Sunan Darmi #1957
(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا: بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ؟. قَالَ:"بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَكَافِرٌ فِي الْحَجِّ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ، فَهِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ. يَقُولُ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ أَجَلُهُمْ عِشْرِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَاقْتُلُوهُمْ بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ".
اردو ترجمہ · Urdu
زید بن یثیع نے کہا: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پیغام لے کر بھیجا تھا؟ فرمایا: مجھے چار چیزیں دے کر بھیجا گیا۔ ایک یہ کہ جنت میں صرف ایمان والا نفس داخل ہو گا، دوسرے یہ کہ کوئی بھی ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے، تیسرے یہ کہ اس سال کے بعد حج میں کافر اور مسلمان جمع نہ ہوں گے، چوتھے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جس کے بیچ ایک وقت مقررہ تک صلح ہے تو اس کی صلح اسی مدت تک رہے گی، اور جس کی صلح میں کوئی مدت مقرر نہیں اس کو چار مہینے تک مہلت ہے، وہ کہتے ہیں کہ قربانی کے دن کے بعد انہیں بیس ذوالحجہ تک کی مہلت ہے اس کے بعد حکم تھا کہ چار مہینے کے بعد ان کو قتل کر ڈالو۔