب جانور ذبح کیا جائے تو اس کے بالوں (اون) میں سے ایک ٹکڑا لیا جائے اور جانور کی رگوں پر رکھ دیا جائے، پھر وہ ٹکڑا نومولود بچے کی چندیا پر رکھ دیا جائے یہاں تک کہ دھاگوں کی طرح اس بچے کے سر سے خون بہنے لگے، پھر اس کا سر دھویا جائے، اس کے بعد بچے کے بال مونڈے جائیں۔ عفان نے کہا: ابان نے بھی ہم سے یہ حدیث بیان کی لیکن «دمي» کے بجائے «يسمي» کہا یعنی خون سے لتھیڑنے کے بجائے یہ کہا کہ اس کا نام رکھا جائے۔ (مطلب یہ کہ راوی سے اس کلمے میں سہو یا وہم ہو گیا ہے)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: خون سے سر کو لتھیڑنا میں واجب نہیں سمجھتا۔