Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 7 · Chapter 581

حج اور عمرہ کے بیان میں

86. اپنے شہر میں مقیم رہتے ہوئے قربانی کا جانور مکہ بھیجنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1974

Sunan Darmi #1974

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ رِجَالًا يَبْعَثُ أَحَدُهُمْ بِالْهَدْيِ مَعَ الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: إِذَا بَلَغْتَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، فَقَلِّدْهُ، فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ الْمَكَانَ، لَمْ يَزَلْ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ. قَالَ: فَسَمِعْتُ صَفْقَتَهَا بِيَدِهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، وَقَالَتْ:"لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِالْهَدْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ، مَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ".

اردو ترجمہ · Urdu

مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! مکہ جانے والے کے ساتھ کچھ لوگ قربانی کا جانور بھیجتے ہیں اور تاکید کر دیتے ہیں کہ جب فلاں مقام تک پہنچو تو اس کے گلے میں قلادہ ڈال دینا (تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہدی ہے)، پھر جب مکہ جانے والا اس مقام تک پہنچ جاتا ہے (اندازے کے مطابق) تو اس وقت سے بھیجنے والا احرام کی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ لوگ (قربانی کے بعد) احرام کھول دیں؟ میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھ بجانے کی آواز سنی، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے لئے ہار (قلادے) بٹتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہدی (قربانی کے جانور) کعبہ کی طرف بھیجتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سے وہ پرہیز نہیں کرتے تھے جو احرام والا کرتا ہے یہاں تک کہ لوگ واپس بھی آ جاتے۔

1975

Sunan Darmi #1975

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: "كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مُقَلَّدَةً، وَيُقِيمُ بِالْمَدِينَةِ وَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے لئے ہار (قلادے) بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہدیٰ (قربانی کے جانور) کو ہار پہنے ہوئے روانہ کرتے اور خود مدینہ ہی میں مقیم رہتے اور قربانی ہونے تک کسی چیز سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔ (یعنی جس طرح حاجی پرہیز کرتا ہے احرام کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پرہیز نہ کرتے تھے)۔